Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / پانی کے مسئلہ پر بی جے پی رکن اسمبلی و وزیربلدی نظم و نسق کے درمیان تکرار

پانی کے مسئلہ پر بی جے پی رکن اسمبلی و وزیربلدی نظم و نسق کے درمیان تکرار

پینے کا پانی نظرانداز کرنے کا الزام، رامچندرا ریڈی، ریمارکس بند کرنے کا مشورہ : کے ٹی آر
حیدرآباد ۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر اور بی جے پی کے رکن اسمبلی رامچندرا ریڈی کے درمیان پینے کے پانی کے مسئلہ پر بحث و تکرار ہوگئی۔ غیر ذمہ دارانہ ریمارکس بند کرنے کا کے ٹی آر نے مشورہ دیا۔ من مانی ختم کرنے پر رامچندر ریڈی نے زور دیا۔ پینے کے پانی کے مسئلہ پر وقفہ سوالات کے دوران بی جے پی کے رامچندر ریڈی نے مانجرا ۔ سنگور اور عثمان ساگر سے حیدرآباد کو پینے کا پانی سربراہ نہ کرنے کی وجہ طلب کی۔ دوسرے ذخیرہ آب سے حیدرآباد کو پانی سربراہ کرنے میں اخراجات بڑھ جانے کا دعویٰ کیا۔ بی جے پی رکن جب پانی کے مسائل پیش کررہے تھے تب حکمراں جماعت کے ارکان نے ان پر ریمارکس کررہے تھے تب رامچندر ریڈی نے کہا کہ ایوان میں اکثریت کا بیجا استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی من مانی کی جاسکتی ہے۔ آج ٹی آر ایس برسراقتدار ہے ہوسکتا ہے انہیں مستقبل میں اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھنا پڑے۔ پینے کے پانی کے مسئلہ پر حیدرآباد کو نظرانداز کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا جس پر وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد کو پانی سربراہ کرنے کا ہیڈ آفس خیریت آباد اسمبلی حلقہ میں ہے۔ متحدہ آندھراپردیش میں پانی کی قلت کے خلاف رامچندر ریڈی کی قیادت میں خیرت آباد آفس پر خالی گھڑوں سے احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے حیدرآباد میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہونے نہیں دی اور نہ ہی کسی گرما کے موسم میں رامچندر ریڈی کو خالی گھڑوں سے احتجاج کرنے کی نوبت آئی ہے۔ حکومت پر تنقید برائے تنقید کرنا درست نہیں ہے۔ شہر کے 155 بستیوں میں روزانہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ جون میں توقع کے مطابق بارش ہونے پر سال کے اواخر سے گریٹر حیدرآباد میں روزانہ پینے کا پانی سربراہ کیا جائے گا۔ گریٹر حیدرآباد میں شامل ہونے والے مضافاتی علاقوں کے بلدی علاقوں کو بھی جون سے پانی تقسیم کیا جائے گا۔ کوکٹ پلی میں عوام روزانہ کے بجائے ایک دن کے وقفہ سے پانی سربراہ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ماضی میں قطب اللہ پور اسمبلی حلقہ میں 15 دن میں ایک مرتبہ پینے کا پانی سربراہ کیا جاتا تھا۔ اب ایک دن کے وقفہ سے سربراہ کیا جارہا ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں دو بڑے ذخیرے آب تعمیر کئے جارہے ہیں۔ پینے کے پانی کو بھی سیاسی مسئلہ بنانے پر سخت اعتراض کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT