Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا ’محور‘ عالمی سطح پر فیصلہ کن کارروائی ضرور ی

پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا ’محور‘ عالمی سطح پر فیصلہ کن کارروائی ضرور ی

دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں سے بھی خطرہ ،امن و ترقی پر منفی اثر ،برکس چوٹی اجلاس سے وزیراعظم مودی کا خطاب

بیناولم (گوا) /16 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کو دنیا بھر میں دہشت گردی کا ’’محور‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اس سے نمٹنے کیلئے فیصلہ کن عالمی ایکشن پلان پر زور دیا جن میں بتدریج فنڈس کو روکنا ، ہتھیاروں کی سربراہی پر قابو ، ٹریننگ اور دہشت گرد تنظیموں کو سیاسی پشت پناہی ختم کرنا شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے ایک طئے شدہ لائحہ عمل کے نتیجہ میں نہ صرف سود مند نتائج برآمد ہوں گے بلکہ یہ اقدام انتہائی موثر بھی ثابت ہوگا ۔ وزیراعظم نریندر مودی آج  برکس چوٹی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے پاکستان کی سخت مذمت کی اور کہا کہ ہندوستان کے پڑوس میں ایک ملک نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے بلکہ ایسی ذہنیت کو ابھارتا بھی ہے جو دہشت گردی کو سیاسی فائدے کی خاطر درست ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقہ میں دہشت گردی یہاں کے امن ، سکیورٹی اور ترقی کے لئے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں اس ملک میں پیوست ہیں جو ہندوستان کے پڑوس میں ہے ۔

دنیا بھر میں جہاں بھی دہشت گردی ہو اس کا تعلق اپنے محور سے ہوتا ہے ۔ اس چوٹی اجلاس میں صدر چین ژی جن پنگ ، صدر روس ولادیمیر پوٹین ، صدر برازیل مائیکل ٹیمر اور صدر جنوبی افریقہ جیکب زوما شریک ہیں ۔ برکس پلینری سیشن سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا جواب جامع اور موثر طور پر دینا ہوگا اور تمام ممالک کو انفرادی و اجتماعی  طور پر عملی اقدامات کرنے چاہئیے ۔ نریندر مودی نے بین الاقوامی دہشت گردی پر جامع کنونشن کا مسودہ جلد منظور کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرتے ہوئے ہم یہ ثبوت دے سکتے ہیں کہ اس لعنت کے خاتمہ میں تمام ممالک سنجیدہ ہیں ۔ آج ہم جس دنیا میں زندگی گزاررہے ہیں سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی تعاون ضروری ہے ۔ دہشت گردی نے ہماری ترقی اور معاشی خوشحالی پر اثرات مرتب کئے ہیں ۔ اب یہ عالمی شکل اختیار کرچکی ہے ۔ اب یہ انتہائی مہلک بن گئی ہے اور عصری ٹکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔ ایسے میں ہمارا دہشت گردی کے خلاف سخت جواب ہونا چاہئیے اور یہ جامع ہونا بھی ضروری ہے ۔ انہوں نے قومی سلامتی مشیران کے مابین سکیورٹی تعاون میں اضافہ پر زور دیا ۔ نریندر مودی نے کل پوٹین اور ژی جن پنگ سے ملاقات کے دوران بھی پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی پر ہندوستان کی تشویش سے واقفکرایا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کی مدد کرنے والوں کو سزاء ملنی چاہئیے انعام نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے اپنے اثرات اس قدر پھیلادیئے کہ اب مشرق وسطی ، مغربی ایشیاء ، یوروپ اور جنوبی ایشیاء کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے ۔ اس کے پرتشدد اثرات نے ہمارے شہریوں کی زندگی کو جوکھم میں ڈال دیا اور معاشی ترقی کے نشانوں میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔

پاکستان کو یکا و تنہا کرنے میں کامیابی
وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی اور اس کی حمایت کرنے والوں سے نمٹنا برکس کی اولین ترجیح ہوگی ۔ انہوں نے سالانہ چوٹی اجلاس میں پانچ بااثر ممالک پر مشتمل گروپ کی جانب سے کئے گئے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی ۔ اپنے اختتامی ریمارکس میں مودی نے کہا کہ چوٹی اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ جو دہشت گردی کو فروغ بڑھاوا دے رہے ہوں یا جو ان کی سرپرستی تحفظ اور پناہ دے رہے ہیں وہ بھی ہمارے لئے دہشت گردوں کی طرح خطرہ ہیں ۔ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے کوششیں تیز کرنی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہندوستان کے موقف کو نیا حوصلہ ملا کے دہشت گردی کی برآمد کے مسئلہ پر پاکستان کو یکا و تنہا کیا جائے ۔ مودی نے کہا کہ تمام قائدین نے دہشت گردی کے خطرات کو تسلیم کیا ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے ساتھ اقدامات کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT