Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / پاکستان اور بنگلہ دیش ،ہندوستان کے دو بازو تھے : کمل ہاسن

پاکستان اور بنگلہ دیش ،ہندوستان کے دو بازو تھے : کمل ہاسن

بوسٹن۔ 8 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندی، تمل، کنڑ اور تلگو فلموں کے مشہور اداکار کمل ہاسن جو ہمیشہ سے لفظ رواداری کے مخالف رہے ہیں جس کے لئے انہوں نے ہمیشہ یہ دلیل پیش کی ہے کہ ملک کی تمام قوموں کو ایک دوسرے سے رواداری نہیں بلکہ ایک دوسرے کو قبول کرتے ہوئے ملک کی سالمیت اور یکجہتی کو برقرار رکھنا ہوگا۔ باوقار ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ ’’فائر سائیڈ چیاٹ‘‘ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک نے پہلے ہی اپنے دو بازو کھو دیئے ہیں۔ ایک پاکستان اور دوسرا بنگلہ دیش لہذا اب ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ملک کی یکجہتی کو برقرار رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ انہوں نے اس کی مثال سردیوں میں استعمال کئے جانے والے سوئٹر سے دی جیسے مختلف رنگوں کے اون سے بُنا جاتا ہے۔ اگر ہم اسے بُنے ہوئے سوئٹر میں سے کسی ایک رنگ کے اون کو نکالنے کی کوشش کریں گے تو وہ سوئٹر ہی باقی نہیں رہے گا۔ ہم اپنے سوئٹر کی آستینیں (پاکستان اور بنگلہ دیش) پہلے ہی کھوچکے ہیں لہذا اب جو بھی بچا کھچا سوئٹر سے اسے ہمیں اپنے پاس ہی رکھنا ہے کیونکہ اب سردیاں ہورہی ہیں۔ یہ سنتے ہی ان کے اس ریمارک پر تمام طلباء نے تالیاں بجاکر ان کی ستائش کی۔ کمل ہاسن نے یہ بات اس وقت کہی جب اُن سے ایک طالب علم نے پوچھا کہ ہندوستان سے بالی ووڈ کے فلمی اداکار عامر خان اور شاہ رخ خاں کی جانب سے حالیہ دِنوں میں عدم رواداری سے متعلق کافی بیانات دیئے جارہے ہیں۔ اس بارے میں ان کا (کمل) کیا خیال ہے؟ کمل ہاسن نے کہا کہ وہ ’’رواداری‘‘ لفظ کے استعمال کے خلاف ہیں، کیا آپ اپنے کسی دوست کے ساتھ رواداری کا رویہ اپنائے ہو یا اسے اس کی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرتے ہو لہذا یہی بات مسلمانوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ ان سے رواداری نہیں بلکہ انہیں قبول کیجئے۔ وہ آپ کے ابنائے وطن ہیں اور جو شہری حقوق آپ کو حاصل ہیں۔ وہ انہیں بھی حاصل ہیں۔ عدم رواداری اس لئے ہے کہ آپ اس کے ساتھ رواداری کا سلوک کررہے ہیں۔ عدم رواداری کو ہی ترک کیجئے۔ ہندوؤں کو بھی اپنا دوست سمجھیں، اس طرح مسلمانوں کو بھی ہندوستانی پرچم کے سبز رنگ کی طرح الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رہے کہ حالیہ دونوں میں ہندوستان میں عدم رواداری کے موضوع پر کافی گرماگرم بحث و مباحثہ ہوئے تھے، جن میں رائٹرس، فنکاروں اور سیول سوسائٹی کے ارکان نے حصہ لیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT