Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات

پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات

حالات ہی ایسے ہیں کہ اِس راہ گذر میں
رہزن تو بہت ملتے ہیں رہبر نہیں ملتا
پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات
آسام ، مغربی بنگال، ٹاملناڈو، کیرالا اور پوڈوچری میں 4 اپریل سے 16 مئی کے درمیان مرحلہ وار اسمبلی انتخابات کیلئے رائے دہی ہوگی۔ ان تمام ریاستوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی سب سے کٹر حریف پارٹی کانگریس کی حکومتیں رہی ہیں۔ اب یہاں بعض ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کو اقتدار حاصل ہے۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اگر وزیراعظم مودی کیلئے اہم سمجھے جارہے ہیں تو بی جے پی اور اس کی سرپرست زعفرانی تنظیم آر ایس ایس ان ریاستوں میں اپنا فرقہ وارانہ کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ بی جے پی کو راجیہ سبھا میں مضبوط موقف حاصل ہوجائے۔ راجیہ سبھا ہی واحد مقام ہے جہاں بی جے پی کو ناکامی ہورہی ہے۔ مودی اپنی پالیسیوں کو من مانی طریقوں سے عوام پر مسلط کرنے میں محض راجیہ سبھا کی وجہ سے ناکام ہورہے ہیں۔ معاشی سطح پر ہندوستان کی صورتحال سے عوام باخبر ہیں۔ حالیہ مرکزی بجٹ نے عوام کو یہ تو بتادیا ہیکہ ان پر ٹیکسوں کے حوالے سے گمراہ رکھا گیا ہے۔ اصل میں ملک کا معاشی ڈھانچہ تشویشناک ہوتا جارہا ہے۔ لوک سبھا میں اکثریت رکھنے والی حکمراں پارٹی بی جے پی کو راجیہ سبھا میں اکثریت کے حصول کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہے اور پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے ذریعہ ہی وہ راجیہ سبھا میں اپنے کمزور موقف کو مضبوط بناسکے گی۔ راجیہ سبھا میں اہم بلوں کی منظوری روکے جانے کی شکایت کے ساتھ بی جے پی اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرے گی۔ ان پانچ ریاستوں میں بی جے پی کی کارکردگی کو اگر مرکز کی مودی حکومت کیلئے ریفرنڈم سمجھا جائے تو آئندہ لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کا سیاسی اثر داؤ پر لگ جائے گا۔ مرکز کی مودی حکومت اس وقت سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہورہی ہے۔ ہر پارٹی حکمراں جماعت کے خلاف محاذ آراء ہے۔ لوک سبھا میں اصل اپوزیشن کانگریس سے لیکر تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں نے مودی حکومت کی پالیسیوں اور ملک کی یونیورسٹیوں اور طلباء برادری کے خلاف انتقامی کاررائیوں کا سوال اٹھایا ہے۔ اچھے دن آنے، اندھیرے مٹانے کے وعدے کہاں گئے یہ سوال اٹھ رہا ہے۔ ہر ریاست میں رائے دہندہ کا المیہ یہ ہیکہ وہ آسمان سے گرتے ہیں تو کجھور میں اٹک جاتے ہیں۔ کھائی سے نکلتے ہیں تو کنویں میں گر جاتے ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، نت نئی پارٹیاں اور سیاستداں کرسی اقتدار پر جلوہ افروز ہوتے رہتے ہیں لیکن نہیں تبدیل ہوتی تو ان رائے دہندوں کی قسمت۔ یہ رائے دہندے جب ایک پارٹی سے اکتا جاتے ہیں تو دوسری پارٹی پر یقین کرلیتے ہیں۔ جب اس کی کارکردگی دیکھتے ہیں تو یہ پکار اٹھتے ہیں۔ جس طرح آج پارلیمنٹ میں شور ہورہا ہے۔ یہ عوام کی ترجمانی ہی ہے۔ تحفظات کیلئے جاٹ طبقہ اٹھ کھڑا ہوا پھر یونیورسٹیوں میں طلباء برادری نے حکومت کو للکارا ہے۔ بی جے پی کو یہ زعم ہے کہ وہ قوم پرست جماعت ہے لہٰذا عوام اس کو ووٹ دیں۔ پانچ ریاستوں ٹاملناڈو، آسام، کیرالا، مغربی بنگال اور پوڈوچری کے عوام کو بھی یہ ترغیب دی جائے گی کہ موجودہ حکومتیں بدل کر نئی حکومت بنائی جائے۔ لہٰذا عوام خاص کر آسام کے لوگوں کو موجودہ کانگریس کی حکومت تبدیل کرنے کی فکر لاحق ہے۔ یہاں کانگریس کی کارکردگی نے عوام کو مایوس کردیا ہے۔ بی جے پی کو آسام کے رائے دہندوں سے امید ہے اور انتخابات میں کامیابی کا بھی یقین کرلیا ہے۔ آسام کے بعد دیگر چار ریاستوں میں خاص کر ٹاملناڈو میں بی جے پی کی لہر نہیں ہے۔ تجزیہ نگاروں کے بموجب یہاں حکمراں پارٹی انا ڈی ایم کے سربراہ جیہ للیتا ہی آئندہ بھی چیف منسٹر ہوں گی۔ اگرچیکہ قومی سطح پر نریندر مودی کو مقبولیت ہنوز برقرار ہے مگر ان کا سحر اور جادو چار ریاستوں میں کس حد تک کامیاب ہوگا یہ نتائج ہی بتائیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی کو دیہی ہندوستان کے عوام کی نبض کو ٹٹولنے میں کامیابی ملتی ہے تو وہ اس مرتبہ بھی بازی مار لیں گے۔ بجٹ میں زرعی شعبہ کو زیادہ سے زیادہ فنڈس مختص کرنے کی اصل وجہ بھی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہوسکتی ہے۔ گذشتہ سال بہار کے اسمبلی انتخابات میں بدترین شکست کا زخم لیکر بی جے پی پانچ ریاستوں میں مقابلہ کرے گی۔ آسام ہی ایک ایسی ریاست ہے جہاں مودی کے سیاسی اثر کا امتحان ہوگا۔ دیگر ریاستوں خاص کر مغربی بنگال اور کیرالا میں بی جے پی کے کوئی امکانات نہیں ہیں کیونکہ مودی نے تنخواہ یاب ملازمین کو پی ایف ٹیکس کٹوتی کے بجٹ فیصلہ کے ذریعہ ناراض کردیا ہے۔ تنخواہ یاب ملازمین بی جے پی کو سبق ضرور سکھائیں گے۔ مودی حکومت کے ڈیولپمنٹ ایجنڈہ کو بھی عوام نے پرکھا ہے۔ جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں وہاں کے ترقیاتی کاموں کیلئے علاقائی پارٹیاں اصل دعویدار ہیں۔ اس لئے بی جے پی کو اب اپنی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگرچیکہ اس نے ملک کو فرقہ پرست نظریہ کا شکار بنانے کی پالیسیاں تیار کی ہیں مگر سیاسی بازیگری میں دیگر علاقائی پارٹیاں بھی اپنا ہنر رکھتی ہیں۔
پی ڈی پی۔ بی جے پی اتحاد
جموں و کشمیر میں حکومت کی تشکیل کیلئے دو ماہ تک خاموش رہنے کے بعد پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بی جے پی سے اتحاد کے احیاء کا اشارہ دے کر وادی کشمیر میں اپنی مستقبل کی سیاسی ساکھ کو داؤ پر لگانے کی پرواہ نہیں کی۔ کشمیری عوام کی فلاح و بہبود کے بہانے بی جے پی سے اتحاد کے ذریعہ اپنی سیاسی آرزوؤں کو پروان چڑھانا مقصد ہے تو یہ کشمیری عوام کیلئے افسوسناک تبدیلی ہے۔ موجودہ حالات میں لوگ ان قوتوں کا ساتھ دیں گے جو ان کی ترقی و خوشحالی کیلئے حقیقی کام انجام دیں گے۔ محبوبہ مفتی نے بی جے پی سے اتحاد کو کشمیری عوام کی خاطر آگے بڑھانے پر غور کیا ہے تو ریاستی سرکاری خزانے کو بھرنے کیلئے مرکز کی حکومت کا ساتھ ہونے کی بھی مجبوری ظاہر کی ہے۔ وہ کشمیری عوام کیلئے مرکزی حکومت کے دل کو ٹٹولنا چاہتی ہیں۔ یہ ان کی خوش فہمی ہے۔ وقت آنے پر سب کچھ بدل سکتا ہے۔ محبوبہ مفتی جن کے 87 رکنی جموں و کشمیر اسمبلی میں 27 ارکان اسمبلی ہیں۔ یہ تمام ارکان کشمیر اور جموں خطوں میں امن لانے کی خاطر بی جے پی سے اتحاد کو ترجیح دیتے ہیں تو مرکز کی حکومت کو کشمیری عوام کے خواہشات کی تکمیل کیلئے کچھ ٹھوس اقدامات کرنے کی اب تک توفیق نہیں ہوئی۔ اس اہم سوال کو پس منظر میں چھوڑ کر محبوبہ مفتی اپنے والد کے فیصلہ کے احترام میں بی جے پی سے ہاتھ ملانے کا ارادہ کررہی ہیں تو پھر انہوں نے گذشتہ دو ماہ تک وادی کشمیر کی سیاسی صورتحال کو معلق کیوں رکھا۔

TOPPOPULARRECENT