Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / پاکستان امریکی مفاد کے خلاف سرگرم ، جوابدہی کی ضرورت

پاکستان امریکی مفاد کے خلاف سرگرم ، جوابدہی کی ضرورت

واشنگٹن۔ 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی قانون ساز جو پاکستان کے امریکہ سے غیرحقیقی تعلقات پر کچھ بوکھلائے ہوئے ہیں، نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے مفاد کے خلاف مسلسل اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے پر پاکستان کو ہی موردالزام ٹھہرایا چاہئے۔ ری پبلیکن کانگریس میں ٹیڈپو نے واشنگٹن ٹائمز میں پاکستان کی غیرحقیقت پسندی کی طویل تاریخ کے موضوع پر ایک مضمون تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ چاہتے ہوئے بھی تعلقات منقطع نہیں کرسکتا کیونکہ اتحادی افواج کے لئے رسد فراہمی کا راستہ جو افغانستان میں ہے، وہ پاکستان سے ہوکر گزرتا ہے تاہم اس رابطہ کا حصول بھی مفت نہیں ہوا ہے جبکہ پاکستان نے اپنی اور امریکی فورسیس کے درمیان میں ہوئی جھڑپوں کے بعد متعدد بار اس لائن کو مسدود کیا ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کیلئے انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان پاکستان مخالف دو قوانین متعارف کئے ہیں۔ پہلا قانون پاکستان ایک بڑے غیرناٹو ملک کے موقف کو ختم کرنا ہے جو 2004ء میں اس وقت کے صدر کے جارج بش نے پاکستان کو عطا کیا تھا تاہم اس وقت سابق صدر نے یہ موقف اس لئے عطا کیا تھا کہ پاکستان القاعدہ اور طالبان کے خلاف امریکی لڑائی میں اس کی مدد کرے۔ دوسرا قانون یہ ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اس بات کی جانچ پڑتال کرے گا کہ وہ پاکستان کی اس طویل تاریخ کا جائزہ لے جو دہشت گردوں کے ساتھ تعاون سے رقم ہے اور اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آیا پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک ہے یا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT