Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / پاکستان سے بات چیت کے معاملہ میں مودی حکومت کی لاپرواہی

پاکستان سے بات چیت کے معاملہ میں مودی حکومت کی لاپرواہی

اوفا معاہدہ کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا، پڑوسی ملک سے طمانیت کے بعد ہی مذاکرات کئے جائیں: کانگریس

نئی دہلی۔/22اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) ہند۔ پاک قومی سلامتی مشیر سطح کے مذاکرات کے سلسلہ میں جاری تجسس کے دوران کانگریس نے دونوں ممالک کے مابین اوفا معاہدہ کے بارے میں سوال اٹھایا اور کہاکہ اس وقت تک بات چیت کی کوئی بنیاد نہیں ہوسکتی  جب تک پاکستان سے یہ طمانیت مل جائے کہ  وہ اس عہد کی پاسداری کرے گا۔ کانگریس ترجمان آنند شرما نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلہ میں نریندر مودی حکومت کی طرف سے کچھ نہ کچھ لاپرواہی ہورہی ہے ، اب حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ملک پاکستان سے بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیرمعمولی دلچسپی ظاہر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا ہے اور ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ جب تک پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے سلسلہ میں ٹھوس طمانیت نہ مل جائے تب تک اس ضمن میں کوئی کوشش نہ کریں اور اس معاملہ کو یونہی چھوڑ دیا جائے۔ سابق منسٹر آف اسٹیٹ اُمور خارجہ مسٹر آنند شرما نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو پیچیدہ مسائل بات چیت کے ذریعہ حل کرنے چاہیئے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے ساز گار ماحول تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت تک بات چیت کی کوئی بنیاد نہیں ہوسکتی جب تک پاکستان یہ طمانیت نہ دے کہ وہ اپنے عہد کی پاسداری کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یکے بعد دیگرے جو حالات رونما ہورہے ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ روسی شہر اوفا میں جو کچھ ہوا اُسے پاکستان میں تمام اداروں کی تائید حاصل نہیں تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس نے اوفا معاہدہ کی تفصیلات سے پارلیمنٹ اور قوم کو واقف کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ مسٹر آنند شرما نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلہ میں موجودہ صورتحال یہ ہے کہ جب تک ممبئی دہشت گرد حملہ کرنے والوں اور اس سرزمین پر دہشت گرد انفراسٹرکچر کو ختم کرنے کیلئے موثر اقدامات نہیں کئے جاتے تب تک بات چیت ممکن نہیں۔ اس سلسلہ میں مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے آنند شرما نے کہا کہ جب حکومت پہلے سے طئے شدہ پالیسی سے انحراف کرے تو قوم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ایسا کرنے کی بنیادی وجہ کیا ہے۔واضح رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا ہے کہ ہندوستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اوفا میں جو ایجنڈہ طئے کیا گیا اسی کے مطابق بات چیت ہوگی اور پاکستان کو اس سے انحراف نہیں کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف دہشت گردی پر بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ آنند شرما نے وزیر داخلہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے پہلے ہی اوفا معاہدہ پر جب دستخط کئے گئے تھے ، اس کی تفصیلات قوم کے روبرو پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے اسے نظر انداز کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنے موقف پر سختی سے قائم رہنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT