Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / پاکستانی وزیراعظم نے میرے والد کے انتقال پر گھر آکر پُرسہ دیا تھا : ہیڈلی

پاکستانی وزیراعظم نے میرے والد کے انتقال پر گھر آکر پُرسہ دیا تھا : ہیڈلی

۔26/11 کیس میں گواہ معافی یافتہ کا یوسف رضا گیلانی کے تعلق سے سنسنی خیز انکشاف …

ممبئی ، 25 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک نئے موڑ میں پاکستانی۔ امریکی دہشت گرد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے آج انسداد دہشت گردی کی عدالت کے روبرو حلفیہ بیان میں کہا کہ 2008ء میں 26/11 کے ممبئی حملوں کے چند ہفتوں بعد اُس کے والد کے انتقال پر پُرسہ دینے کیلئے اُس وقت کے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی اُس کے مکان آئے تھے۔ جرح کے تیسرے روز عدالت کے روبرو بیان قلمبند کراتے ہوئے ہیڈلی نے یہ بھی کہا کہ 1971ء میں ہند۔ پاک جنگ کے دوران اُس کا اسکول بم کا نشانہ بن جانے کے بعد بچپن ہی سے اسے ہندوستان کے تئیں ’’نفرت کا احساس‘‘ رہا ہے۔ اس کیس میں گواہ معافی یافتہ بن جانے والے لشکر طیبہ کے 55 سالہ کارندہ سے امریکہ سے براہ ویڈیو لنک عبدالوہاب خان جرح کررہے تھے، جو ابوجندال کے وکیل ہیں، جو 2008ء کے ممبئی محاصرہ کا مبینہ کلیدی سازشی ہے۔ ہیڈلی نے خصوصی جج جی اے سنپ کو بتایا: ’’یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اُس وقت کے وزیراعظم پاکستان …یوسف رضا گیلانی… نے میرے والد کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی، جن کا ممبئی دہشت گرد حملوں کے ایک ماہ بعد 26 ڈسمبر 2008ء کو انتقال ہوا۔ درحقیقت، وہ (گیلانی) اس کے چند ہفتوں بعد (پاکستان میں) ہمارے مکان گئے تھے۔‘‘

ایک اور سوال پر ہیڈلی نے کہا کہ اُس کے والد جو پاکستان ریڈیو سے وابستہ ڈائریکٹر جنرل تھے، لشکر طیبہ کے ساتھ اُس کے روابط سے واقف تھے لیکن اس تعلق سے خوش نہیں تھے۔ یہ پوچھنے پر آیا یہ سچ ہے کہ اس کا سوتیلا بھائی ڈانیل اُس کے لشکرطیبہ ربط سے واقف تھا، ہیڈلی نے بس اتنا کہا کہ وہ (ڈانیل) اس وقت (پاکستان میں) اسی شہر میں مقیم نہیں تھا۔ ہیڈلی نے جسے نومبر 2008ء کے حملوں میں اُس کے رول کیلئے امریکہ میں ماخوذ کیا جاچکا ہے، ممبئی میں تباہ کن حملوں سے قبل پاکستان کو اپنے دورہ کے دوران ڈانیل کا موبائل فون استعمال کرنے کی تردید بھی کردی۔ وہ امریکہ میں 35 سال کی سزائے قید بھگت رہا ہے۔

یہ بیان کرتے ہوئے کہ 1971ء کی ہند۔پاک جنگ کے دوران اُس کا اسکول بمباری کا نشانہ بن جانے کے بعد اسے ہندوستان کے تئیں نفرت ہوگئی تھی، ہیڈلی نے کہا، ’’اس حملے میں لوگ ہلاک ہوئے تھے اور وہ ایک وجہ رہی کہ میں لشکرطیبہ میں کیونکر شامل ہوا۔‘‘ وکیل صفائی کے ایک سوال کے جواب میں لشکرطیبہ دہشت گرد نے کہا کہ اُس نے اپنے دوست طہور حسین رانا سے کہا تھا کہ 26/11 کے تمام 9 دہشت گردوں کو پاکستان کا بہادری پر اعلیٰ ترین انعام ’نشانِ حیدر‘عطا کیا جانا چاہئے۔ 26/11 کیس میں رانا پر بھی مقدمہ چلایا گیا اور امریکی عدالت نے اسے الزامات منسوبہ سے بری کردیا۔ ہیڈلی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اسے لشکرطیبہ میں کوئی ویمن سل اور خودکش بمبار سل کے وجود کا علم نہیں ۔ اس نے تردید کردی کہ این آئی اے نے اسے (اس کیس میں) عشرت جہاں کا نام لینے کی ترغیب دی۔ اُس نے اپنے جاریہ حلفیہ بیان سے قبل اسپیشل پبلک پراسکیوٹر اُجول نکم اور جوائنٹ کمشنر آف پولیس اتل کلکرنی سے امریکہ میں ملاقات کی بھی تردید کردی۔ ہیڈلی نے کہا کہ لشکرطیبہ کے کلیدی شخص ساجد میر سے اسے معلوم ہوا تھا کہ 26/11 کے دہشت گرد حملوں سے عین قبل 2008ء میں ہی دو ناکام حملے ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT