Wednesday , August 16 2017
Home / پاکستان / پاکستانی وکلائے استغاثہ شیعہ قتل عام مقدمہ سے دستبردار

پاکستانی وکلائے استغاثہ شیعہ قتل عام مقدمہ سے دستبردار

کراچی ۔ 21 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دو سرکاری وکلائے استغاثہ نے جو اقلیتی شیعہ اسمیعیلی مسلمانوں کی ہلاکتوں کے مقدمہ میں پاکستان میں پیروی کررہے تھے، اس سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اس کیلئے صیانتی وجوہات کا عذر پیش کیا ہے۔ گذشتہ مئی میں دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے 45 شیعہ اسلامی مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ وکلاء محمد خان بورندو اور مبشر مرزا جو انسداد دہشت گردی عدالتوں میں وکلائے استغاثہ کی حیثیت سے برسرکار تھے، اس مقدمہ سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ مرزا نے کہاکہ وہ بورندو نے صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے ان کی شکایات اور اندیشوں کا ازالہ نہ کرنے کی بناء پر اس مقدمہ کی پیروی سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب محکمہ داخلہ کو روانہ کرتے ہوئے نیم فوجی رینجرس کا تحفظ ان کی رہائش گاہوں پر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مرزا نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس مقدمہ میں شامل افراد کو عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دی ہوئی تنظیم القاعدہ اور خودساختہ دولت اسلامیہ گروپ کے خلاف مناسب تحفظ فراہم کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT