Tuesday , August 22 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان شکست کو بھلا کر پیشرفت کیلئے بے چین، آج نیوزی لینڈ کا سامنا

پاکستان شکست کو بھلا کر پیشرفت کیلئے بے چین، آج نیوزی لینڈ کا سامنا

کیویز کیخلاف جیت پاکستانی کپتان آفریدی کو بھی اشد ضروری ۔ نیوزی لینڈ کو دو بڑی کامیابیوں کے باوجود بیٹنگ میں بہت بہتری درکار
موہالی ، 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کافی بے چینی سے منتظر ہوگا کہ ہندوستان کے مقابل تکلیف دہ شکست کو قصہ پارینہ بنا دیا جائے جب وہ اِن فام نیوزی لینڈ سے کل یہاں مسابقت کریں گے اور مقصد یہی رہے گا کہ ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں واپسی کرتے ہوئے وطن میں ناراض شائقین کو منالیں۔ پاکستان کے اس گروپ 2 سوپر 10 میچ کا پس منظر یہ ہے کہ وہ کٹر حریفوں کے مقابل آئی سی سی کے ورلڈ ایونٹس میں اپنی 11 ویں شکست کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور یہ بھی بات نمایاں ہے کہ 2009ء کے چمپینس اس ٹورنمنٹ میں داخلے سے قبل ایشیا کپ میں عاجلانہ اخراج سے گزر چکے تھے۔ دوسری طرف نیوزی لینڈ والے میزبان ہندوستان اور پھر آسٹریلیا کے مقابل دو زبردست کامیابیوں کے ساتھ یوں سمجھ لیجئے کہ سہانے سفر پر گامزن ہیں، اور انھیں 3 اپریل کو اس باوقار ٹروفی پر قبضہ کیلئے طاقتور دعوے داروں میں شامل مانا جارہا ہے۔ ایک اور جیت کے ساتھ ہی وہ اس میگا ایونٹ کے ناک آؤٹ مراحل میں پہنچ جائیں گے۔ نیوزی لینڈ کو شکست دینا سب سے مشکل امر بن کر اُبھر آیا ہے جبکہ انھوں نے ٹورنمنٹ کی پسندیدہ ٹیم ہندوستان کو افتتاحی مقابلے میں ہرا دیا، اور پھر اپنے براعظم کے روایتی حریف آسٹریلیا کو بھی شکست دے دی۔ یہ دونوں مقابلوں میں اسپنرز سب میں نمایاں بن کر اُبھرے جنھیں اسپن کیلئے مددگار پچس پر کافی وکٹیں حاصل ہوئیں، لیکن لیفٹ آرم فاسٹ میڈیم بولر میچل مک کلینان پہاڑی دھرمشالا کے میدان پر تین وکٹوں والے اسپل کے ذریعے آسٹریلیا کیلئے بڑا دردِ سر بن گئے۔ مک کلینان سے ہٹ کر لیفٹ آرم اسپنر میچل سینٹنر، لیگ اسپنر اِش سوڈھی اور ناتھن مک کلم جیسے بولروں نے بھی اپنی چالاک اور نپی تلی گیندوں کے ذریعے آسٹریلیا والوں نیز ہندوستانیوں کو بھی کافی پریشانی میں مبتلا کیا۔ یہ حقیقت کہ کپتان کین ولیمسن نے ہنوز فرنٹ لائن پیسرز ٹم ساؤتھی اور ٹرنٹ بولٹ کو اس ٹورنمنٹ میں ابھی کوئی میچ نہیں کھلایا ہے، اس سے نیوزی لینڈ کی بولنگ میں گہرائی کا معقول پتہ چلتا ہے۔ پاکستانی بیٹسمنوں کی معیاری بولنگ کے خلاف کمزوری کو دیکھتے ہوئے کیوی اٹیک یقینا پنجاب کرکٹ اسوسی ایشن کے اسٹیڈیم میں دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ تاہم بیٹنگ ایک شعبہ ہے جہاں نیوزی لینڈ بہتری لانا چاہے گا۔ کوری اینڈرسن اور لوک رونکی کے سواء کیوی بیٹسمین ہندوستان کے خلاف جدوجہد کرتے دکھائی دیئے۔ جب انھیں آسٹریلیا کا سامنا ہوا تو مارٹن گپٹل نے 39 کا ٹاپ اسکور کیا جبکہ ولیمسن، کالن مونرو اور گرانٹ ایلیٹ تمام نے اچھی شروعات ضرور کی لیکن بڑا اسکور نہیں کرسکے۔ اس کے نتیجے میں یہ ٹورنمنٹ میں ابھی تک کسی نیوزی لینڈ والے کی بیاٹ سے ہاف سنچری دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ جہاں تک پاکستانیوں کا معاملہ ہے، انھوں نے ٹورنمنٹ کی شروعات تو بنگلہ دیش کے مقابل زبردست جیت کے ساتھ کی جب اُن کی بیٹنگ اور بولنگ دونوں خوب چلے۔ تاہم ایڈن گارڈنس میں ہندوستان کے خلاف میچ میں جو 18 اوورز کا ممکن ہوا، وہ صورتحال کے دباؤ اور ویراٹ کوہلی کی ماسٹر کلاس بیٹنگ کا شکار ہوگئے۔ کپتان شاہد آفریدی بنگلہ دیش کے خلاف تجربہ کار محمد حفیظ کے ساتھ اپنے زبردست فام میں دکھائی دیئے۔ اس بڑی جیت میں بولروں نے بھی خوب کردار ادا کیا۔ آفریدی جنھیں ہندوستان کے مقابل ہارنے پر وطن میں مختلف گوشوں سے تنقیدوں کا سامنا ہوا ہے، اپنا فام دوبارہ حاصل کرلینے کوشاں ہوں گے۔ وہ بنگلہ دیش میچ والے اپنے پرفارمنس کا اعادہ نسبتاً طاقتور ہندوستان کے خلاف نہیں کرسکے۔ شعیب ملک نے بیاٹ نے کچھ اہم حصہ ادا کیا لیکن گیند سے وہ بہت غیرمعیاری نظر آئے۔ عمر اکمل نے بھی تیزی سے کچھ مفید رنز بنائے۔ تاہم محمد عامر اور محمد سمیع کی ابتدائی شاندار گیندبازی کے بعد پاکستانی بولرز کوہلی کو متزلزل کرنے میں ناکام ہوگئے، جن کو یوراج سنگھ سے اچھی مدد حاصل ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT