Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / پالیر میں ٹی آر ایس کو شکست پر وزارت سے استعفی : کے ٹی آر کا اعلان

پالیر میں ٹی آر ایس کو شکست پر وزارت سے استعفی : کے ٹی آر کا اعلان

کانگریس امیدوار کی شکست پر عہدہ چھوڑ دینے صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کو بھی ریاستی وزیر آئی ٹی کا چیلنج
حیدرآباد 8 مئی ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و صنعت مسٹر کے ٹی راما راؤ نے آج سنسنی خیز ریمارک کیا کہ اگر تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو کھمم ضلع میں پالیر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں شکست ہوتی ہے تو وہ ( کے ٹی آر ) وزارتی عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں گے ۔ پالیر میں 16 مئی کو رائے دہی ہونے والی ہے ۔ تاہم مسٹر راما راؤ نے صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کو بھی چیلنج کیا کہ اگر پالیر ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار کو شکست ہوگئی تو وہ ( اتم کمار ریڈی ) صدر پردیش کانگریس کے عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں ۔ پالیر حلقہ میں پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران کے ٹی راما راؤ نے کانگریس صدر سے کہا کہ اگر ان کی پارٹی کے امیدوار کو پالیر میں شکست ہوجاتی ہے تو وہ تلنگاہن کانگریس صدر کے عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ پالیر میں اگر ٹی آر ایس امیدوار کو شکست ہوجاتی ہے تو وہ بھی وزارتی عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں گے ۔ پالیر اسمبلی حلقہ سے ٹی آر ایس نے ریاستی وزیر ٹی ناگیشور راؤ کو امیدوار نامزد کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے صدر پردیش کانگریس سے سوال کیا کہ آیا کانگریس امیدوار سچاریتا ریڈی کو شکست ہوتی ہے تو کیا اتم کمار ریڈی بھی اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں گے ؟ ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس اب ریاست میں ہونے والے ہر انتخابات میں شکست کی عادی ہوچکی ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ انتخابی مہم کے دوران ہی کانگریس پارٹی شکست کی صورت میں پیش کئے جانے والے عذر کی تلاش میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی انتخابات میں شکست کی علامت بن گئی ہے اور وہ ہمدردی کی لہر کے نام پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پالیر میں کوئی ہمدردی کی لہر نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کے پاس نہ اخلاقی اقدار ہیں اور نہ ہی کوئی ذمہ داری ہے وہ محض اندھے پن میں انتخابات میں مقابلہ کر رہی ہے ۔

انہوںنے دعوی کیا کہ ٹی آر ایس امیدوار ٹی ناگیشور راؤ اگر انتخابات میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ نہ صرف پالیر حلقہ اسمبلی کی بلکہ سارے ضلع کھمم کی ترقی کیلئے اقدامات کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل تھا ہر طبقہ پریشانیوں کا شکار تھا ۔ کسانوں نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا تھا ۔ انہیں نہ کھاد دستیاب تھی ‘ نہ بیج مل رہے تھے اور نہ برقی سربراہ کی جا رہی تھی ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ریاست میں ٹی آر ایس حکومت کے قائم ہونے کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں ریاست میں زبردست تبدیلی آئی ہے اور انتہائی مختصر وقفہ میں برقی کے بحران پر قابو پالیا گیا ہے ۔ کھادوں اور بیجوں کا وافر ذخیرہ بھی دستیاب ہے اور کسانوں کے حالات بھی بہتر ہو رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے ادعا کیا کہ کانگریس قائدین ہمدردی کے نام پر زیادتیاں کر رہے ہیں جبکہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی برسر اقتدار رہتے ہوئے بھی اقتدار کا بیجا استعمال نہیں کر رہی ہے ۔ ان کی پارٹی پرامن انداز میںمہم چلا رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس قائدین دوسری جماعتوں کے کارکنوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT