Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / پاکستانی فوج نے امن کارروائی کئی بار ناکام بنادی، جنرل سوہاگ کا الزام

پاکستانی فوج نے امن کارروائی کئی بار ناکام بنادی، جنرل سوہاگ کا الزام

آئندہ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت پر سربراہ فوج جنرل دلبیر سنگھ کا ردعمل، یوم فوج سے پہلے سالانہ پریس کانفرنس
نئی دہلی 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آئندہ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کے سلسلہ میں غیر یقینی صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سربراہ فوج جنرل دلبیر سنگھ سوہاگ نے آج واضح طور پر پاکستانی فوج کو امن کارروائی ’’کئی مرتبہ‘‘ ناکام بنادینے کا الزام عائد کیا۔ اُن کے تبصرہ اِن اطلاعات کے پس منظر میں اہمیت رکھتے ہیں کہ پاکستانی انتظامیہ نے وزیراعظم نواز شریف کو اعتماد میں نہیں لیا تھا جبکہ ہندوستان کے ساتھ بات چیت کا مسئلہ تبادلہ خیال کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ جنرل دلبیر سنگھ نے کہاکہ اس نے کئی بار ایسا کیا ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ پٹھان کوٹ حملہ کے پس منظر میں جو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی کارستانی تھی تاکہ امن کارروائی میں خلل اندازی پیدا کی جاسکے بلکہ یہ میری قیاس آرائی ہے کہ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت ممکن ہے کہ ملتوی کردی جائے کیوں کہ ہندوستان پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کے سازشیوں کے خلاف بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کا خواہاں ہے۔ اس دہشت گرد حملہ میں 7 فوجی ہلاک ہوگئے تھے

جبکہ 6 دہشت گردوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر کی جانب سے ہندوستان کو درد دینے والوں کو اسی قسم کا درد عطا کرنے کی ضرورت پر زور دینے کے دو دن بعد جنرل سوہاگ نے کہاکہ ہندوستانی فوج فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے اور اس کی اہلیت رکھتی ہے۔ اگر اُس پر ذمہ داری عائد کی جائے وہ مکمل تیاری کے ساتھ ملک کی صیانت کو لاحق کسی بھی خطرے کا سامنا کرسکتی ہے۔ سربراہ فوج یوم فوج سے پہلے اپنی سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے سرحدات پر جو پنجاب میں پاکستان سے متصل ہیں، درداندازی پر بھی ’’تشویش‘‘ ظاہر کی۔ تاہم واضح کردیاکہ اِس کی ذمہ داری بی ایس ایف پر عائد ہوتی ہے جو اِس علاقہ میں تعینات ہے۔ جنرل سوہاگ نے نشاندہی کی کہ 6 پاکستانی دہشت گرد ممکن ہے کہ پٹھان کوٹ فضائی فوجی اڈے میں روپوش ہوں جیسا کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی بھی فوج کے محاصرہ میں آجاتا ہے تو اُسے 24 کیلو میٹر طویل احاطہ کی دیوار تک محدود رہنا پڑتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ معاملہ ’’غداری‘‘ کا ہے۔ اگر دہشت گردوں نے منشیات کی اسمگلنگ کا راستہ اختیار کیا ہے تاکہ مقامی مدد حاصل کی جاسکے۔ سربراہ فوج نے اِن الزامات کو بھی مسترد کردیا کہ باہم رابطہ کا فقدان تھا جس کی وجہ سے حملہ کا منہ توڑ جواب نہیں دیا جاسکا۔ اُنھوں نے کہاکہ تمام کارروائیوں میں ’’مکمل ہم آہنگی‘‘ تھی۔ اُنھوں نے اِس اطلاع پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا کہ کیا معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت جاریہ ہفتہ منعقد کی جانی چاہئے۔ سربراہ فوج نے کہاکہ اِس کا فیصلہ سفارتی یا سیاسی سطح پر کیا جائے گا۔ حملہ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں جنرل سوہاگ نے کہاکہ اِن افراد کے قبضہ سے جو ادویہ اور آلات دستیاب ہوئے ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ ثبوت پاکستانی عہدیداروں کو فراہم کئے جاچکے ہیں لیکن تفصیلات کا اظہار این آئی اے کی جانب سے تفتیش کی تکمیل کے بعد ہی ممکن ہے۔ جنرل نے کہاکہ پٹھان کوٹ حملہ کا مقصد اعظم ترین نقصان پہنچانا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس کی تشہیر تھا جو اکثر مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT