Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / پالیرضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کی ریکارڈ کامیابی

پالیرضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کی ریکارڈ کامیابی

حکومت کی بہتر کارکردگی کو عوام کی منظوری: کے سی آر ، تلنگانہ بھون میں جشن

حیدرآباد۔ 19 مئی (سیاست نیوز) حکمراں ٹی آر ایس امیدوار ٹی ناگیشور راؤ نے توقع کے مطابق پالیر اسمبلی نشست کیلئے ہوئے ضمنی انتخابات میں 45,650 ووٹوں کی ریکارڈ اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ پالیر نشست پر 1972ء میں24,000 ووٹ کی اکثریت سے کامیابی کا ریکارڈ تھا۔ وزیر عمارات و شوارع ٹی ناگیشور راؤ نے 95,000 سے زائد ووٹ حاصل کئے، اور کانگریس امیدوار سوچریتا ریڈی کو 49,258 ووٹ حاصل ہوئے۔ آنجہانی رام ریڈی وینکٹ ریڈی کی اہلیہ کو تلگو دیشم اور بی جے پی کی بھی تائید حاصل تھی، لیکن حکمراں جماعت کے امیدوار کے مقابلے ہمدردی کی لہر کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آج ووٹوں کی گنتی کے آغاز سے ہی ٹی آر ایس امیدوار آگے تھے۔ ناگیشور راؤ نے بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی نے عوامی بہبود کے کاموں کیلئے ان کی ذمہ داری میں اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے رائے دہندگان سے اظہار تشکر کیا۔ صدر ٹی آر ایس و چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ضلع کھمم کے پالیرو اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کی کامیابی کو دو سالہ کارکردگی پر عوامی منظوری سے تعبیر کیا اور کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے دو برسوں میں جو کام کیا ہے اس پر پالیرو کے نتائج اس بات کا مظہر ہیں کہ عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور انہوں نے نتائج نے اس کا ثبوت دیا ہے۔ تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے پالیرو میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کو کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کیلئے آنکھیں کھولنے والی قرار دیا اور کہا کہ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کے باوجود عوام نے کانگریس کو سبق سکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں میں تمام ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام حکومت کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے اُصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر اخلاقی اتحاد کیا اور ٹی آر ایس کو شکست دینے کی کوشش کی

لیکن عوام نے ٹی آر ایس کو کامیابی عطا کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پالیرو کے نتائج دراصل حکومت کی بہتر کارکردگی کا ثبوت ہے اور کانگریس، بی جے پی، تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے جھوٹے پروپگنڈہ کو عوام نے مسترد کردیا۔ کے سی آر نے پالیرو کے نتیجہ کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہاکہ 2014 انتخابات میں ٹی آر ایس کو اس حلقہ سے صرف 4100ووٹ حاصل ہوئے تھے لیکن آج پارٹی کو 24 گنا زیادہ 95000 سے زائد ووٹ حاصل ہوئے ہیں اور پالیرو کی تاریخ میں یہ اب تک کی سب سے بڑی اکثریت ہے۔ سابق میں کسی بھی رکن اسمبلی کو اس حلقہ سے 45ہزار سے زائد کی اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ سابق میں سب سے زیادہ اکثریت اس حلقہ سے 25ہزار ووٹوں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس حلقہ میں کامیابی سے ٹی آر ایس کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور حکومت عوام کی خدمت کے عہد کے ساتھ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے منہمک ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بھلائی کے سلسلہ میں اس نتیجہ نے حکومت اور پارٹی کی ذمہ داری مزید بڑھا دی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پالیرو اور نارائن کھیڑ حلقوں سے ٹی آر ایس کی کامیابی اس اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے کہ وہاں کانگریس کے ارکان اسمبلی کے انتخاب کے سبب ضمنی چناؤ ہوا۔ پارٹی کے حق میں ہمدردی کی لہر کے باوجود عوام نے ٹی آر ایس کا ساتھ دیا ہے جو حکومت کی غیر معمولی تائید ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ مسلسل شکست کو دیکھتے ہوئے اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں اور تعمیری تجاویز کے ساتھ ریاست کی ترقی میں تعاون کرے۔ چیف منسٹر نے کانگریس کی جانب سے حکومت پر ’’ حملہ ‘‘ کرنے کے اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ جمہوریت میں عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے جدوجہد غلط بات نہیں ہے لیکن حکومت پر حملہ کرنا مناسب نہیں۔

TOPPOPULARRECENT