Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پانی کے تحفظ سے زیادہ شاہی مسجد کی اوقافی اراضی کا تحفظ ضروری

پانی کے تحفظ سے زیادہ شاہی مسجد کی اوقافی اراضی کا تحفظ ضروری

وقف کی 3361 مربع گز اراضی پر عارضی مندر تعمیر اور حد بندی ، سکریٹری اقلیتی بہبود کی دانستہ خاموشی
حیدرآباد۔ 20۔ اپریل ( سیاست نیوز) شہرت اور نام و نمود کا کوئی مسئلہ ہو تو سرکاری عہدیدار اور دیگر افراد فوری منظر عام پر آجاتے ہیں لیکن جب حقیقی مسائل کو ان سے رجوع کیا جائے تو انہیں برفدان کی نذر کردیا جاتا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں ان دنوں مسائل کا انبار ہے لیکن عہدیداروں کو صرف شہرت کی پڑی ہے۔ حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے شاہی مسجد باغ عامہ میں وضو کا پانی محفوظ کرنے کی اسکیم تیار کی جارہی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کو شاہی مسجد کی 3361 مربع گز اراضی کے تحفظ کی کوئی فکرنہیں جس پر محکمہ ہارٹیکلچر نہ صرف قابض ہے بلکہ اس پر عارضی مندر تعمیر کردی گئی۔ مسجد میں واٹر ہارویسٹنگ سے زیادہ اہمیت 3361 مربع گز اوقافی اراضی کے تحفظ کی ہے ، جس کی محکمہ ہارٹیکلچر نے حدبندی کرلی۔ اس کے علاوہ محکمہ کو تاریخی مکہ مسجد کی دن بدن بوسیدہ ہونے والی چھت ، مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین و ہوم گارڈس کی تنخواہوں، اردو اکیڈیمی کے کمپیوٹر سنٹرس کے ملازمین کی تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور دیگر سنگین مسائل کی بھی کوئی فکر نہیں ہے۔ اقلیتی بہبود کے سکریٹری اور شاہی مسجد سے متعلق افراد اس معاملہ سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن انہوں نے ناجائز قبضے کو دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی۔ 2006 ء سے مسجدکی اراضی پر قبضہ کا یہ معاملہ اعلیٰ عہدیداروں کے علم میں ہے لیکن کسی بھی عہدیدار کو 3000 سے زائد مربع گز اراضی کے تحفظ میں دلچسپی نہیں۔ واضح رہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے حکومت مطمئن نہیں ہے۔ لہذا حکومت کو خوش کرنے کیلئے شاہی مسجد نے پانی کے تحفظ کا پراجکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس پراجکٹ اور پانی کے تحفظ سے زیادہ 3361 مربع گز اوقافی اراضی کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ مسجد سے متعلق افراد نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو یہ تجویز پیش کی کہ جسے انہوں نے فوری منظور کرلیا اور اس کی تشہیر کی گئی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مسجد کی اراضی پر ناجائز قبضے اور عارضی مندر کی تعمیر کو روکنے کیلئے مسجد سے متعلق افراد نے کبھی بھی دلچسپی نہیں دکھائی لیکن پبلسٹی سے متعلق اس معاملہ میں فوری آگے آگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود کے ذریعہ مسجد کے احاطہ میں موجود ابوالکلام آزاد ریسرچ سنٹر کی ایک عمارت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

تاکہ اس میں مدرسہ قائم ہوسکے۔ مصلیان مسجد اس بات پر حیرت میں ہے کہ عہدیداروں کو اراضی کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں حالانکہ سرکاری سطح پر اس سلسلہ میں پیشرفت کی جاسکتی ہے ۔ پہلے وقف سروے میں مسجد کے تحت 13811 مربع گز اراضی کی نشاندہی کی گئی جو 1984 ء کے گزٹ میں درج ہے۔ 2006 ء میں اسسٹنٹ وقف کمشنر کی جانب سے کئے گئے دوسرے سروے میں صرف 10499 مربع گز اراضی پائی گئی اور 3361 مربع گز اراضی پر قبضے کی نشاندہی کی گئی ۔ اس سلسلہ میں بارہا اعلیٰ عہدیداروں کو توجہ دلائی گئی اور میڈیا کے گوشہ میں بھی اس کا انکشاف کیا گیا۔ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار اکثر و بیشتر اسی مسجد میں جمعہ ادا کرتے ہیں لیکن انہیں قبضے والی اراضی اور غیر مجاز مندر کی تعمیر کا جائزہ لینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ مکہ مسجد جو محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت ہے ، اس کی چھت کمزور ہورہی ہے اور معمولی بارش کی صورت میں پانی چھت سے اتر رہا ہے۔ سابق ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے مسجد کا معائنہ کرتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے عہدیداروں سے 1.75 کروڑ روپئے کا پراجکٹ تیار کیا تھا تاکہ چھت کا تحفظ ہوسکے لیکن اس تجویز کو نظرانداز کردیا گیا۔ اسی طرح مکہ مسجد کے احاطہ میں واقع مقبرہ کی چھت بھی بوسیدہ ہوچکی ہے۔ مکہ مسجد کے ملازمین اور ہوم گارڈس بروقت تنخواہوں کی ادائیگی سے محروم ہیں۔ شاہی مسجد کے ملازمین کے کئی مسائل ہیں۔ اتنا ہی نہیں اردو اکیڈیمی کے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز سے متعلق 182 ملازمین گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ ان تمام مسائل کی یکسوئی کی فکر کرنے کے بجائے سکریٹری اقلیتی بہبود اور ان کے قریبی افراد حکومت کی خوشنودی میں مصروف ہیں اور ایسی اسکیم پر توجہ دی جارہی ہے جس سے صرف ان کی شہرت ہوگی لیکن مساجد اور مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ محکمہ اقلیتی بہبود جب مکہ مسجد کے چھت کے تحفظ کیلئے فنڈ جاری نہیں کرسکتا اور ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی جاسکتی تو پھر کس طرح شاہی مسجد میں واٹر ہارویسٹنگ یونٹ قائم کیا جائے گا ؟

Top Stories

TOPPOPULARRECENT