Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / پانی کے استعمال میں احتیاط ، سنت نبوی ؐ عملی نمونہ

پانی کے استعمال میں احتیاط ، سنت نبوی ؐ عملی نمونہ

ملک کو قلت آب سے بچانے اورابنائے وطن کی رہنمائی میں مسلمانوں کا اہم کردار
محمد مبشرالدین
حیدرآباد۔ 18اپریل۔ قومی سطح پر پیدا ہورہی قحط سالی کی صورتحال کو دور کرنے میں مسلمان اپنا بہترین کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف زیر زمین سطح آب میں اضافے کو یقینی بنانے میں رول ادا کرسکتے ہیں بلکہ پانی کیلئے پریشان ابنائے وطن کو پانی کے استعمال کے متعلق اسلامی نظریہ پیش کرتے ہوئے انہیں عملی طور پر دعوت دے سکتے ہیں۔دریا و تالاب کے پانی پر انسانی زندگی کا انحصار ہوتا ہے لیکن شہری علاقوں میں زندگی گزارنے والوں کا انحصار زیادہ ترزیر زمین پانی پر ہوتا ہے اور جب تالاب ‘ دریا کے بعد زیر زمین پانی سوکھنے لگے تو قحط سالی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ ہندستان میں فی الحال پانی کا سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے اور پانی کے مسئلہ کا حل ہندستانی مسلمان پیش کر سکتے ہیں۔دین اسلام میں پانی احتیاط سے استعمال کرنے کی جو تعلیم دی گئی ہے اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و صلعم نے حکم دیا کہ اگر تم بہتی نہرپر بھی وضو بناؤتو پانی ضائع نہ کرو۔آقائے دو جہاں سرور کائینات صلی اللہ علیہ و صلعم نے نہ صرف امت کے لئے یہ حکم صادر فرمایا بلکہ آپ ؐ پانی کے استعمال میں کافی احتیاط کیا کرتے تھے۔ احادیث مبارکہ میں آیا ہیکہ نبیؐ ایک صاع میں غسل فرماتے تھے اور وضو کیلئے ایک مُد پانی استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک مُد کی مقدار بہ اعتبار پیمائش 750ملی لیٹر ہوتی ہے اور ایک صاع میں 4مُد پانی کی گنجائش ہوتی ہے یعنی وجہ تخلیق کائینات وضو کیلئے ایک لیٹر سے بھی کم پانی استعمال کیا کرتے تھے اور غسل کیلئے 3لیٹر پانی استعمال کرتے تھے۔ نبی ؐ نے امت کو اسراف سے سختی کے ساتھ منع فرمایاہے۔ ہندستان بھر میں معصوم عوام کو قحط کی صورتحال سے بچانے کیلئے فی الفور اقدامات نا گزیر ہیں ‘ ایسی صورت میں ہم نبیؐ کی تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے پانی کے اسراف کو بند کرنا بھی دعوت و تبلیغ کی طرح ہو سکتا ہے۔ شاہی مسجد باغ عامہ کی جانب سے ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کو پیش کردہ تجویز پر اگر ہر مسجد میں عمل کیا جانے لگے تو زیر زمین سطح آب میں اضافے کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ شاہی مسجد باغ عامہ کی جانب سے سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کو پیش کی گئی تجوز میں اس بات کی خواہش کی گئی ہے کہ وضو کے پانی کو ڈرینج کی نذر ہونے سے بچانے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ زیر زمین سطح آب میں ریکارڈ کی جا رہی گراوٹ کو روکا جا سکے۔ مساجد میں وضو کیلئے مصلیان کرام فی کس 2 لیٹر پانی استعمال کرتے ہیں اور علی الحساب اگر ایک مسجد میں ایک نماز میں100 مصلی آتے ہیںتو 5نمازوں میں یہ تعداد 500 تک پہنچ جاتی ہے اس طرح یومیہ 1000لیٹر سے زائد پانی ایک مسجد میں صرف وضـو کیلئے استعمال ہوتا ہے اور ملک بھر میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مساجد موجود ہیں جہاں پنچوقتہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔ اگر تمام مساجد میں صرف وضو کے پانی کو ڈرینج سے علحدہ کردیا جائے اور اسے سیدھے زمین میں جذب کرنے کی راہ ہموار کی جائے تو زیر زمین سطح آب میں آرہی گراوٹ کو بڑی حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔ جنوبی ہند کی ہر ریاست میں قحط سالی جیسے مسائل پیدا ہو چکے ہیں ریاست آندھرا پردیش میں ایسے مواضعات سے پانی کی قلت کی شکایات وصول ہو رہی ہیں جہاں کبھی پانی کی قلت کی شکایات نہیں ہوا کرتی تھی۔ بعض اطلاعات کے بموجب جن قصبوں میں پانی کی شدیدقلت ہے ان علاقوں سے عوام اجتماعی طور پر نقل مکانی کرنے لگے ہیں۔اسی طرح ریاست تلنگانہ کے بھی کئی علاقے قحط سے دو چار ہیں۔تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے قحط سے متاثرہ کسان کی مدد تو کی جا رہی ہے لیکن جن لوگوں کا پیشہء زراعت سے تعلق نہیں وہ بوند بوند پانی کیلئے پریشان ہیں۔کیرلہ جہاں کبھی گرم ہوائیں نہیں چلا کرتی تھی وہاں اب حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر گرمی کی لہر کا انتباہ دیا جانے لگا ہے جس سے موسم کی سنگین صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔مہاراشٹرا میں کئی اضلاع قحط سے دو چار ہیںاور لاتور کو بذریعہ ٹرین پانی روانہ کیا جانے لگا ہے۔پانی کے ٹینکر کے قریب لاٹھی چارج اور پولیس کی نگرانی میں پانی کی سربراہی کرناٹک اور مہاراشٹرا میں معمول بن چکی ہے۔ٹاملناڈو کے بعض علاقوں کی صورتحال بھی سنگین نوعیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ورلڈ واٹر فورم کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ہندستان میں پانی کی قلت بہت بڑا مسئلہ بننے جا رہی ہے ایسی صورت میں ہندستانی مسلمان دعاوؤ ں کے ساتھ تدابیر اختیار کرتے ہیں تو انہیں ہر اعتبار سے فائدہ حاصل ہوگا اور وہ عملی طور پر اس مشکل گھڑی میں قحط کی صورتحال سے ملک کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔علمائے اکرام ‘ عمائدین ملت ‘ قائدین اگر صرف وضو کے پانی کو زمین میں جذب کروانے کی مہم کو آگے بڑھاتے ہیں تو اس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہونے کے قوی امکانات ہیں۔اس کے علاوہ جن گھروں میں مٹی کا کھڈ بنانے کی گنجائش ہے وہ بھی بہنے والے پانی کو زمین میں جذب کرنے کے اقدامات کرتے ہیں تو اسکے بھی حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT