Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / پامیرا میں دولت اسلامیہ پر زبردست دباؤ

پامیرا میں دولت اسلامیہ پر زبردست دباؤ

شہر پر دوبارہ قبضہ، تاریخی یادگاروں کی ازسرنو تعمیر کا عہد

دمشق 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شام کی فوج آج قدیم شہر پالمیرا میں داخل ہوگئی جبکہ عراقی افواج نے موصل پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجہ میں دولت اسلامیہ کے مستحکم گڑھ سمجھے جانے والے دو شہروں میں دولت اسلامیہ پر دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری دریں اثناء روس سے بات چیت کررہے ہیں تاکہ شام میں امن کی کوششوں میں پیشرفت ہوسکے۔ دولت اسلامیہ نے شام سے ہی مغربی ممالک پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔ جاریہ ہفتہ بروسیلز میں بم حملوں کا بھی یہیں سے اعلان کیا گیا تھا۔ روس کے لڑاکا طیاروں کی تائید اور حلیف نیم فوجی زمینی تنظیم کی کارروائی کے ذریعہ شام کی فوج نے آج پامیرا میں پیشرفت کی اور ریگستان میں جارحانہ کارروائی جاریہ ماہ کے اوائل میں شروع کی گئی تھی۔ شامی رسد گاہ برائے انسانی حقوق نے کہاکہ دولت اسلامیہ پر پامیرا میں حملہ کردیا گیا ہے۔ اِس شہر کو ’’ریگستان کا موتی‘‘ کہا جاتا تھا۔ گزشتہ مئی میں دولت اسلامیہ نے اِس شہر پر قبضہ کرلیا تھا اور یونیسکو کی فہرست میں شامل مندروں کو دھماکے سے اُڑادیا تھا۔ آثار قدیمہ لوٹ لئے گئے جو ہزاروں سال پرانے تھے۔ سرکاری افواج ہیئی الغرف میں داخل ہوگئیں

جو پامیرا کے جنوب مغرب میں پڑوسی شہر ہے۔ اُن کی سست رفتار پیشرفت شروع ہوئی کیوں کہ دولت اسلامیہ نے اس علاقہ میں زمینی سرنگیں نصب کر رکھی ہیں۔ شامی فوج کے ایک ذریعہ نے پیشرفت کی توثیق کرتے ہوئے کہاکہ فوج شمال مغرب میں داخل ہوکر تاریخی گنبدوں کی وادی پر قبضہ کرچکی ہے۔ جھڑپیں جاری ہیں اور انتہائی خوفناک ہیں۔ شام کے محکمہ آثار قدیمہ کے صدر مامون عبدالکریم نے پامیرا پر دوبارہ قبضہ کی ستائش کرتے ہوئے اِسے ایک نمایاں کامیابی قرار دیا اور عہد کیاکہ جہادیوں نے جن تاریخی یادگاروں کو تباہ کردیا تھا اُنھیں ازسرنو تعمیر کیا جائے گا۔ قیارہ اور مخمور کے درمیان دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ دیہاتوں پر حکومت کا قبضہ بحال کردیا گیا۔ عراقی فوج نے موصل کا محاصرہ کرلیا۔ موصل کو بھی دولت اسلامیہ اپنا مستحکم گڑھ سمجھتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT