Thursday , May 25 2017
Home / اداریہ / پاکستانی فوج کی کارروائی

پاکستانی فوج کی کارروائی

آپ گھبرائیں نہیں دیکھ کے آثارِ سحر
آپ جب تک رہیں ہرگز نہ اجالا ہوگا
پاکستانی فوج کی کارروائی
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پہلے ہی سے کشیدگی کے درمیان مزید حالات کو کشیدہ بنانے والی کارروائیوں سے صورتحال دھماکو بنانے کا موجب بنتی ہیں۔ پاکستانی فوجی کورٹ نے ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کو سزائے موت دی ہے۔ یہ اقدام دونوں ملکوں کو مزید دور کردے گا۔ یہ ایک غیرمعمولی اور غیرضروری کارروائی سمجھی جاری ہے ۔ دونوں جانب سفارتی سطحوں کو مزید نقصان پہنچانے والے فیصلوں سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ پاکستانی فوج نے جاسوسی کے حوالے سے کشیدگی کو بھڑکانے کاکام کیا ہے تو دو نیوکلیئر طاقت کے حامل ملکوں کے لئے ایسی حرکتیں ایک بھیانک مستقبل کی جانب ڈھکیل دیں گی۔ سرحدوں پر پہلے ہی سے دیرینہ کشیدگی کو کم کرنے کیلئے دباؤ بڑھائے جانے کے بعد مزید کشیدہ حالات کو ہوا دینا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں غوروفکر کی صلاحیتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ ہندوستانی جاسوس کے طور پر جاننے جانے والے کلبھوشن جادھو کو حسین مبارک پٹیل کی حیثیت سے پاکستان میں سرگرم رکھا گیا تھا تو پھر پاکستان فوج کا فیصلہ ساز ناز ہی اٹھایا گیا قدم کہا جارہا ہے۔ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے ہندوستان کی سرگرمیوں کے بارے میں پاکستان کے دیرینہ الزامات کے درمیان جادھو کا کیس سامنے آیا ہے تو اس بہانے سے پاکستان اب تمام ملکوں سے اس معاملہ میں مدد طلب کرکے ہندوستان کی جاسوسی سرگرمیوں کو منکشف کرنے کی کوشش کرے گا مگر اس سے کوئی فائدہ نہ تو پہلے حاصل ہوا ہے اور نہ اب اس کا صلہ ملے گا بلکہ دونوں جانب کشیدگی کی صورتحال مزید دھماکو ہوجائے گی۔ پاکستان کی نظر میں یہ فیصلہ درست ہوسکتا ہے۔ اس کا خیال ہیکہ یہ ملک کے قانون اور انصاف کے مطابق ہوا ہے۔ بین الاقوامی فورم میں پاکستان کو اپنی بات رکھنے اور وضاحت کرنے کا مواد و ثبوت موجود ہے تو ایسے میں ہندوستان کو بھی اس صورتحال کا باریکی سے اندازہ کرکے مشتعل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اشتعال انگیزی سے کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ساتھ نازک صورتحال رونما ہوتی ہے۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے اپنے قانون اور انصاف کے حوالہ سے اس کی دانش کے مطابق ہندوستانی شہری کو سزاء دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اس پر حکومت ہند کو زیادہ مشتعل ہونے کی ضرورت ہوگی یا نہیں اس سوال کا اس تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہئے کہ ہندوستان میں پاکستانی شہری اجمل قصاب کے ساتھ کیا معاملہ اختیار کیا گیا تھا۔ اگر ہندوستان میں اجمل قصاب کے خلاف ثبوت تھے اور اس کی موت کو انصاف و قانون کے تقاضہ کو پورا کرتی تھی تو پھر حکومت پاکستان یا پاکستانی فوجی عدالت کوبھی ہندوستانی شہری کی موت کے حمایت میں ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔ حکومت ہند اس واقعہ پر شدید ردعمل تو ظاہر کیا ہے مگر اس طرح کے ردعمل کو سخت موقف یا کشیدگی کو ہوا دینے والے بیانات سے مربوط نہیں کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ میں وزیرخارجہ سشماسوراج نے ہندوستانی شہری کی سزائے موت پر بیان دیا ہے اور کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے باہمی اصول متاثر ہوں گے۔ پاکستانی فوج کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو اپنے پڑوسی ملک کے سامنے تازہ سرخ لکیریں کھینچ دینی ہوں گی۔ غم و غصہ اور شدید ردعمل کا اظہار ایک فطری امر ہے لیکن اس سزائے موت کے تناظر میں پاکستانی فوج کے اقدام کو عالمی سطح پر ایک مؤثر کیس بنا کر پیش کرنے کے ساتھ مضحکہ خیز الزامات کے تحت کسی ملک کے شہری کو سزاء دینے کی عالمی فورم میں کیا ا صول موجود ہیں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اس شہری کے بارے میں مختلف مواقع پر ثبوت اور حقائق کا تبادلہ ہوچکا تھا۔ ہندوستان کا یہ دعویٰ بھی پیش کیا گیا تھا کہ کلبھوشن جادھو ایک تاجر کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ ایران میں ان کی تجارت تھی اور ان کا وہاں سے اغوا کرلیا گیا اور پاکستان لاکر محروس رکھا گیا لیکن جادھو کے اغوا یا پاکستان منتقلی کے بارے میں جو حالات پیدا ہوئے تھے اس کے تعلق سے کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آئی۔ پاکستان نے جادھو کے بارے میں ہندوستان کے ساتھ ضروری معلومات کا تبادلہ نہیں کیا اور جادھو سے ملنے کیلئے کونصلر کو اجازت دینی چاہئے تھی۔ کلبھوشن جادھو کے خلاف اس طرح کی کارروائی کے بعد حکومت ہند اور عوام کیلئے ایک غور طلب سنجیدہ مسئلہ یہ ہیکہ آیا پاکستان میں اب بے قصور ہندوستانی شہریوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان اس بات کا جوابدہ بن گیا ہیکہ اس نے قانون و انصاف اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔ پاکستان کو پڑوسی ملکوں کے ساتھ روابط اور دوستی کو مستحکم رکھنا ہے تو باہمی تعلقات کیلئے سنگین مسائل پیدا کرنے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے۔ اب اس معاملہ کو حکومت ہند اور ہندوستانی عہدیداروں کو باریکی کا جائزہ لینا چاہئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT