Sunday , September 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان اور انگلینڈ آج پہلے سیمی فائنل میں مدمقابل

پاکستان اور انگلینڈ آج پہلے سیمی فائنل میں مدمقابل

کارڈف، 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) سنسنی خیز کامیابی کے ساتھ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں پہنچی پاکستانی ٹیم کل یہاں انگلینڈ کے خلاف کارڈف میں دوبارہ بہترین مظاہرے کے لئے پرعزم ہے ۔پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے سری لنکا کے خلاف اپنی ٹیم کو نازک حالات سے ابھارتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ دلائی۔ کارڈف کے اسی میدان پر اس کی تین وکٹ کی جیت کافی کرشمائی رہی اور وہ امید کرے گا کہ اپنے گزشتہ تینوں میچ جیت چکی میزبان انگلینڈ کے سامنے وہ اسی کارکردگی کو دہراتے ہوئے اس اہم مقابلے میں بھی کامیابی حاصل کرے ۔ چیمپئنز ٹرافی میں ‘انڈر ڈاگ’ کے طور پر اتری پاکستانی ٹیم کو ہندستان کے خلاف ھائی وولٹیج میچ میں شکست ہوئی تھی لیکن اس کے بعد اپنے گزشتہ دونوں میچوں میں اس نے جنوبی افریقہ کے خلاف ڈک ورتھ لوئیس قوانین سے 19 رن سے اور پھر سری لنکا کے خلاف تین وکٹ سے میچ جیتے اور سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ اس کی کارکردگی سے پاکستانی ٹیم کا حوصلے کافی بلند ہوئے ہیں ۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف میچ میں ایک وقت 237 رن کے بڑے ہدف کے سامنے 162 رن پر ہی اپنے سات وکٹ گنوا دیئے تھے ۔ لیکن پھر سرفراز کی ناٹ آؤٹ 61 رنز کی کپتانی اننگز نے پورا میچ ہی الٹ دیا۔ وہیں محمد عامر (ناٹ آؤٹ 28) نے دباؤ میں اچھا ساتھ دیا اور آٹھویں وکٹ کے لئے 75 رن کی ساجھے داری نے ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا۔ اسی میدان پر گزشتہ سال سرفراز نے انگلینڈ کے خلاف ونڈے سیریز کے میچ میں 303 رنوں کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 90 رنز بنائے تھے اور پاکستانی کپتان سے پھر اسی طرح کی اننگز کی توقع رہے گی۔سرفراز نے بھی سری لنکا کے خلاف میچ کے بعد کہاگزشتہ سال ہم نے اسی میدان پر انگلینڈ کے خلاف 300 رنز کے ہدف کا تعاقب کیا اور سیریز کا آخری ون ڈے یہیں کھیلا تھا۔ہمیں کارڈف میں کھیلنے کا اچھا تجربہ ہے ۔گزشتہ دونوں میچوں میں کامیابی سے پاکستان کا حوصلہ کافی بلند ہوا ہے بلکہ توجہ دینا ہوگی کہ انگلینڈ نے اپنی محدود فارمیٹ میں کافی مثبت بہتر کیا ہے اور موجودہ ٹورنمنٹ میں وہ واحد ایسی ٹیم ہے جو ناقابل تسخیر ہے۔ انگلینڈ نے بنگلہ دیش کو آٹھ وکٹ، نیوزی لینڈ کو 87 رن اور آسٹریلیا کو ڈک ورتھ لیوس قوانین سے 40 رن سے شکست دی اور سب سے پہلے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے ۔ گھریلو حالات میں وہ اور بھی جارحانہ نظر آرہی ہے اور پاکستان کے لئے اسے شکست دینا یقیناً باقی ٹیموں کو شکست دینے کے مقابلے میں بڑا چیلنج رہے گا۔ پاکستان کے پاس محمد عامر، جنید خان، حسن علی، فہیم اشرف، محمد حفیظ کے طور پر اچھے بولر ہیں لیکن بیٹنگ میں اس کو بہتری کی ضرورت ہے ۔ رنوں کے لحاظ سے ٹیم سرفراز، اظہر علی، فخر زمان پر منحصر ہے لیکن مڈل آرڈر تشویش کا باعث ہے ۔ اسٹار کھلاڑی شعیب ملک گزشتہ تینوں میچوں میں ناکام رہے ہیں جنہوں نے 11، 16 اور 15 رنز ہی بنائے ہیں۔دوسری طرف میزبان انگلینڈ کے محدود اوورس کے کھیل میں 2015 عالمی کپ کے بعد سے کافی تبدیلی آئی ہے اور اس نے اپنے آخری 12 ونڈے میں 11 میچ جیتے ہیں۔ انگلینڈ کے پاس کپتان مورگن، الیکس ہیلز، بین اسٹوکس، جو روٹ، اور جوس بٹلر رنز بنائے ہیں۔ اگرچہ اوپنر ہیلز مسلسل مایوس کر رہے ہیں ۔آسٹریلیا کے خلاف تینوں بیٹسمینوں کے جلد آؤٹ ہونے پر اسٹوکس کی ناٹ آؤٹ 102 رن اور کپتان کی 87 رن کی اننگز اہم رہی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT