Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / پانچ ہمالیائی ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ساتھ ہفتہ کو مرکز کا اجلاس

پانچ ہمالیائی ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ساتھ ہفتہ کو مرکز کا اجلاس

چین سے ملنے والی سرحد کے علاقہ میں سڑکوں اور برجس کی تعمیر اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری پر توجہ ‘ راج ناتھ سنگھ صدارت کریں گے

نئی دہلی 18 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ہفتہ کو گنگٹوک میں پانچ ہمالیائی ریاستوں کے چیف منسٹروں کے ساتھ ایک روزہ اجلاس منعقد کریں گے ۔ اس اجلاس میں 3,488 کیلومیٹر طویل ہند ۔ چین سرحد کے علاقہ میں سڑکوں ‘ برجس وغیرہ کی تعمیر اور دوسرے انفرا اسٹرکچر کی فراہمی جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائیگا ۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جبکہ چند دن قبل ہی ہندوستان نے چین کی سلک روڈ پراجیکٹ one belt , one road کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ یہ اجلاس بیجنگ میں منعقد ہوا تھا ۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور چین کے مابین دلائی لاما کے دورہ ارونا چل پردیش کے مسئلہ پر بھی سفارتی ٹکراؤ ہوا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ جموںو کشمیر ‘ ہماچل پردیش ‘ اترکھنڈ ‘ سکم اور اروناچل پردیش کے وزرائے اعلی محبوبہ مفتی ‘ ویر بھدرا سنگھ ‘ ترویندرا سنگھ راوت ‘ پون کمار چاملنگ اور پیما کھنڈدو اس اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اس اجلاس میں ہند ۔ چین سرحد کے علاقہ میں سڑکوں کی تعمیر کے مسئلہ پر تبادلہ خیال ہوگا ۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں انفرا اسٹرکچر کے فقدان اور دوسرے دیگر اہمیت کے حامل مسائل پر بھی چیف منسٹروں کے ساتھ مرکزی وزیر داخلہ تبادلہ خیال کرینگے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ چین نے ہندوستان کے ساتھ ملنے والے سرحدی علاقوں میں سڑکیں ‘ برجس ‘ ریلوے نیٹ ورکس اور ائرپورٹس وغیرہ تعمیر کرتے ہوئے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا ہے ۔ ہندوستان اور چین کے مابین سرحد 3,488  کیلومیٹر طویل ہے جو جموں کشمیر ‘ ہماچل پردیش ‘ اترکھنڈ ‘ سکم اور اروناچل پردیش سے ہوکر گذرتی ہے ۔ جموں و کشمیر میں چین کے ساتھ ملنے والی سرحد کی طوالت 1,597 کیلومیٹر ہے ‘ ہماچل پردیش میں 200 کیلومیٹر ہے ‘ اترکھنڈ میں 345 کیلومیٹر ہے ‘ سکم میں 220 کیلومیٹر ہے

اور اروناچل پردیش میں 1,126 کیلومیٹر ہے ۔ اس سرحد کی مکمل نشاندہی نہیں کی گئی ہے اور لائین آف کنٹرول کی توثیق اور تصدیق کا عمل زیر دوران ہے ۔ کئی سرحدی علاقہ بلندیوں پر بھی واقع ہیں اور وہاں ترقیاتی اور انفرا اسٹرکچر سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ انڈو تبت بارڈر فورس کی جانب سے اس سرحد کی پاسبانی کی جاتی ہے اور اس کی جانب سے اب تک 173 سرحدی آوٹ پوسٹس قائم کئے گئے ہیں۔ ان بارڈر پوسٹس میں 35 بارڈر پوسٹس جموں و کشمیر میں مغربی سیکٹر میں واقع ہیں جبکہ 71 بارڈر پوسٹس ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش کے وسطی سیکٹر میں ہیں۔ مابقی 67 بارڈر پوسٹس سکم اور اروناچل پردیش میں مشرقی سیکٹر میں واقع ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے آپریشنل اہمیت کی حامل جملہ 73 سڑوکوں کی ان علاقوں میں تعمیر کی جا رہی ہے ۔ ان 73 سڑکوں میں 27 سڑکیں وزارت داخلہ کی جانب سے جموں و کشمیر ‘ ہمناچل پردیش ‘ اترکھنڈ ‘ سکم اور اروناچل پردیش میں تعمیر کی جا رہیا ہیں جن کی لمبائی 804.93  کیلومیٹر کی ہے ۔ ان سڑکوں کی تعمیر پر جملہ 1,937 کروڑ روپئے کے اخراجات آ رہے ہیں۔ جاریہ سال 30 اپریل تک 672.46 کیلومیٹر طویل سڑکوں کا کام مکمل ہوگیا تھا جن میں 409.53 کیومیٹر علاقہ کی سرفیسنگ وغیرہ بھی شامل تھی ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ان تمام ریاستوں کے سرحدی علاقوں میں مزید ترقیاتی اقدامات اور انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے اقدامات پر اس اجلاس میں غور ہوگا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT