Monday , August 21 2017
Home / مضامین / ’’پانی‘‘ اسرائیل کا نیا ہتھیار

’’پانی‘‘ اسرائیل کا نیا ہتھیار

رمزی باروت
بانی فلسطینی ڈاٹ کام
مغربی کنارہ کے تمام طبقات کی پانی تک رسائی نہیں ہے۔ انہیں سربراہ کئے جانے والے مقدارکی نصف تخفیف کردی گئی ہے۔ یہ پریشان کن تبدیلی کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ اسرائیل کی قومی آبی کمپنی میکوروت نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ تخفیف کی جائے۔ جین ، سفیت اور کئی دیگر دیہاتوںکو جو نبلوس کے مضافات میں واقع ہیں، پانی کی سربراہی میں نصف کی حد تک کمی کردی گئی ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف آبی جنگ چھیڑدی ہے ۔ وزیراعظم فلسطینی اتھاریٹی رامی حمداللہ کے بموجب اتفاق کی بات یہ ہے کہ میکوروت جو پانی سربراہ کرتاہے وہ مغربی کنارہ سے جو ایک فلسطینی شہر ہے، حاصل اور استعمال کیا جاتا ہے ۔ فلسطینی خود اپنے پانی کے ذخیرہ کو اونچی قیمتوں میں فروخت کر رہے ہیں ۔ بیک وقت پانی کی سربراہی کا سلسلہ منقطع کر کے اسرائیلی عہدیدار منصوبہ بندی کر رہے ہیںکہ یہ ضروری استعمال کی شئے فلسطینیوںکو سربراہ نہ کی جائے۔ اسرائیل ایک بار پھر پانی کو اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، مجھے ابھی یاد ہے کہ میرے والدین نے اس وقت آواز اٹھائی تھی جبکہ انہیں اندیشہ ہوگیا تھاکہ پانی کی سربراہی انتہائی کم مقدار میں کی جارہی ہے۔ یہ ہمارے گھر میں روزانہ گفتگو کا موضوع تھا ۔ جب بھی سنگباری کرنے والے بچوں اور اسرائیلی قبضہ گیر طاقتوں کے درمیان ایک پناہ گزین کیمپ کے اطراف کے علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں ، ہم فوری چند بکٹ پانی اور چند بوتلیں پانی حاصل کرنے کیلئے وہاں پہنچ جاتے تھے کیونکہ گھر کے اطراف پانی پھینکا جاتا تھا۔ جب پہلی بار فلسطینی انتفاضہ شروع ہوا، یہی صورتحال تھی۔ جب بھی جھڑپیں ہوئیں ۔ 1957 ء میں پورے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انتفاضہ کا آغاز ہوا تھا ۔ جب بھی جھڑپیں ہوتیں، پہلا اقدام اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے یہی کیا جاتا تھا کہ اسرائیل کی مقبوضہ فوج کو پانی سربراہ کیا جاتا تھا اور پوری آبادی کو اجتماعی سزا دی جاتی تھی ۔ جب بھی کوئی فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں مقیم افراد بغاوت کرتے ، انہیں اجتماعی طور پر سزا کا مستحق قرار دیا جاتا تھا ۔

اسرائیلی فوج نے پہلی بار بے حسی کا مظاہرہ کیا ۔ حالانکہ اس کا رویہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ انتقامی ہوتاجارہا تھا۔ فوج نے سختی سے کرفیو نافذ کردیا تھا ، یعنی برقی اور آبی سربراہی کا سلسلہ منقطع کردیا گیا تھا حالانکہ یہ اقدامات اجتماعی سزا کا پہلا مرحلہ تھا لیکن کئی دن یا ہفتوں تک بلکہ بعض اوقات مہینوں تک جاری رہتے تھے جس کی وجہ سے بعض پناہ گزین کیمپوں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہوجاتی تھی۔ چنانچہ پانی سب سے بڑی فکرمندی بن جاتی ہے جبکہ پانی کی سربراہی کا سلسلہ منقطع کردیا جائے اور دستیاب پانی کا ذخیرہ ختم ہوجائے۔ فلسطینیوں کے پاس سلواۃ الاستسقاء کے سوائے کوئی اور راستہ باقی نہیں رہ جاتا۔ بارش کیلئے یہ دعا راسخ العقیدہ مسلمانوں کے مطابق قحط دور کرنے کیلئے برسات برسانے کیلئے کی جاتی ہے۔ پناہ گزین کیمپ میں بڑے بڈھے پرزور انداز میں کہا کرتے تھے کہ یہ ایک موثر ذریعہ ہے۔ وہ گزشتہ دنوں میں سنگباری کے واقعات کے بعد پانی کی سربراہی بند کردینے اور فلسطینیوں کی جانب سے استسقاء کی نماز ادا کردینے کا حوالہ دیتے تھے، جس کے بعد ہمیشہ بارش ہوا کرتی تھی ۔
درحقیقت زیادہ سے زیادہ فلسطینی 1967 ء سے بارش کیلئے یہ نماز ادا کرتے اور دعا کرتے آرہے ہیں۔ اس سال تقریباً 49 سال قبل اسرائیل نے مغربی کنارہ کے تاریخی فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم پر قبضہ کرلیا تھا۔ غزہ پٹی پر بھی اسرائیل کا قبضہ ہوگیا تھا۔ ان تمام برسوں میں اسرائیل نے اجتماعی سزا کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی  جس کا مطلب ہر قسم کی آزادی کو محدود کردینے کی پالیسی تھی۔ پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا ۔

درحقیقت پانی کو باغی فلسطینیوںکو کچلنے کیلئے ان کی جدوجہد کے کئی مراحل کے دوران استعمال کیا جارہا تھا ۔ 1948 ء کی جنگ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے جبکہ صیہونی نیم فوجی تنظیموں نے پورے فلسطینی دیہاتوں کو یروشلم کے اطراف و اکناف پانی کی سربراہی منقطع کردی تھی تاکہ اس علاقہ میں نسل کشی کی جاسکے۔
نکبہ (1948 ء کی آفت) کے دوران جبکہ ایک دیہات یا قصبہ فتح کیا جاتا تو نیم فوجی تنظیمیں فوری طور پر اس کی دیواریں منہدم کردیتے تاکہ شہریوں کو واپس آنے سے روکا جاسکے۔ ناجائز یہودی نوآبادکار اب بھی اسی پالیسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج بھی اسی پر عمل پیرا ہے۔ نمایاں بات یہ ہے کہ پہلی اور دوسری جدوجہد آزادی میں اسرائیلی طیاروں نے پانی کی سربراہی پر شلباری کی۔ کسی بھی پناہ گزین کیمپ پر منصوبہ بناکر وہ بمباری کیا کرتے تھے تاکہ بغاوت کو کچلا جاسکے ۔یروشلم کے پناہ گزین کیمپ میں دراندازی اور اپریل 2002 ء کے قتل عام کے دوران بھی کیمپ کو پانی کی سربراہی کے پائپ دھماکہ سے اڑادیئے گئے تھے ۔ اس کے بعد ہر سمت سے فوجی کیمپ میں زبردستی گھس آئے تھے ۔ سینکڑوں افراد کو قتل اور سینکڑوں دیگر کو زخمی کردیا تھا ۔ غزہ سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا ۔ پانی سے متعلق اجتماعی سزا کے اعتبار سے آج کی تاریخ تک غزہ کا علاقہ بدترین متاثرہ علاقہ ہے۔ پانی کی سربراہی کو نہ صرف جنگ کے دنوں میں اجتماعی سزا کے طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ پانی صاف کرنے کے کارخانوں پر بھی حملے کئے جاتے ہیں ، اکثر انہیں دھماکہ سے اڑادیا جاتا ہے اور 10 سالہ ناکہ بندی ختم ہونے تک اس بات کی بہت کم امید ہے کہ اس کا کوئی موثر حل برآمد ہوگا۔

اوسلو معاہدہ کے بارے میں ہر شخص واقف ہے کہ یہ فلسطینیوں کیلئے ایک سیاسی آفت ہے۔ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ اوسلو معاہدہ کی وجہ سے ہی مغربی کنارہ میں عدم مساوات کا سلسلہ جاری ہے ۔ اوسلو دوم یا اسرائیل ۔ فلسطین عبوری معاہدہ 1995 کے بعد پورا مغربی کنارہ بلکہ غزہ پٹی بھی اپنی سرحدات کے اندر خود اپنے ذخائر آب قائم کرنے پر مجبور ہوگئی ۔ بار بار محاصروں اور جنگوں کی وجہ سے غزہ کے عوام 5 تا 10 فیصد پینے کے معیاری پانی سے محروم ہوگئے چنانچہ غزہ کے بیشتر شہری ڈرینج سے آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ مغربی کنارہ میں نظریاتی اعتبار سے غزہ سے زیادہ پانی دستیاب ہوتا ہے ، اس کے باوجود اس علاقہ میں پانی کی قلت ہے۔ مغربی کنارہ پہاڑی سلسلہ کی شکل میں سب سے بڑا ذخیرہ آب رکھتا ہے۔ اس علاقہ میں کئی دریاؤں کے طاس ہیں جنہیں اسرائیل نے محدود کر رکھا ہے ۔ پانی تک رسائی کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ دریائے اردن اور ساحلی ذخیرہ آب تک بھی اسرائیل نے امتناع عائد کر رکھا ہے ۔ اوسلو دوم کا مطلب ایک عارضی انتظام تھا اور آخر کار موقف کے اعتبار سے بات چیت کے بعد تعین کیا جانا تھا لیکن اسرائیل نے فیصلہ کیا کہ موجودہ موقف برقرار رکھا جائے اور فلسطینیوں کو پانی کی سربراہی اسرائیل کی بہ نسبت کم کردی جائے ۔ اسرائیلی ضروریات کو نظر انداز کردیا جائے۔
فی الحال آکسفارم کے بموجب اسرائیل فلسطینی آبی وسائل کے 80 فیصد حصہ پر قابض ہے۔ 5 لاکھ 20 ہزار اسرائیلی نوآبادکار تقریباً 6 گنا مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں جو مغربی کنارہ کے 26 لاکھ فلسطینیوں کو دستیاب ہے۔ اس کی بالکل واضح ہے کہ اسٹیفن ویسٹ بروک کی تحریروں کے مطابق اسرائیل میں 972 میگزین فوجی کمپنی اسرائیلی سرزمین سے پانی حاصل کر رہی ہے ۔ میکروت نہ صرف مغربی کنارہ کے 40 گنوؤں پر قابض ہیں بلکہ تقریباً فلسطین کے تمام آبی وسائل پر اسی کا قبضہ ہے۔ اسرائیل موثر انداز میں والوس پر بھی قبضہ رکھتا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کسے پانی حاصل ہونا چاہئے اور کسے نہیں۔
یہ ناانصافی ناقابل قبول ہے ، اس کے باوجود تقریباً 50 سال سے جاری ہے ۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ اس بات کو یقینی بنارہا ہے کہ بین الاقوامی برادری بامعنی اقدام نہ کرسکے۔ جاریہ موسم گرما میں مغربی کنارہ کا درجہ حرارت 38 درجہ سیلسیس تک پہنچ گیا تھا ۔کئی خاندان مبینہ طور پر فی کس 2 تا 3 لیٹر پانی پر اپنا گزارا کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ آفت کی حدوں میں پہنچ گیا ہے ۔ اس بار اس سانحہ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پورے فلسطینیوں کی زندگیاں خطرہ میں مبتلا ہیں۔

TOPPOPULARRECENT