Thursday , August 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستانی امپائر اسد رؤف پر بی سی سی آئی کا پانچ سالہ امتناع

پاکستانی امپائر اسد رؤف پر بی سی سی آئی کا پانچ سالہ امتناع

رشوت ستانی ، سٹہ بازی اور کھیل کا وقار مجروح کرنے کے الزامات پر کارروائی
ممبئی ۔ 2 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی سی سی آئی نے داغدار پاکستانی امپائر اسد رؤف کو اپنی تادیبی کمیٹی کی جانب سے رشوت ستانی میں ملوث ہونے اور کھیل کا وقار مجروح کرنے جیسی غلطیوں کا مرتکب پائے جانے کے بعد آج ان پر پانچ سال کا امتناع عائد کردیا۔ 59 سالہ اسد رؤف آئی سی سی کے سرکردہ پینل میں شامل تھے اور ٹسٹ میچوں کیلئے امپائرنگ کیا کرتے تھے۔ اُن پر 2013 ء کے آئی پی ایل میچوں میں سٹہ بازی کرنے اور بُکیوں سے قیمتی تحفے قبول کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ تادیبی کمیٹی کی جانب سے اسد رؤف کی قسمت کا فیصلہ کئی دن تک معلق رکھنے کے بعد بالاخر بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر نے جیوترادتیہ سندھیا اور نرنجن سنگھ کے ساتھ ان پر پانچ سالہ امتناع کے فیصلہ کا اعلان کردیا۔ اسد رؤف کو ان کے خلاف الزامات منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان نے اُنھیں آئی سی سی کے سرکردہ پینل سے ہٹادیا تھا۔ بی سی سی آئی نے اپنے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہاکہ ’’مسٹر اسد رؤف پر امپائرنگ ، کھیلنے یا کسی بھی شکل میں کرکٹ کی نمائندگی کرنے یا پھر اس بورڈ اور اس کے ملحقہ اداروں کی کسی بھی سرگرمی سے وابستہ ہونے پر پانچ سال کا امتناع عائد کیا گیا ہے‘‘۔اس پابندی کے بعد اب اسد رؤف بی سی سی آئی یا اس سے منسلک کسی بھی طرز کی کرکٹ میں کھیلنے یا امپائرنگ کے اہل نہیں رہے ہیں۔ بی سی سی آئی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اسد رؤف اس کمیٹی کے اجلاس پر حاضر نہیں ہوئے تھے لیکن انھوں نے 15 جنوری 2016 ء کو ابتدائی تفصیلات روانہ کیا تھا اور 8 فبروری 2016 ء کو تحریری بیان بھیجا تھا ‘‘ ۔

کمیٹی نے انکوائری کمشنر کی رپورٹ اور رؤف کے تحریری بیان پر غور کرنے کے بعد انھیں ( اسد رؤف کو) بی سی سی آئی کے انسداد رشوت ستانی ضابطہ کی مختلف دفعات کے تحت رشوت ستانی و بدعنوانیوں کا مرتکب پایا۔ اسد رؤف کو کسی میچ کے دوران یا بعد (کسی معاوضہ کے عوض یا بلا معاوضہ ) کسی تیسرے شخص کو اندرونی معلومات فراہم کرنے کی غلطی کا مرتکب بھی پایا گیا۔ انھیں میچ کے دوران یا اس کے نتیجہ سے متعلق کسی فریق کے راست یا بالواسطہ فائدہ کی غرض سے سٹہ بازی میں ملوث ہونے کا مرتکب بھی پایا گیا ۔تاہم پاکستانی امپائر نے اپنے بیان میں مبینہ طور پر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔مئی 213 میں آئی پی ایل کے دوران ہی ہندوستان چھوڑنے کے بعد انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نہیں ہیں۔وہ انگلینڈ میں منعقدہ اپنی چیمپیئنز ٹرافی کی ذمے داریوں سے دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد انہیں آئی سی سی کے ایلیٹ پینل سے بھی نکال دیا گیا تاہم آئی سی سی نے واضح کیا تھا کہ انہیں کرپشن اسکینڈل کی بنیاد پر پینل سے نہیں نکالا گیا۔اسد رؤف نے 2000 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ سے عالمی سطح پر امپائرنگ کا آغاز کیا جبکہ 2006 میں انہیں آئی سی سی ایلیٹ پینل کا حصہ بنایا گیا۔وہ اب تک 49 ٹیسٹ، 98 ایک روزہ اور 23 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ اسد رؤف کے ساتھ ساتھ دیگر خاطی کھلاڑیوں پر بی سی سی آئی نے 2013 ء کے آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے جرم کے مرتکب پائے جانے پر امتناع عائد کیا ۔ ہریانہ کے آف اسپنر اجیت چنڈیلا پر گزشتہ ماہ تاحیات امتناع عائد کیا گیا تھا ۔ علاوہ ازیں ممبئی کے بیٹسمین ہاکن شاہ پر رشوت ستانی کے کسی عمل کیلئے ساتھی کھلاڑی سے رجوع ہونے پر پانچ سال کا امتناع عائد کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT