Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستانی ٹسٹ ٹیم کا روشن مستقبل ، اوول میں فتح اہم : مصباح

پاکستانی ٹسٹ ٹیم کا روشن مستقبل ، اوول میں فتح اہم : مصباح

لندن ، 16 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے اوول ٹسٹ میں انگلینڈ کے خلاف شاندار انداز واپسی کرتے ہوئے چار میچوں کی سیریز 2-2 سے برابر کردی اور کپتان مصباح الحق کے مطابق نیشنل ٹیم کی کارکردگی تحریک آزادی سے متاثرہ تھی جس کی بدولت پاکستان نے 69 سال قبل آزادی حاصل کی۔ دو دن قبل 14 اگست کو مصباح الیون نے انگلینڈ کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر یوم آزادی کو یادگار بنانے کے ساتھ ساتھ سیریز بھی 2-2 سے برابر کردی تھی۔ 42 سالہ مصباح نے فرانسیسی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں کہا کہ یہ تحریک پاکستان جیسا تھا جب قائد اعظم نے مشکل اور کٹھن وقت میں بھی سخت محنت نہیں چھوڑی۔ میں نے اسکواڈ میں شامل تمام نوجوان کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز برابر کرنے کے بعد مصباح نے ٹسٹ ٹیم کے روشن مستقبل کی نوید سنائی۔ انہوں نے کہا کہ اوول کی فتح صرف اس لئے خوش آئند نہیں کہ ہم نے یوم آزادی پر کامیابی حاصل کی بلکہ اس سے ہمیں اپنے مستقبل کی ٹسٹ ٹیم کیلئے مثال قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ جب میں نے قیادت کا منصب سنبھالا تو میرا مقصد یہی تھا۔ لہٰذا، اس فتح کی بدولت مجھے مستقل کی ٹسٹ ٹیموں کیلئے مثال قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ 2010ء کے دورۂ انگلینڈ میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث اُس وقت کے کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کو سزا ہونے کے بعد کڑے وقتوں میں مصباح الحق کو پاکستانی ٹیم کی قیادت کا مشکل کام سونپا گیا جسے انہوں نے احسن طریقے سے نبھایا۔ گزشتہ چھ سال کے دوران مصباح نے نہ صرف ٹیم کو متحد رکھا بلکہ اس دوران ٹیم کا کسی بھی قسم کا اسکینڈل سامنے نہ آیا جو اُن کی بحیثیت کپتان ایک اور بڑی کامیابی ہے۔ ’’میرے لئے ٹیم کو متحدہ رکھنا بہت اہم تھا اور اتحاد کے نتیجے میں ہمیشہ اچھے نتائج سامنے آتے ہیں حتیٰ کہ انگلینڈ کی چیلنج بھری صورتحال میں بھی‘‘۔ پاکستانی کپتان نے کہا کہ یہ سیریز ٹیم کی تیاری میں ایک عرصے تک مددگار ہو گی کیونکہ اگلے چھ ماہ میں ہمیں ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز کھیلنا ہے۔ مصباح نے لارڈز ٹسٹ میں شاندار سنچری اسکور کر کے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس کے بعد ٹیم کو اولڈ ٹرافورڈ اور ایجبسٹن میں بالترتیب 330 اور 141 رنز کے بھاری فرق سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس شکست کے بعد ایک بار پھر 2010ء کی سیریز کی طرح 3-1 سے شکست کے خدشات اُبھر رہے تھے لیکن پاکستان نے اوول میں عمدہ کارکردگی کے ساتھ فتح کے ذریعہ سیریز 2-2 سے برابر کردی۔

TOPPOPULARRECENT