Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / پاکستان میں خودکش بم حملہ ‘ 17ہلاک ‘31 زخمی

پاکستان میں خودکش بم حملہ ‘ 17ہلاک ‘31 زخمی

ممتاز قادری کی پھانسی پر طالبان کی انتقامی کارروائی ‘ شورش زدہ خیبرپختونخواہ کی عدالت میں حملہ

پشاور۔7مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کم از کم 17 افراد ہلاک اور دیگر 30 آج زخمی ہوگئے جبکہ ایک خودکش بم بردار نے پاکستان کے شورش زدہ شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخواہ کی پُرہجوم عدالت میں خود کو دھماکہ سے اڑا دیا ۔ یہ حملہ طالبان کے بموجب آزاد خیال گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل اسلام پسند ممتاز قادری کو سزائے موت کی انتقامی کارروائی کی خودکش بم بردار نے ضلع عدالت شب قدر بازار ضلع چار سدہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں خود کو دھماکہ سے اڑا دیا ۔ کم از کم 17افراد ہلاک اور دیگر 31 افراد زخمی ہوگئے ۔ مہلوکین میں چھ خواتین ‘ دو بچے اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔ ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے علحدہ شدہ گروپ جماعت احرار پاکستان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکانے کا انتقام تھا ۔ قادری کو گذشتہ منتقل کے دن راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی تھی جبکہ سزا کے خلاف اُس کی درخواست سپریم کورٹ میں مسترد کردی گئی تھی ۔ صیانتی اور ہنگامی ٹیموں نے بم دھماکہ کے مقام پر پہنچ کر علاقہ کی ناکہ بندی کردی ۔ تحقیقات کا فوری آغاز کردیا گیا ۔ روزنامہ ’ ڈان ‘ کی خبر کے بموجب تحصیل شب قدر مہمند قبائلی علاقہ کے قریب ہے ۔ یہ ان سات خود اختیار قبائلی علاقوں میں ایک ہے جو شمال مغربی پاکستان میں ہے ۔ یہاں پاکستانی طالبان اور القاعدہ سے مربوط عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر اپنا مستحکم گڑھ قائم کر رکھا ہے ۔ شب قدر چار سدہ سے 30کلومیٹر کے فاصلہ پر مغرب میں واقع ہے ‘ جہاں عسکریت پسندوں نے 20جنوری کو ایک یونیورسٹی پر بھی حملہ کیا تھا جس میں 21افراد بیشتر طلبہ ہلاک ہوگئے تھے ۔ آج کے دھماکہ کے وقت عدالت پُرہجوم تھی کیونکہ ہفتہ وار تعطیل کے بعد عدالت کا آغاز ہوا تھا ۔ پولیس کے بموجب خودکش بم بردار کو روکا گیا تھا لیکن اُس نے مبینہ طور پر اپنے جسم پر لپیٹی ہوئی خودکش جیکٹ کو دھماکہ سے اڑا دیا ۔ قادری تاثیر کی حفاظت پر تعینات کیا تھا اور اس نے گورنر کو ان کی قیام گاہ کے قریب ایک بازار میں 2011ء میں شہر اسلام آباد میں مبینہ طور پر متنازعہ اہانت مذہب قوانین پر تنقید کرنے کی وجہ سے ہلاک کردیا تھا ۔ قادری کو اُسی سال مجرم قرار دے دیا گیا ۔ اس کی سزائے موت پر ہزاروں اسلام پسندوں نے ’’ یوم سیاہ ‘‘ مناتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔ 66سالہ سلمان تاثیر نے اہانت مذہب قانون کو جو پاکستان کے فوجی حکمراں ضیاء الحق نے 1980ء کی دہائی میں نافذ کیا تھا ’’ سیاہ قوانین ‘‘ قرار دیا تھا جس پر انتہا پسند برہم ہوگئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT