Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / پاکستان میںکچھ بھی نہیں بدلے گا

پاکستان میںکچھ بھی نہیں بدلے گا

امتیاز متین،کراچی
کیا پاکستان میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟
اگر آپ کسی عام پاکستانی سے یہ سوال پوچھیں تو اس کا سادہ سا جواب یہی ہو گا کہ ’’کچھ نہیں ہوگا … یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔‘‘
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سماج، سیاست اور معیشت میں تبدیلیاں اچانک نہیں بلکہ بتدریج رونما ہوا کرتی ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں آج بھی بظاہر سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا 90ء کی دھائی میں تھا۔ نواز شریف اقتدار میں ہیں، اگر اجل نے بے نظیر بھٹو کو ساتھ نہ لیا ہوتا تو وہ بھی سیاسی قیادت میں اپنا موثر کردار ادا کر رہی ہوتیںلیکن اب پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو سے زیادہ آصف زرداری کی پارٹی بن کر عملاً صوبہ سندھ میں ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا حلقۂ اقتدار پنجاب ہے جبکہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کی صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومت ہے۔ اسفندیار ولی خان کی پارٹی اے این پی ، پختونوں کی نمائندہ جماعت بن کر ابھری تھی لیکن گزشتہ انتخابات میں اسے پختونوں نے ہی مسترد کر دیا۔مذہبی سیاسی جماعتوں کی ملک میں اہمیت ہے لیکن اسمبلی میں کم نشستوں کے باعث حکومت سازی میں اپنا وزن ڈالتی ہیں۔ جمییعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن ہر حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ شہری سندھ میں ایم کیو ایم عملاً چار دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور گزشتہ برس کی ان کی ’’مردہ باد فیم ‘‘ تقریرکے بعد خود کراچی میں موجود ان کے پارٹی لیڈرزنے بھی ان سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ ان کی بے تکی تقاریر کی نشر و اشاعت پر پہلے ہی عدالت کے حکم پر پابندی عائد ہو چکی تھی لیکن ایم کیو ایم کے رہنما برسوں سے لائوڈ اسپیکر کے سامنے مودب بیٹھ کر ان کی تقاریر سننے پر مجبور تھے اور پاکستان کا ہر بڑا نیوز چینل ان کے گھنٹوں طویل ٹیلیفونک خطابات نشر کرنے پر مجبور تھا۔ تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ وہ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پیغامات لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کو اب بھی یقین ہے کہ ایم کیو ایم کے عروج کا وہ دور واپس آ جائے گا لیکن نظر ی یہ آ رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کراچی یا شہری سندھ میں کسی ایک جماعت کو اکثریت حاصل نہ ہو سکے گی۔
ملک میں رونما ہونے والی ان تمام سیاسی تبدیلیوں کے باوجود اگر دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ملک میں سیاست اور ریاست کے مابین کشمکش جاری ہے۔ اہل سیاست ملک میں اسٹیٹس کو کی سیاست برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ ریاستی ادارے اسٹیٹس کو توڑ کر ریاست کو بدلتے ہوئے عالمی حالات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ عالمی حالات کے حوالے سے پاکستان میں سب سے بڑی تبدیلی پاک چین اقتصادی راہداری ہے، جو بظاہر ایک سڑک کا منصوبہ ہے لیکن یہ محض ایک سڑک نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات پاکستان کے سماج، سیاست اور معیشت میں بھی تبدیلیوں کا سبب بنیں گے۔ دوسری جانب عالمی حالات میں تبدیلیاں آ رہی ہیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کو اپنا حلیف بنانے اور بھارت کے ذریعے پاکستان پر چیک رکھنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب چین کے قریبی حلیف ملک روس کے پاکستان سے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہو رہی ہے۔ ایران کی جانب سے پہلے ہی اقتصادی راہداری منصوبے شمولیت کی درخواست کی جا چکی ہے اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ بھارت کی سرمایہ کاری سے بنائی جانے والی چاہ بہار پورٹ، اقتصادی راہداری منصوبے کی گوادر پورٹ سے منسلک بندرگاہ ثابت ہوگی جبکہ پاکستان کے ایران سے تجارتی تعلقات کے فروغ اور سرحد پر نئی تجارتی مارکیٹیں بنانے، پاکستان اور ایران سرحد پر نئے راستے کھولنے ککے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
باقی رہا افغانستان کا مسئلہ تومغربی نجومی اس سال افغانستان میں بڑی تبدیلیاں رونما ہونے کی پیشگوئیاں کر رہے ہیںوہ کابل پر افغان طالبان کے قبضے کی توقعات ظاہر کر نے کے ساتھ ساتھ شام کی طرح افغانستان میں روسی مداخلت ، امریکی اور روسی جنگی طیاروں کی بمباری کی توقعات ظاہر کر رہے ہیں۔پاکستان، چین ،روس اور ایران کی کوشش ہے کہ کسی طرح افغانستان میں امن کی راہ ہموار کی جائے اور افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنا کر انہیں دوبارہ افغانستان کے اقتدار میں حصہ دلوایا جائے جن کی حکومت 2001ء میں امریکی اور اتحادی افواج کے حملے کے نتیجے میں ختم کر دی گئی تھی۔ تاہم یہ مذاکرات گزشتہ برسوں میں تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں جس کا الزام بھارتی حکومت کو دیا جاتا رہا ہے۔ خود افغانستان میں گزشتہ کئی برس سے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اگر افغان طالبان، امریکہ کا دیا ہوا آئین اور طرز حکومت تسلیم کر لیتے تو خود امریکہ کی جانب سے ملا عمر کو دنیا کا بہترین اور امن پسند انسان قرار دے دیا گیا ہوتا لیکن افغان طالبان امریکہ کو سیاسی فتح دلوانے کے حق میں نظر نہیں آتے۔فی الحال افغان پولیس اور فوج کے اہلکاروں کے افغان طالبان سے جا ملنے کے واقعات کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔اس کے ساتھ ہی ایک تشویش ناک بات یہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیم داعش اور ان کے اتحادی بھی اپنے قدم جما رہے ہیں اور پاکستان کے کچھ علاقوں میں بھی دیواروں پر داعش کی وال چاکنگ دیکھی گئی ہیں جن کے بارے میں قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ کوئی شامی یا عراقی عرب نہیں بلکہ مقامی گروپ ہیں جو خود کو داعش ظاہر کر رہے ہیں۔ افغانستان کے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں بھارت کے خسارے میں رہنے کی توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ بھارت نے شمالی اتحاد کے تعاون سے افغانستان میں جو سرمایہ کاری کی ہے وہ رائیگاں چلی جائے گی۔ پاکستان میں دائیں بازو کے تجزیہ نگار گزشتہ کئی برس یہ عندیہ دیتے چلے آ رہے ہیں افغانستان ہندو کش کے کوہستانی سلسلے میں واقع ہے اور یہ خطہ بھارتی حکمرانوں کے لیے ایک بار پھر ہندوکش بن جائے گا۔

آئندہ دنوں میں وہاں کیا صورتحال پیدا ہوگی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، فی الحال صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر آنے کے بعد طورخم اور چمن کی بارڈر کراسنگ ہر طرح کی آمد و رفت کے لیے بند کر دی گئی تھی جسے کئی ہفتوں کی بندش کے بعد گزشتہ ہفتے دو دن کے لیے عارضی طور پر کھولا گیا ، سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمد روکنے کے لیے پہلے سرحد کے ساتھ ایک گہری خندق کھودی گئی تھی لیکن اب خار دار تاروں کی باڑ لگانے کی بات کی جا رہی ہے۔ ملک بھر میں مشکوک افراد کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے اور متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت کے دعووں کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں کچھ پاکستانی فوجی افسران اور جوانوں کی شہادتوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ’’آپریشن رد الفساد‘‘ کے آغاز ہی میں پاکستان کی سرحد کے نزدیک افغانستان کے اندر داعش کے اتحادی گروپ جماعت الاحرار کے تربیتی کیمپوں پر گولہ باری کر کے تباہ کر دینے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ اس حملے میں جماعت الاحرار کے کئی کمانڈروں سمیت متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ان فوجی کارروائیوں کے بعد جماعت الاحرار اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کی سرحد سے کم از کم پچاس کلومیٹر دور ہٹنا پڑے گا جبکہ اتنے بڑے جانی اور مالی نقصان کے بعد انہیں افغانستان میں نئے جنگجو بھرتی کرنا آسان نہ رہے گا۔
کئی ماہ قبل پاکستان میں بھارت کے ایک حاضر سروس  نیوی کمانڈر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے اپنے بلوچستان اور کراچی میں بھارت کی مداخلت اور تخریب کاری کے نیٹ ورکس چلانے کا اعتراف کیا تھا۔ پاکستان میں لوگ وزیر اعظم نواز شریف پر یہ اعتراض کرتے رہے ہیں کہ وہ بھارت سے دوستانہ مراسم اور تجارت کے فروغ کے لیے بات کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے لیکن اگر کبھی کوئی صحافی ان سے کمانڈر کلبھوشن یادیو کے حوالے سے کوئی سوال پوچھ لے تو انہیں ناگوار گزر جاتا ہے جبکہ ان کے دوست وزیر اعظم نریندر مودی اپنے یوم آزادی کے خطاب میں کھل کر بلوچستان میں مداخلت کی بات کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں کلبھوشن یادیو کا مسئلہ اٹھانے کے کئی ماہ بعد اب بالآخر حکومت کی جانب سے اعلان کی گیا ہے کہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے۔ تاہم یہ اعتراض اب بھی کیا جا رہا ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے سے کیا ہوتا ہے، یہاں تو بہت سے لوگوں پر قتل کی ایف آئی آریں درج ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرز جیسے اہم مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے جس میں وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کی عظیم بدعنوانیوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ اس تاریخی مقدمے کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بننے والے پانچ رکنی بنچ نے کی ہے جس میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔ مقدمے کی سماعت کے اختتام پر کچھ لوگ یہ توقع کر رہے تھے کہ عدالت کوئی مختصر فیصلہ سنا کر بعد میں تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی لیکن جسٹس آصف سعید کھوسہ سماعت مکمل ہونے پر اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کیس کے تمام زاویوں کو گہرائی سے دیکھا جائے گا اور پھر تفصیلی فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر 20 کروڑ عوام عدالتی فیصلے سے خوش نہ ہوں تو انہیں اس سے غرض نہیں، ایسا فیصلہ دیں گے جس کی بیس سال بعد بھی مثال دی جائے اور لوگ کہیں گے کہ عدالت نے آئین کی پاسداری کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جج فیصلہ لکھ کر محفوظ کر چکے ہیں اور کسی بھی دن اچانک فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
پاکستان میں ایک بڑی انتظامی تبدیلی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کے تحت وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (FATA)کو صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ وہی قبائلی علاقے ہیں جہاں گزشتہ کئی برس کے دوران تحریک طالبان پاکستان اور دیگر ایسی ہی شدت پسند تنظیموں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کئی فوجی آپریشن کیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ تباہی کے بعد بحالی اور تعمیر نو کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، فاٹا کے علاقے میں کم از کم تین نئی چھائونیاں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں تاکہ یہاں سے فرار ہو جانے والے دہشت گردوں کو دوبارہ ان علاقوں پر قبضہ کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ فاٹا کے عوام یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں سے الگ ہیں لہٰذا انہیں علیحدہ صوبائی شناخت دی جائے لیکن جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمن کے علاوہ تمام پارلیمانی جماعتوں نے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کر دینے کی حمایت کی ہے۔ سیاسی لحاظ سے اس فیصلہ پر اختلاف کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن انتظامی سطح پر فاٹا کو علیحدہ صوبائی حیثیت دے کر پورا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔ کہا جا رہا ہے کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے سے انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) کا خاتمہ ہو جائے گا اور یہاں بھی پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق لوگوں کو حقوق مل سکیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی یہاں ایک رواج ایکٹ لانے کی بات بھی کی جا رہی ہے جس پر متعدد حلقوں کی جانب سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ رواج ایکٹ کیا ہے اور کیا اس ایکٹ کے ذریعے ایف سی آر کی معترضہ شقوںکو برقرار رکھنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع  پر اتفاق کر لیا گیا ہے، اس مسئلے پر پارلیمانی لیڈرز کے مابین کئی ہفتوں سے بحث جاری تھی اور اتفاق رائے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس صورتحال میں آصف زرداری نے اسلام آباد میں ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی تھی لیکن اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے ہی حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق رائے حاصل کر کے آصف زرداری کی سیاسی چال کو بے اثر کر دیا۔جس کے بعد اب ان عدالتوں کے مسودۂ قانون کی قومی اسمبلی میں توثیق کروائی جائے گی۔ مذکورہ فوجی عدالتیں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے ہولناک حملے کے بعد 21ویں آئینی ترمیم کے تحت تین سال کے لیے بنائی گئی تھیں جس کی مدت اس سال جنوری کے اوائل میں ختم ہو گئی تھی۔ ان عدالتوں کا مقصد گرفتار دہشت گردوں کے مقدمات کو تیزی سے نمٹا کر انہیں تختۂ دار پر لٹکانا اور دوسری کڑی سزائیں دینا ہے۔ گزشتہ ہفتے ان عدالتوں سے سزا یافتہ دہشت گردوں کو کوہاٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی جو تعلیمی اداروں اور سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی کی جانب سے فوجی عدالتوں کے حوالے سے 9 تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کے مطابق ہر فوجی عدالت میں فوجی افسر کے ساتھ ایک سیشن جج یا ایڈیشنل جج شامل کیا جائے جنہیں چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کریں گے۔ فوجی عدالتوں کی مدت ایک سال کے لیے ہو۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں جو ڈیشل رویو کی جاسکے اور ہائی کورٹ 60 دن کے اندر کیس کا فیصلہ کرے۔ ملزم کو 24 گھنٹے کے اندر متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اسے 24 گھنٹے کے اندر اس کی گرفتاری کی وجوہ فراہم کی جائیں ۔ ملزم کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت ہو اور 1984ء کے قانون شہادت لاگوکیا جائے۔

پاکستان میں چند ماہ قبل چھ بلاگرز کی گمشدگی پر جو ہنگامہ آرائی ہوئی تھی اور ملک بھر میں ایک بحث شروع ہوئی تھی کہ لاپتہ بلاگرزاپنے ’’بھینسا‘‘ اور موچی‘‘ جیسے ناموں سے چلنے والے سوشل میڈیا پیجزپر توہین رسالتﷺ، توہین اہل بیت اور صحابہ کرام ؓ وغیرہ جیسے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اب اس مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت میں شروع ہوگئی ہے۔ معزز جج نے کہا ہے کہ بحیثیت مسلمان سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا اور اگر ہم نے محسن انسانیت اور دیگر مقدس ہستیوں کی گستاخی نہ روکی تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ جسٹس شوکت نے سوشل میڈیا کے صفحات کو فوراً بند کرنے اور ایسا مواد شائع کرنے والوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا۔ اس مقدمے کی سماعت ہر روز کی جائے گی۔ بلاگرز کی گمشدگی کے بعد جو لوگ ان کی حمایت میں سامنے آئے اور انہوں نے اپنے مظاہروں میں لبرل ازم کے نام پر جیسی تقاریر کی گئیں اور جو نعرے بازی ہوئی یا ٹی وی پروگرام میں مباحثے کیے گئے وہ سب بھی یقینا عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنائے جائیں گے۔ پاکستان میں لوگ فرقہ واریت، شدت پسندی یا کسی اور نام پر فتنہ تو پھیلا سکتے ہیں لیکن ریاست کی اسلامی اساس کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ بھارت میں تو طارق فتح کے فتنے کی پرورش کی جا رہی ہے لیکن پاکستان میں ایسے لوگوں کو عوامی سطح پر پذیرائی اور ریاستی سطح ابھرنے کا موقع ملنا مشکل ہے۔

TOPPOPULARRECENT