Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / پاکستانی پولیس تربیتی کالج پر دہشت گرد حملہ، 61 ہلاک

پاکستانی پولیس تربیتی کالج پر دہشت گرد حملہ، 61 ہلاک

۔20زخمیوں کی حالت نازک، دولت اسلامیہ نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کم از کم 61 افراد جن میں سے بیشتر نوجوان کیڈٹس تھے، قتل کردیئے گئے اور دیگر 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے جبکہ زبردست مسلح دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے ایک پولیس تربیتی مرکز پر حملہ کیا۔ یہ پاکستان میں مہلک ترین دہشت گرد حملوں میں سے ایک ہے۔ کئی گھنٹے طویل حملے کے دوران جس میں تقریباً 700 امیدوار شریک تھے، آج صبح کی اولین ساعتوں تک جاری رہا۔ کم از کم 3 بندوق بردار زبردستی کوئٹہ کے وسیع پولیس تربیتی کالج میں کل رات داخل ہوگئے اور رکروٹس کے سونے کے کوارٹرس کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پہلے نگرانی مینار پر موجود پولیس چوکیدار کو ہلاک کردیا گیا۔  عینی شاہدین کے بموجب حملہ آور کلاشنیکوف رائفلوں سے مسلح تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حملہ ہم آہنگی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے تربیتی مرکز پر 5 مختلف مقامات سے فائرنگ کی۔ بیشتر اموات اُس وقت واقع ہوئیں جبکہ 2 حملہ آوروں نے خود کو دھماکہ سے اُڑالیا۔ تیسرے کو فرنٹیر کور کے فوجیوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ سرکاری عہدیداروں کے بموجب ہلاک ہونے والے 61 افراد میں سے بیشتر پولیس کیڈٹس تھے لیکن چند مہلوکین فوجی بھی تھے جنھوں نے حملہ کا جواب دیا تھا۔125 سے زیادہ افراد دواخانہ میں شریک کردیئے گئے جن میں سے 20 کی حالت نازک ہے۔ آئی جی فرنٹیر کور میجر جنرل شیر افغان نے کہاکہ سمجھا جاتا ہے کہ 3 دہشت گرد العلیمی گروپ لشکر جھانگوی سے الحاق رکھتے ہیں جبکہ لشکر جھانگوی پاکستانی طالبان کا ایک گروپ ہے۔

اُنھوں نے اخباری نمائندوں سے کہاکہ عسکریت پسند افغانستان میں مواصلات کا کام کیا کرتے تھے اور اُنھیں اُن سے ہدایات ملتی تھیں۔ تمام تینوں حملہ آور خودکش جیکٹیں پہنے ہوئے تھے۔ بعدازاں دولت اسلامیہ گروپ نے اِس حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی۔ اُس نے کہاکہ حملہ آور حملے کے لئے تعینات کئے گئے تھے تاہم حملہ کا مقصد ظاہر نہیں کیا۔ لشکر جھانگوی کی بنیادیں پاکستانی صوبہ پنجاب میں ہیں۔ پاکستان کی فوج کے طاقتور سربراہ جنرل راحیل شریف صورتحال کا جائزہ لینے کوئٹہ پہونچ گئے۔ اُنھوں نے مہلوکین کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور کالج کا دورہ کیا اور سمجھا جاتا ہے کہ عہدیداروں نے اُنھیں حملوں کی تفصیلات سے واقف کروایا تھا۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف کوئٹہ پہونچ گئے اور اُنھوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اُنھوں نے آج کی اپنی دیگر تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں۔ عہدیداروں کو خوف ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا کیوں کہ بعض زخمی نازک حالت میں ہیں۔ وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگتی نے توثیق کی کہ حملہ 3 دہشت گردوں نے کیا تھا۔ بگتی نے دعویٰ کیاکہ حملہ کے بعد پولیس نے تلاشی کارروائی شروع کردی جو ہنوز جاری ہے۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ زخمی افراد جن میں سے بیشتر پولیس کیڈٹ اور فوجی ہیں، سیول ہاسپٹل گولان میڈیکل کالج ہاسپٹل اور فوجی ہاسپٹل کوئٹہ میں شریک ہیں۔

TOPPOPULARRECENT