Monday , August 21 2017
Home / دنیا / پاکستانی فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کا خانگی دورہ امریکہ

پاکستانی فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کا خانگی دورہ امریکہ

امریکی دفاعی عہدیداروں سے ملاقات کی خواہش، پاکستانی سفارت خانے سے راحیل شریف کی جانب سے پنٹگان کو مکتوب
واشنگٹن 11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف امریکہ کا خانگی دورہ کریں گے کیوں کہ انھیں امریکہ کے دورہ کے لئے نہ تو اُن کے امریکی ہم منصب نے مدعو کیا ہے اور نہ ہی پنٹگان نے۔ محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار کے مطابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف 16 تا 19 نومبر واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ وہ خود اپنی مرضی سے واشنگٹن جارہے ہیں جبکہ اُن کی درخواست پر محکمہ دفاع کے عہدیداران اُن سے ملاقات کررہے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ پنٹگان کو پاکستانی سفارت خانے سے جنرل راحیل شریف کی جانب سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس میں اُنھوں نے امریکی دفاعی عہدیداروں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ محکمہ دفاع کے عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھے جانے کی شرط پر یہ بات بتائی۔ یہ ایک انتہائی شاذ و نادر رونما ہونے والا واقعہ ہے کہ پاکستانی افواج کا سربراہ بغیر کسی دعوت کے امریکہ کا دورہ کررہا ہے۔

دفاعی عہدیدار کے مطابق جنرل راحیل شریف کو سرکاری طور پر امریکہ کا دورہ کرنے کے لئے مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے ازخود امریکی دفاعی عہدیداروں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے اور پاکستان و امریکہ کے باہمی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر امریکی دفاعی عہدیدار جنرل راحیل شریف سے ملاقات کرتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان استحکام پیدا ہوگا۔ دفاعی عہدیدار نے مزید بتایا کہ جنرل راحیل شریف نے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر، یو ایس جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جوزف ڈنفورڈ اور امریکی فوجی سربراہ جنرل مارک ملے سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

راحیل شریف فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں واقع سنٹرل کمانڈ ہیڈکوارٹرس کا بھی دورہ کریں گے۔ دریں اثناء پنٹگان کے ایک عہدیدار نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ جیسا کہ آپ کو توقع ہے۔ راحیل کے ساتھ ہم دفاعی اور سکیوریٹی کے نازک موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے جو دونوں ہی ممالک کے لئے انتہائی اہم موضوعات ہیں جس میں افغانستان کی سکیوریٹی بھی شامل ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے دہشت گردی اور شورش پسندی کے خلاف اپنی جو مہم چھیڑ رکھی ہے اُس پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے بارے میں صدر اوباما نے بھی حال ہی میں ایک مثبت بیان دیا تھا۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ جنرل راحیل شریف جو پاکستان کے ایسے فوجی سربراہ ہیں جن کا حالیہ دنوں میں امریکہ کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بھی ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ علاوہ ازیں اعلیٰ سطحی قانون سازوں سے ملاقات بھی اُن کے پروگرام میں شامل ہے۔ گزشتہ سال ڈسمبر میں جب جنرل راحیل شریف نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو اُنھوں نے جان کیری سے ملاقات کی تھی۔ اُن کے امریکہ میں توقع سے زیادہ قیام نے سب کو حیرت زدہ بھی کردیا تھا جبکہ نومبر 2014 ء کے وسط میں موصوف صرف ایک ہفتہ کے لئے امریکہ گئے تھے لیکن اُنھوں نے اپنے قیام کی مدت میں توسیع کردی تھی۔ بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف کے اس ’’غیر سرکاری‘‘ دورہ کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT