Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / پاکستانی میں ہندوستان سے معمول کے تعلقات کی صلاحیت نہیں

پاکستانی میں ہندوستان سے معمول کے تعلقات کی صلاحیت نہیں

صدر امریکہ کی تبدیلی سے ہند۔امریکہ تعلقات غیر متاثر، مشیر قانونی سلامتی شیوشنکر مینن کا بیان
نیویارک۔4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی سیاست میں ہندوستان کے ساتھ حسب معمول تعلقات مستقل طور پر بحال کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ سابق معتمد خارجہ موجودہ مشیر قومی سلامتی شیوشنکر مینن نے دونوں پڑوسی نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان تعلقات کی خصوصیت ’’دشمنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ دشمنی دور کرلی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ مینن پاکستان میں ہندوستانی سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے تعلق سے کئی مسائل ایک طویل مدت تک برقرار رہ چکے ہیں۔ ہم مسئلہ کا حل جانتے ہیں۔ ہم میں سے کئی کے لئے سیاسی طور پر اس پر عمل آوری مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال موجودہ پاکستانی سیاست میں ہندوستان کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ 26 نومبر کے دہشت گرد حملے کے بعد دونوں ممالک کے حسب معمول تعلقات کی بحالی کے امکان موہوم ہیں۔ مختلف عالمی مسائل جیسے شام، روس اور یمن کے بارے میں امریکہ سے مختلف موقف اختیار کرنے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مینن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہندوستان کو مستقل رکن بنانے کے لئے امریکہ ہماری تائید میں ووٹ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ایک نشست کے لئے اتنی تاخیر پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں انقلابی تبدیلی آچکی ہے اور امریکہ کے ساتھ تعاون جاری ہے اور ان کے خیال میں یہ تعاون امریکہ کے حق میں بھی مفید ہے۔ صدارتی انتخابات کے سلسلہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے شیوشنکر مینن نے کہا کہ ہند۔امریکہ تعلقات اب تک دو طرفہ رہے ہیں۔ انقلابی تبدیلی کا پوری عمل گزشتہ 15 سال سے جاری ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں کئی سیاسی اتحاد دیکھے جاچکے ہیں۔ انہوں نے ایک پینل ڈسکشن میں جو جنوبی ایشیا سنٹر نیویارک یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ مباحث میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی مودی زیر قیادت حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ہیلاری کلنٹن صدر منتخب ہوتی ہیں یا ڈونالڈ ٹرمپ صدر امریکہ بنتے ہیں کیوں کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مشترک اقدار پر مبنی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT