Wednesday , September 20 2017
Home / اداریہ / پانی کی قلت ‘ سنگین صورتحال

پانی کی قلت ‘ سنگین صورتحال

وضو کو مانگ کے پانی نہ کر خجل مجھ کو
وہ مفلسی ہے تیمم کو گھر میں خاک نہیں
پانی کی قلت ‘ سنگین صورتحال
موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی پانی کی دستیابی ایک مسئلہ بن جاتی ہے ۔ پانی کی قلت کی وجہ سے سنگین صورتحال بن جاتی ہے اور عوام خاص طور پر غریب عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انتہائی افسوسناک صورتحال یہ ہوتی ہے کہ عوام کو پینے کیلئے تک بھی پانی دستیاب نہیں ہوتا اور انہیں تھوڑے سے پانی کیلئے میلوں سفر کرکے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ ملک کے غریب عوام ہی ہیں جو ہر طرح کے مسائل سے متاثر ہوتے ہیں اس کے باوجود وہ اپنی بے تکان جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ ان میں جینے کا حوصلہ ہوتا ہے اور وہ مسائل و مصائب سے آنکھ میں آنکھ ملا کر مقابلہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہ عوام کا حوصلہ ہے اور قابل ستائش ہے تاہم جو مسئلہ ہے وہ اپنی جگہ ہے اور اس کی سنگینی سے بھی کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ملک کی کئی ریاستیں اور شہر ایسے ہیں جہاں پانی کیلئے جھگڑے اور لڑائیاں ہو رہی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کو مارنے مرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ خاص طورپر مہاراشٹرا اور راجستھان کی صورتحال سنگین ہے ۔ مہاراشٹرا میں تو عوام کو پانی حاصل کرنے ایسے طریقے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں جنہیں عام ذہن سوچ بھی نہیں سکتا ۔ علاقہ مراٹھواڑہ میں خاص طور پر لوگ ریلوے اسٹیشنوں پر طویل فاصلہ تک چلنے والی ٹرینوں کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ جیسے ہی ٹرین اسٹیشن پر رکتی ہے وہ ٹرین کے باتھ روم میں آنے والا پانی حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو انتہائی سنگین کہی جاسکتی ہے ۔ راجستھان میں بھی حالات مختلف نہیں ہیں۔ وہاں تو گرمی کی شدت سے الگ عوام نڈھال ہوجاتے ہیں اور اوپر سے پانی تک دستیاب نہیں ہوتا ۔ زیر زمین پانی کی سطح کم ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں بورویلس اور کنویں ‘ تالاب اور کنٹے سوکھتے جا رہے ہیں ۔ جانوروں اور مویشیوں تک کو پانی دستیاب نہیں ہے ۔ انہیں چارہ نہیں مل پاتا ہے جس کے نتیجہ میں بے شمار مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔ ان کی ہلاکت خود بھی غریب عوام کیلئے معیشت متاثر کرنے کا باعث ہے ۔ سارے حالات ایسے ہیں جس نے عام اور غریب آدمی کیلئے زندگی بہت ہی مشکل بنا دی ہے ۔ اس کے باوجود عوام کے حوصلے پست نہیں ہوتے اور وہ زندگی کی گاڑی اپنی جہد مسلسل سے کھینچتے رہتے ہیں۔
پینے کیلئے جب پانی تک عوام کو دستیاب نہ ہونے پائے تو ترقی کے کیا معنی رہ جاتے ہیں ؟۔ حکومت کی جانب سے ملک اور عوام کی ترقی کیلئے بے تحاشہ دعوے کئے جاتے ہیں۔ بے شمار اسکیمات کا اعلان بھی ہوتا ہے لیکن جو بنیادی ضرورت ہے اس پر کوئی توجہ نہیں کی جاتی ۔ جہاں بڑے کارپوریٹ اداروں اور کمپنیوں کو بے تحاشہ مراعات دی جاتی ہیں۔ ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے ‘ برقی کم شرح پر سربراہ کی جاتی ہے ‘ اراضیات بے مول حوالے کردی جاتی ہیں وہیں انہیں ہزاروں لیٹر پانی مفت میں سربراہ کیا جاتا ہے ۔ یہ کمپنیاں اپنے پلانٹس میں یہ پانی استعمال کرتی ہیں اور غریب عوام کو پینے کیلئے پانی مل نہیں پاتا ۔ مویشی تک پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں لیکن کمپنیوں کے مشینوں میں یہ پانی استعمال ہوتا ہے اور وہاں سبزہ زار کو برقرار رکھنے کیلئے الگ سے پانی کا زیاں ہوتا ہے ۔ اسی صورتحال کی وجہ سے مہاراشٹرا میں آئی پی ایل کے میچس کے انعقاد پر خود عدالت نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا ۔ عدالت کی برہمی کو دیکھتے ہوئی حکومت مہاراشٹرا نے وہاں پانی فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ وہ پانی خرید کر استعمال کرتے ہیں ۔ کیا بی سی سی آئی کی سماجی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ یہی خریدا ہوا پانی ان غریب عوام اور ان کے مویشیوں کو فراہم کریں جنہیں ایک ایک بوند کیلئے ترسنا پڑتا ہے ۔ یہی کسان ہیں جو اناج اگاتے ہیں تو سب کا پیٹ بھرتا ہے لیکن انہیں ہی پانی کیلئے ترسایا جا رہا ہے ۔ اس معاملہ میں انسانیت کے پہلو سے دیکھنے کی ضرورت ہے تجارتی یا کمرشیل پہلو سے نہیں جیسا بی سی سی آئی نے دیکھا ہے ۔
اس سب کے علاوہ خانگی واٹر پلانٹس کے کام کاج پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ آبرسانی بورڈز کی جانب سے عوام کو فراہم کرنے کی بجائے یہ پانی خانگی واٹر پلانٹس کو فراہم کیا جا رہا ہے اور یہی پانی پھر عوام کو بھاری قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے ۔ یہ انتہائی سنگین اور مجرمانہ عمل ہے اور اس کو روکنا چاہئے ۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ پانی آب حیات ہے ۔ یہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنا حکومتوں کا کام ہے ۔ دہلی میں چیف منسٹر اروند کجریوال کی حکومت نے سارے ملک میں مثال پیش کی ہے ۔ عوام کو ایک مقررہ مقدار میں پانی مفت میں فراہم کیا جا رہا ہے ۔ یہ بنیادی ضرورت کی تکمیل ہے ۔ اگر اس مسئلہ پر حکومتیں ‘ کارپوریٹ ادارے اور خود عوام یا غیر سرکاری تنظیمیں مل جل کر کام نہیں کرینگی اور انسانیت کے پہلو سے اس کا کوئی حل دریافت نہیں کیا جائیگا تو آئندہ وقت اور بھی سنگین ہوجائیگا ۔

TOPPOPULARRECENT