Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی فوج دیکھی گئی

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی فوج دیکھی گئی

ہندوستانی فوج میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں ‘ چینی فوج انفراسٹرکچر کی کی تعمیر میں مصروف
سرینگر۔13مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) وقفہ وقفہ سے لداخ کے علاقہ میں بار بار دراندازی کے بعد چینی عوامی نجات دہندہ فوج ( پی ایل اے ) کے فوجی مبینہ طور پر خطہ قبضہ کے پاس پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دیکھے گئے ہیں جس کی وجہ سے ہندوستانی فوج میں خطرہ کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں ۔ فوج سینئر پی ایل اے عہدیداروں کے ساتھ ہراول چوکیوں پر شمالی کشمیر میں نوگام سیکٹر میں دیکھے گئے ہیں جس کے بعد پاکستانی فوجی عہدیداروں نے بعض کی دراندازی کو روکنے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ چینی فوجی بعض انفراسٹرکچر خطہ قبضہ کے پاس قائم کرنے کیلئے آئی تھی ۔ ذرائع کے بموجب جو ان تبدیلیوں سے واقف ہوں آج کہاکہ فوج نے سرکاری طور پر اس مسئلہ پر گہری خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن مسلسل مختلف سراغ رسانی محکمہ تازہ ترین اطلاعات چینی فوج کی خطہ قبضہ پر موجودگی کے بارے میں روانہ کررہے ہیں ۔ چینی فوج سب سے پہلے گذشتہ سال کے اوآخر میں دیکھی گئی تھی اور اس کے بعد سے ان کی موجودگی ٹنگ دھر سیکٹر میں بھی دیکھی گئی ۔ اس علاقہ میں چینی ملکیت کے گیز بوبا گروپ کمپنی لمٹیڈ جہلم ۔ نیلم 970 میگاواٹ ہائیڈل پاؤر پراجکٹ تعمیر کررہی ہے ۔یہ پراجکٹ ہندوستان کی جانب سے کشن گنگا پاؤر پراجکٹ کی شمالی کشمیر کے علاقہ بندی پورہ میں تعمیر کا ردعمل کہا جارہا ہے ۔

ہندوستان کے پراجکٹ کا مقصد دریا کشن گنگا کے پانی کو دریائے جہلم کے طاس کی طرف موڑ کر بجلی پیدا کرنا ہے ۔ اس کی صلاحیت 330میگاواٹ ہوگی۔ اس پراجکٹ کی تعمیر کا آغاز 2007ء میں ہوا تھا اور توقع ہے کہ جاریہ سال یہ پراجکٹ مکمل ہوجائے گا ۔ دراندازیوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ چینی فوج بعض سرنگیں وادی لیپا میں کھودے گی جو پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں واقع ہے تاکہ سدابہار سڑک تعمیر کی جائے جو شاہراہ خراخرم پہنچنے کا متبادل راستہ ہوگی ۔ چینی فوجی عہدیداروں کے دورہ کو ماہرین کا دورہ سمجھا جارہا ہے جو چین ۔ پاکستان معاشی راہداری مالیتی 46 ارب امریکی ڈالر تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت کراچی کی گوادر بندرگاہ کو چینی صوبہ ژن جیانگ سے براہ خراخرم شاہراہ مربوط کیا جائے گا ۔ اس علاقہ پر چین کا غیرقانونی قبضہ ہے ۔ چونکہ معاشی راہداری پراجکٹ کو قطعیت دی جاچکی ہے ۔ گذشتہ سال ہندوستان نے چینی فوج کی گلگت اور بلتستان میں موجودگی کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا ہے ۔ کیونکہ یہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کا ایک حصہ ہے اور چینی فوج کی یہاں موجودگی ہندوستان کیلئے ناقابل قبول ہے ۔

TOPPOPULARRECENT