Tuesday , August 22 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان فائنل تک رسائی اور ہندوستان کو ہرانے کے قابل

پاکستان فائنل تک رسائی اور ہندوستان کو ہرانے کے قابل

خراب کھیلنے والا ہر کھلاڑی ٹیم سے باہر ہوگا، پاکستان کے چیف سلیکٹر ہارون رشید کا بیان
کراچی ؍ لاہور ، 29 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے چیف سلیکٹر ہارون رشید نے نیشنل ٹیم کے ارکان سے بات کرتے ہوئے اُن کا حوصلہ بڑھایا اور انھیں اعتماد ہے کہ وہ جاریہ ایشیا کپ میں فائنل کیلئے ہنوز کوالیفائی کرسکتے ہیں۔ رشید نے نیوز ایجنسی ’ پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ ’’میں ہندوستان کے مقابل ناکامی کے باوجود پاکستان کو خارج نہیں سمجھوں گا۔ ہمارے پاس اچھی مضبوط ٹیم ہے اور ہماری بولنگ ہماری طاقت ہے۔ میں نے کھلاڑیوں سے بات کی اور میں نے ان کی حوصلہ افزائی اور ان کا اعتماد بڑھانے کی ممکنہ کوشش کی ہے‘‘۔ دریں اثناء رشید نے کہا ہے کہ کپتان سمیت کوئی بھی کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرے گا تو اس کو ٹیم سے باہر کردیا جائے گا۔ چیف سلیکٹر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کھلاڑی کا حق ہے لیکن اگر کپتان یا کوئی اور کھلاڑی ٹیم میں کارکردگی نہیں دکھائے تو ٹیم کے انتخاب میں اس کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔ پاکستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کی جانب سے ریٹائرمنٹ پر نظرثانی کے فیصلے کی خبر کے بارے میں پوچھنے پر چیف سلیکٹر نے کہا کہ یہ مکمل طورپر کھلاڑی کا حق ہے کہ وہ اپنی سبکدوشی کے فیصلے کو واپس لے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم کسی کو ریٹائرمنٹ کیلئے مجبور نہیں کر سکتے۔ حال ہی میں پی سی بی نے ماسٹرز چمپینس لیگ میں شرکت کیلئے اجازت نامہ حاصل کرنے سے قبل کھلاڑیوں کو باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ہارون رشید نے کہا کہ کسی کھلاڑی کو ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لینے سے باز رکھنے کیلئے قانون نہیں بنایا جاسکتا جیسا کہ یہ ہر کرکٹ کھیلنے والے ملک میں ہوتا ہے۔ چیف سلیکٹر نے ونڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی کو ہٹانے سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔ایسی اطلاعات تھیں کہ سرفراز احمد کو پاکستان سوپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی بہترین قیادت کرنے پر اظہر علی کی جگہ ونڈے ٹیم کا کپتان بنایا جارہا ہے جنھوں نے لاہور قلندرز کی کپتانی کی تھی اور ٹیم پلے آف مرحلے تک بھی نہیں پہنچ پائی۔ چیف سلیکٹر رشید نے احمد شہزاد کے حوالے سے کہا کہ انھیں خراب فام کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اور مستقبل میں اگر وہ اچھا کھیلتے ہیں تو اُن کو منتخب کرلیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT