Monday , May 29 2017
Home / پاکستان / پاکستان میں دو عسکری تنظیموں پر امتناع

پاکستان میں دو عسکری تنظیموں پر امتناع

لشکر جھنگوی اور جماعت الاحرار کیخلاف کارروائی ۔ تشدد کا الزام
اسلام آباد ۔19 نومبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے کئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث رہنے پر طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے دو عسکری گروپس پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ تحریک طالبان پاکستان سے علحدہ شدہ گروپ جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی عالمی پر بلوچستان اور سندھ میں ہوئے حالیہ ہلاکت خیز حملوں کے بعد امتناع عائد کردیا گیاہے ۔ ان کارروائیوں میں گزشتہ ہفتے بلوچستان کی ایک درگاہ میں حملہ بھی شامل تھا جس میں 50افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہاکہ ان گروپس پر امتناع کافیصلہ چند دن قبل کیا گیا تھا ۔ اخبار ڈان نے یہ اطلاع دی ۔ قومی انسداد دہشت گردی اتھاریٹی کی ویب سائیٹ پر نظرثانی کردہ فہرست کا حوالہ دیتے ہوئے سندھ سیکوریٹی ادارہ کے ایک عہدیدار نے کہاکہ ان دونوں تنظیموں کو 11 نومبر کو اس فہرست میں شامل کیا گیاہے ۔ ایک سکیورٹی عہدیدار نے کہاکہ جب یہ واضح ہوگیا کہ یہ تنظیمیں تشدد ترک نہیں کریں گی تو حکومت ان پر امتناع عائد کردیا۔ اس فہرست کے مطابق جماعت الدعوۃ کو 17 جنوری 2007 سے زیرنگرانی رکھا گیا تھا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس تنظیم کے خلاف تشدد میں ملوث رہنے کاثبوت مل گیا تو اس پر بھی امتناع عائد کیا جاسکتا ہے ۔اس فہرست میںتاہم لشکر طیبہ اور جیش محمد کو 14 جنوری 2002 سے ممنوعہ تنظیمیں قررا دیا گیا ہے ۔ لشکر جھنگوی عالمی تنظیم سنی طبقہ کی تنظیم ہے اور اس کاصوبہ پنجاب میں کافی اثر ہے ۔ اس پر بلوچستان میں کئی مقامات پر حملے کرنے کے الزامات ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT