Monday , September 25 2017
Home / پاکستان / پاکستان :اہانت اسلام قانون کے بیجا استعمال کو روکنے پر زور

پاکستان :اہانت اسلام قانون کے بیجا استعمال کو روکنے پر زور

اسلام آباد 12 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کی ایک عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اہانت اسلام قانون کے شخصی مفادات کیلئے بیجا استعمال کو روکنے کیلئے اس میں تبدیلی لائے اور اس قانون کا بیجا استعمال کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں تجویز کرے ۔ پاکستان میں اہانت اسلام کیلئے سزائے موت سنائی جاتی ہے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کل یہ فیصلہ جاری کیا جو ایک مقدمہ سے متعلق تھا ۔ اس مقدمہ میں استدعا کی گئی تھی کہ سوشیل میڈیا سے اہانت اسلام کے مواد کو حذف کیا جائے ۔ 116 صفحات پر مشتمل طویل فیصلے میں جسٹس صدیقی نے تجویز کیا کہ پارلیمنٹ میں اہانت اسلام قانون کو مزید سخت بنایا جائے اور اگر کوئی شخص اس قانون کا شخصی مفادات کیلئے بیجا استعمال کرتا ہے تو اس کیلئے بھی وہی سزائیں مقرر کی جائیں جو واقعتا ایسا کرنے والوں کیلئے طئے ہیں۔
اخبار ڈان نے یہ اطلاع دی ۔ جج نے یہ واضح کیا کہ کس طرح سے لوگ اپنے شخصی عناد کیلئے اپنے مخالفین کو اہانت اسلام مقدمات میں پھانس رہے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف ملزمین کی زندگیوںکو خطرہ لاحق ہو رہا ہے بلکہ اس کے تمام افراد خاندان اور رشتہ داروں کیلئے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ موجودہ قانون کے تحت اہانت اسلام قانون کا بیجاا ستعمال کرنے والوں کو صرف چھ ماہ قید کی سزا اور ایک ہزار روپئے جرمانہ ہی عائد کیا جاتا ہے ۔ جج نے کہا کہ کسی پر بھی اہانت اسلام جیسے سنگین قانون کو جھوٹے انداز میں لاگو کرنے والوں کیلئے یہ سزا بہت کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے بیجا استعمال کے نتیجہ ہی میں ناقدین نے اس قانون ہی کو برخواست کرنے پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس قانون کو ختم کرنے کی بجائے اسے بہتر بنانا ہی اچھا راستہ ہے ۔ جج نے اس معاملہ کو مقننہ سے رجوع کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس قانون کو مزید سخت بناتے ہوئے اس کے بیجا استعمال کرنے والوں کیلئے بھی سخت سزائیں مقرر کی جانی چاہئیں۔

 

TOPPOPULARRECENT