Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / پانچ ریاستوں میں آج ووٹوں کی گنتی، سخت ترین سیکوریٹی

پانچ ریاستوں میں آج ووٹوں کی گنتی، سخت ترین سیکوریٹی

اترپردیش اور گوا میں بی جے پی کو معمولی برتری کے باوجود معلق اسمبلیوں کی پیش قیاسی

نئی دہلی ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ملک کی پانچ ریاستوں میں منعقدہ اسمبلی انتخابات کے بعد کل ہفتہ کو سخت ترین سیکوریٹی انتظامات کے درمیان ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ اترپردیش میں سخت مقابلہ ہوا تھا اور اس ریاست کے نتائج ملک کے نئے سیاسی منظرکے تعین کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے اور انہیں بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت اور ان کے اصلاحات کے ایجنڈہ پر ریفرنڈم تصور کیا جارہا ہے۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کو امید ہیکہ وہ بی جے پی کی پیشقدمی کو روک دیں گے۔ قبل ازیں بہار اور دہلی میں بی جے پی کو شکست ہوچکی ہے۔ اس طرح دو نئی حلیف جماعتوں ایس پی اور کانگریس اب یہ توقع کررہے ہیں کہ اترپردیش میں بھی بی جے پی کو شکست دیتے ہوئے 2019ء کے عام انتخابات کیلئے اپوزیشن اتحاد کی قیادت کریں گے۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہیکہ پنجاب میں وہ اکالی دل۔ بی جے پی اتحاد سے اقتدار چھین لے گی نیز اتراکھنڈ اور منی پور میں اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گی۔ دہلی تک محدود نووارد سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کیلئے بھی یہ انتخابات نمایاں اہمیت کے حامل ہیں جو پہلی مرتبہ دہلی کے باہر منعقدہ اسمبلی کے انتخابات میں اپنی پہلی کامیابی کی امیدیں وابستہ کی ہے۔ بالخصوص پنجاب اور گوا میں عام آدمی پارٹی (عآپ) غیرمعمولی جوش و جذبہ کے ساتھ مقابلہ کی ہے۔ ان پانچ ریاستوں میں 11 مارچ ہفتہ کو صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی۔سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

ایگزٹ پول نے اترپردیش اور گوا  میں معلق اسمبلی کی پیش قیاسی کی ہے۔ جہاں بی جے پی اگرچہ واحد سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھرے گی۔ پنجاب میں کانگریس کے ساتھ حکمراں اتحاد کے سخت مقابلہ کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ کانگریس اس سرحدی ریاست میں 10 سالہ وقفہ کے بعد اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائی ہے۔ دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی (عآپ) نے بھی کامیابی کیلئے سخت جدوجہد کی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ پنجاب میں فی الحال برسراقتدار شرومنی اکالی دل، بی جے پی اتحاد کو بری طرح شکست ہوسکتی ہے۔ ایگزٹ پول نے اتراکھنڈ میں بی جے پی کی کامیابی کی پیش قیاسی کی ہے۔ بالخصوص اترپردیش میں بی جے پی کا بہتر مظاہرہ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے ایجنڈہ کی عوام میں مقبولیت کی توثیق تصور کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی گرفت مزید مضبوط ہوگی۔ ایگزٹ پول میں اپنے لئے زیادہ حوصلہ افزاء ردعمل نہ ملنے کے باوجود کانگریس نے جرأتمندانہ موقف اختیار کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ انہیں (کانگریس کو) تمام پانچ ریاستوں میں کامیابی ہوگی۔

ایس پی ۔ کانگریس اتحاد اور بی جے پی کو فتح کا یقین
نئی دہلی ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایس پی۔ کانگریس اتحاد اور بی جے پی کے قائدین نے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اپنی متعلقہ پارٹیوں کی کامیابی کا یقین ظاہر کیا ہے، جس سے ایک دن قبل جاری کردہ ایگزٹ پول میں زعفرانی جماعت (بی جے پی) کو اس کے حریفوں پر معمولی برتری دکھائی گئی تھی۔ بی جے پی قائدین نے دعویٰ کیا ہیکہ 403 رکنی یوپی اسمبلی میں ان کی پارٹی کو ’’دوتہائی اکثریت‘‘ حاصل ہوگی لیکن ایس پی نے ایگزٹ پول کو غلط بتانے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں اثرورسوخ سے متاثرہ اور نامعقول قرار دیا ہے۔
کانگریس نے ایگزٹ پول کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کل کے نتائج اس کے حق میں رہیں گے ۔

بی جے پی کے ایک لیڈر اوم ماتھر نے پارلیمنٹ ہاؤز پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’سرویز میں بتایا گیا ہیکہ بی جے پی کو فتح ہوگی۔

اترپردیش میں ہمیں دوتہائی اکثریت حاصل ہوگی۔ کل تک انتظار کیجئے‘‘۔ بی ایس پی کے ساتھ مابعد انتخابات مفاہمت سے متعلق ایس پی سربراہ اکھیلیش یادو کے ریمارک پر تبصرہ کی خواہش کے جواب میں اس ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایس پی۔ کانگریس اتحاد پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کرچکا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT