Sunday , October 22 2017
Home / پاکستان / پاکستان ، ہندوستان کو اچھے ہمسایہ کی طرح رہنا چاہئے : نواز شریف

پاکستان ، ہندوستان کو اچھے ہمسایہ کی طرح رہنا چاہئے : نواز شریف

میں نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو دل سے اُٹھایا تھا، تعلقات کو بہتر بنانے کی بھی تجویز رکھی

لاہور ۔ 10 اکٹوبر۔(سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے آج کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کو ’’اچھے ہمسایہ‘‘ کی طرح رہنا چاہئے ۔ مذاکرات کے ذریعہ ہی کشمیر کے بشمول تمام مسائل کی یکسوئی کی جاسکتی ہے ۔ میں نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو دل کی گہرائیوں سے اُٹھایا تھا اور یہ مسئلہ اُٹھانا بڑے حوصلے کی بات ہے ۔ میں نے جو کچھ کہا وہ میرے دلی جذبات کی عکاسی تھی ۔ مسئلہ کے بارے میں میری رائے کو پیش کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا بھی ہندوستان کو مشورہ دیا ہے ۔ ہم کو ( ہند۔ پاک ) اچھے ہمسایہ ملکوں کی طرح رہنا چاہئے اور مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا چاہئے ۔ نواز شریف یہاں گورنر ہاوز میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ انھوں نے اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ کشمیر پر اس کی (اقوام متحدہ ) قرارداد پر توجہ دے یہ پاکستان کی نہیں بلکہ اس عالمی ادارہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قرارداد پر عمل آوری کو یقینی بنائے۔ میں نے سچ بیانی سے کام لیا ہے جبکہ میں نے اُن کی آنکھوں میں جھانک کر یہ بات کہی تھی کہ اقوا م متحدہ کو ازخود یہ محسوس کرنا چاہئے کہ کشمیر پر اس کی قرارداد کو روبہ عمل لایا جائے ۔

گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں نواز شریف نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے چار نکاتی فارمولہ کی تجویز رکھی تھی ۔ انھوں نے کشمیر سے فوج ہٹالینے کی بھی تجویز پیش کی تھی ۔ سیاچن سے ہندوستانی فوج کی فوری اور غیرمشروط دستبرداری پر زور دیا تھا اور سرحدی جنگ بندی کو یقینی بناتے ہوئے جامع مذاکرات کے احیاء کی خواہش کی تھی ۔ وزیراعظم پاکستان نے مزید کہا کہ ہم نے افغانستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھی ہے ۔ ہم افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے حقیقی طورپر سخت محنت کی ہے ۔ طالبان سربراہ ملا عمر کے انتقال کی خبروں کے بعد پاکستان کے ساتھ بات چیت تعطل کا شکار ہوئی ہے اور اس خبر نے ہماری کوششوں کو سبوتاج کردیا ۔ میں یہ نہیں جان سکا کہ آخر ملا عمر کے انتقال کے دو سال بعد اس خبر کو جاری کیا گیا جبکہ طالبان کے ساتھ حکومت پاکستان کی بات چیت اہم مرحلہ میں داخل ہوئی تھی ۔ پاکستان پھر ایک بار طالبان اور افغان حکومت کو بات چیت کی میز پر لانے کی کوشش کررہا ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت 2018 کے عا م انتخابات کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل کریگی کیوں کہ عوام ان کی حکومت کی کارکردگی سے خوش ہیں ۔ انھوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی اور کارناموں کی بھی تفصیلات پیش کیں۔ صحت ، تعلیم ، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں اُن کی حکومت نے نمایاں کام انجام دیئے ہیں۔ ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے کیوں کہ ان کی حکومت کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں۔

TOPPOPULARRECENT