Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / پاکستانی جوہری اسلحہ کو لیکر مغربی ممالک میں بے چینی

پاکستانی جوہری اسلحہ کو لیکر مغربی ممالک میں بے چینی

ایم اے حمید
حالیہ کچھ دن قبل پاکستان کے نیوکلیئر ٹیم کے سربراہ عبدالقدیر نے ہندوستان کو دھمکاتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ پاکستان کے نیوکلئیر بم پانچ منٹ میں دہلی کو صفحہ ہستی سے مٹاکر رکھ دیں گے ۔ جب کبھی ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تلخ ہوتے ہیں تو ایسے میں وہ اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کے دریعہ ہندوستان کو ڈرانے سے پیچھے نہیں ہٹتا ۔ عبدالقدیر کی بات یقینی طور پر صحیح ہوسکتی ہے لیکن ان دنوں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار نہ صرف ہندوستان کیلئے بلکہ ساری دنیا اور خاص کر امریکی حکومت کیلئے سردرد بنے ہوئے ہیں ‘ انہیں یہ خدشہ ہیکہ پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار کہیں دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے تو بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی ہوسکتی ہے اور یہ مسئلہ ان دنوں امریکہ کے انتخابات میں جاری الیکشن کی تشہیری مہم میں ایک اہم مدعا بنا ہوا ہے ۔ امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کی فہرست میں سب سے آگے چل رہے ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بحث کے دوران یہ کہا کہ اگرپاکستان میں حالات غیر مستحکم ہوجاتے ہیں تو ایسی حالت میں امریکہ کوپاکستان سے اس کے نیوکلئیر ہتھیار چھین لینا چاہیئے ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو بھی ایسی پالیسی میں شامل رکھنا چاہیئے ۔ ایک اکیلے ٹرمپ ہی نہیں بلکہ کئی امریکی لیڈر پاکستان میں موجود نیوکلیئر ایٹمی ذخیرہ پر اپنی گہری فکر ظاہر کرچکے ہیں ۔ درحقیقت پاکستان نے بڑی جستجو اور جذبے کے ساتھ نیوکلیئر ہتھیار تیار تو کرلئے ہیں لیکن اس کی حفاظت کرنا اب پاکستان کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کے سبب ہی سارے عالم میں پاکستان کے نیوکلیئر اسلحہ کو لیکر تشویش دیکھی جارہی ہے ۔ بھلے ہی گذشتہ کئی دہوں سے پاکستان کو ایک ناکام مملکت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن پاکستان نے نیوکلیئر ہتھیار کے معاملے میں اتنی زیادہ ترقی کرلی ہیکہ ماہرین پاکستان کو دنیا کا سب سے خطرناک ملک قرار دے رہے ہیں اور یہ بات بھی پوری طرح سے واضح ہوچکی ہیکہ سخت گیر اور دہشت گردوں کیلئے پاکستان ایک محفوظ پناہ گن بن چکا ہے ۔ پاکستان کے بہت بڑے حصے پر پاکستانی طالبان اور دیگر تشدد پسند طاقتوں کا راج چل رہا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہیکہ پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیاروں پر کبھی بھی صفت دہشت گردوں کا قبضہ ہوسکتا ہے ۔ یہ سب باتیں کوئی خیال خاکے نہیں بلکہ حقیقت اورحالات کی ترجمانی کررہے ہیں ۔ جانکاروں کے مطابق امریکہ کے پاس یقینی طور پر خفیہ پلان موجود ہے ۔ امریکی میڈیا خفیہ پلان کا خلاصہ کرتے ہوئے یہ بتاتاہیکہ اس خفیہ پلان میں امریکہ کسی نہ کسی طرح ہندوستان کی مدد یا اس کا رول ضرور شامل کرے گا ۔ پاکستان کے پاس نہ صرف نیوکلیئر ایٹمی ہتھیار ہے بلکہ ایف ۔16 جیسے طیارے اور کئی خطرناک میزائلس ہیں جن کے ذریعہ وہ تقریباً 2500کلومیٹر تک کے فاصلہ پر کبھی بھی اپنا ایٹم بم پھینک سکتاہے ۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے بڑھتے قد کو دیکھتے ہوئے مغربی ممالک کو یہ فکر کھائے جارہی ہیکہ کہیں دہشت گردوں کے ہاتھ نیوکلیئر سلحہ نہ لگ جائیں ۔

ٹرمپ کے تازہ بیان نے چار سال پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہیکہ کیا امریکہ پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیاروں پر قبضہ کرسکتاہے ؟ ٹرمپ کے بیان نے امریکہ کے خفیہ پلان کو لیکر ایک بحث شروع کردی ہے جس کا مقصد پاکستان میں ہنگامی حالات کے دوران اس سے نیوکلیئر ہتھیار چھیننا ہے حالانکہ امریکہ نے کبھی اپنے اس منصوبے کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسی خبروں سے امریکہ نے کبھی انکار بھی نہیں کیا ۔ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہیکہ ایک طرف جہاں پاکستان میں نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ ہوتے جارہے ہیں تو وہیں دوسری طرف پاکستان میں ایٹمی بموں کا ذخیرہ خاطر خواہ تعداد میں بڑھ رہا ہے جس پر کیل کسنے میں مغربی طاقتیں پوری طرح سے ناکام ہوتی جارہی ہیں ۔ نیوکلیئر بلیٹین اکنامک سائنٹسٹ کی تازہ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق فی الحال پاکستان کے پاس 110 سے لیکر 130 تک نیوکلیئر ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے ۔ سال 2011ء میں جن کی تعداد 98سے 110 کے درمیان تھی اس رپورٹ کے ذریعہ یہ دعویٰ کیا گیا ہیکہ سال 2025ء تک پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی نیوکلیئر طاقت بن سکتا ہے ۔ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں پاکستان فی الحال امریکہ ‘ روس ‘ فرانس ‘ برطانیہ اور چین سے پیچھے ہے اور اس معاملے میں ہندوستان سے کہیں زیادہ آگے معلوم ہوتا ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو لیکر کئی سال سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہیکہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں یا نہیں ؟ اس دوران پاکستان میں جیسے واقعات ہوئے انہیں دیکھتے ہوئے سب کو یہ لگتا ہیکہ اب پاکستان میں نیوکلیئر ہتھیار محفوظ نہیں ۔ حال ہی میں دہشت گردوں نے پاکستانی فوج کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو نیوکلیئر بس کہے جاتے ہیں ۔ ساڑھے تین سال قبل پاکستان کے علاقہ پنجاب کے گیمرا میں واقع منہاس ایئر بیس پر دہشت گردوں نے حملہ کرتے ہوئے کئی طیاروں کو نقصان پہنچایا تھا جبکہ وہاں نیوکلئیر اسلحہ بھی رکھے ہوئے تھے ۔ اگر اس دوران دہشت گرد نیوکلیئر اسلحہ پر حملہ کردیتے تو یقیناً صورتحال کافی زیادہ خطرناک ہوجاتی تھی لیکن خدا کا شکر ہیکہ ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ مئی 2011ء میں کراچی میں فیول ایئر بس پی این ایس مہرون پر حملہ ہوا جہاں سے ایٹمی نیوکلیئر بیس صرف 15کلومیٹر دوری پر واقع تھا ۔ اکٹوبر 2009ء میں دہشت گرد راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کرچکے ہیں اور حال ہی میں 18ستمبر 2015ء کو دہشت گردوں نے پشاور کے ایئر فورس بیس پر بھی حملہ کیا ہے ۔ ان تمام دہشت گردی کارروائیوں سے یہ واضح ہونے لگا ہیکہ اب پاکستان کے نیوکلیئر اسلحہ بھی دہشت گردوں کے ناپاک ہاتھوں سے محفوظ نہیں ۔

پاکستان کے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کیلئے کی گئی امریکی فوجی کارروائی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے مفاد کے تحفظ اور سلامتی کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔ لہذا ایسے میں جب پاکستان میں نیوکلیئر اسلحہ کی بقاء خطرے میں ہوں تو ممکن ہیکہ امریکہ مداخلت کرتے ہوئے کارروائی ضرور کرسکتا ہے ۔ 2009 اور 2011ء میں امریکی پالیسی تب ظاہر ہوئی جب امریکی میڈیا نے بتایا کہ ان کے پاس ایک خاص گرو ہے جو کہ نیوکلیئر ذخیرہ پر قبضہ کرنے کیلئے طویل عرصے سے کام کررہا ہے اور اس مشن کے تحت امریکی پاکستانی نیوکلیئر اسلحہ کو اپنے قابو میں لینے کیلئے سرگرم ہے ۔کئی ماہرین اور پاکستانی اُمورپر نظر رکھنے والوں کا یہ ماننا ہیکہ پاکستانی سرحد بلوچستان اور ایف ٹی اے میں دہشت گرد اتنے زیادہ حاوی ہوچکے ہیں کہ ان پر قابو پانا پاکستانی حکومت کے بس کی بات نہیں رہی ۔ دہشت گرد اورکٹر اسلامی طاقتیں اس علاقہ پر اپنا قبضہ مضبوط کررہی ہے اور انہیں فوج اور آئی ایس آئی کے کچھ عہدیداروں سے خوب مدد اور تعاون مل رہا ہے ۔ پاکستان میں فی الحال جو سیاسی حالات پیدا ہوچکے ہیں اس کا فائدہ اٹھانے کیلئے دہشت گرد اور کٹر جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے تاکہ وہ پاکستان کے اقتدار پر قابض ہوسکیں۔امریکہ اور مغربی ممالک کو یہ فکر پیدا ہورہی ہیکہ ایسے حالات میں آخر کیا کیا جائے ؟ ۔ عراق اور پاکستان میں دخل اندازی کرنا ان کیلئے خطرے کا سودہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ پاکستان جیسے ملک میں بگڑتے سیاسی حالات اور دہشت گردوں کے صفائے کیلئے دس لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں فوج  تیار کرنا پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ حالانکہ اس دوران امریکی میڈیا مسلسل یہ دعویٰ کرتا آرہا ہیکہ امریکی حکومت کی اتنی طاقت اور قوت ہے جو پاکستان سے نیوکلیئر اسلحہ چھین سکتی ہے ۔ امریکی میڈیا کی ان باتوں کو دیکھ کر کبھی ایسا محسوس ہوتا ہیکہ وہ اپنے ملک پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے جبکہ پاکستان کوئی معمولی ملک نہیں جس سے نیوکلیئر اسلحہ اتنی آسانی کے ساتھ چھین لیا جائے ۔ امریکہ نے جس طرح اسامہ کو مارنے کیلئے فوجی آپریشن کیا تھا ‘ ٹھیک اسی طرح کچھ کرنا ہوگالیکن ایک ساتھ اتنے زیادہ مقامات پر فوجی کارروائی کرنا کوئی آسان کام نہیں اور یہ موجودہ حالات میں تو ناممکن سا نظر آتا ہے ۔ جاسوسی دنیا کے ماہر ٹی ریچلسن نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہیکہ امریکہ کے پاس نیوکلیئر ایمرجنسی سرچ ٹیم ہے جو جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمانڈ کے ساتھ ایٹمی ذخیروں پر قبضہ کرنے کا مشن چلا سکتی ہے ۔ ایسے آپریشن میں دو طرح کے امکانات ہیں ۔ایک ایٹمی اسلحہ کو تباہ و برباد کرنا اور دوسرا ایٹمی اسلحہ کو اپنے قبضہ میں لینا ۔ دراصل ایٹمی ہتھیاروں کو ناکام کرنے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ بھاری بھرکم ہتھیاروں کو تباہ کیا جائے ‘ ایٹمی ٹریگر یا اس کی چپ کو ناکام کرنا یا اسے قبضہ میں لیکر ناکارہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT