Friday , July 28 2017
Home / مضامین / پاکستان میں سیاسی عروج و زوال کی نئی داستان رقم ہو رہی ہے

پاکستان میں سیاسی عروج و زوال کی نئی داستان رقم ہو رہی ہے

 

امتیاز متین،کراچی
پاکستان میں مختلف قائدین کا سیاسی عروج و زوال کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس بار ایک ایک ایسی نئی داستان رقم ہو رہی ہے جس میں زوال پذیر ہونے والے قائدین شاید پھر کبھی پاکستان کے سیاسی افق پر طلوع نہ ہو سکیں گے۔ موجودہ صورتحال میں یہ واضح نظر آنے لگا ہے کہ نواز شریف مع اپنے اہل خانہ سیاسی منظر نامے سے غائب ہونے والے ہیں، اسی طرح پیپلز پارٹی کے کو چیئر پرسن آصف زرداری بھی پاکستان میں اپنے لیے حالات سازگار نہ پا کر علاج کی غرض سے دوبارہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں ، کہا جا رہا ہے کہ اینٹ سے اینٹ بجانے والی تقریر ابھی تک ان کا پیچھا کر رہی ہے۔ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اپنی ’’مردہ باد فیم‘‘ تقریر کرنے کے بعد سیاسی منظر سے ایسے غائب ہوئے کہ پارٹی نے ہی اپنے قائد کو خدا حافظ کہہ دیا ہے۔ اب کبھی کبھار سوشل میڈیا پر ان کی لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والی تقریروں کے ٹوٹے دکھائی دے جاتے ہیں۔
سیاسی افق پر ہونے والی تبدیلیوں کے اشارے اس طرح مل رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کے اقتدار اور عہد سیاست کی بساط لپٹنے والی ہے۔حد تو یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ اسمبلیاں قبل از وقت تحلیل کی جا سکتی ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر اسمبلیاں قبل از وقت تحلیل کر دی گئیں تو پھر کیا نئے انتخابات 90 دن میں ہو جائیں گے یا پھر عبوری حکومت کا دور حکمرانی طویل ہو جائے گا؟

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اگر جے آئی ٹی نے ان کے خلاف سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی تو دس سال کی نااہلی یقینی ہے لیکن ان کے لیے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ مریم نواز بھی سیاست کی دوڑ سے باہر ہو سکتی ہیں جنہیں نواز شریف اگلا وزیر اعظم بنوانا چاہتے ہیں، یہ بات مشہور ہے کہ مریم نواز وزیر اعظم ہائوس کے معاملات وہ ایک ڈی فیکٹو وزیر اعظم کے طور پر چلاتی رہی ہیں۔نواز شریف بدعنوانی کے الزام میں اپنی نااہلی کے فیصلے کے خلاف تصادم کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں، لیکن یہ کوئی دانش مندانہ اقدام نہیں ہو گا کیونکہ اگر مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے تصادم کا راستہ اختیار کیا تو پاکستان تحریک انصاف بھی ان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے گی۔
پانامہ پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی تفتیش جاری ہے، اس جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA)، نیشنل اکائونٹیبلیٹی بیورو (NAB)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، ملٹری انٹیلیجنس (MI) اور انٹرسروسز انٹیلیجنس (ISI) کے نمائندے شامل ہیں جو یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف خاندان کی بیرون ملک اربوں ڈالر کی جائدادیں کیسے بن گئیں اور یہ پیسہ کس ذریعے سے وہاں تک پہنچا ہے۔ گزشتہ دنوں جے آئی ٹی کے سامنے وزیر اعظم نواز شریف کے دونوں صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز وزیر اعظم ہائوس کے پورے پروٹوکول کے ساتھ پیش ہوئے اور ہر پیشی پر کئی کئی گھنٹے تک سوالات کیے جاتے رہے۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ ایک بار جے آئی ٹی کے سوالات سے حسین نواز کی بلڈ شوگر لیول کم ہو جانے کی وجہ سے انہیں غشی آ گئی تھی۔ اسی دوران حسین نواز کی پیشی کے دوران ایک تصویر میڈیا میں شائع ہو گئی جس پر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ایسے شور مچایا گیا اور مظلومیت کی ایک ایسی داستان سنائی حئی جیسے حسین نواز کو کسی ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں کرسی پر نہیں بلکہ میدان کربلا میں بٹھایا ہوا ہو۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ کیا فوٹو لیکس، ڈان لیکس سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے جو اس پر تو ایک دو صدقے کے بکرے قربان کرکے خاموشی اختیار کر لی گئی ہے اور حسین نواز کی تصویر قومی سلامتی کا مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلم لیگی رہنما یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے جے آئی ٹی کو متنازع بنایا جائے اور نواز شیرف اوران کے خاندان کو معصومین و مظلومین میں شامل کروا دیا جائے۔ تاہم جے آئی ٹی نے وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، سمدھی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے سمن جاری کیے گئے ہیں جبکہ سابق وزیر داخلہ اور ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر رحمن ملک بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو ں گے۔

گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نواز شریف حکم کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر تین گھنٹے تک سوالات کے جوابات دیے۔ پیشی بھگتنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے چہرے اور چال ڈھال سے لگ رہا تھا کہ حالات ان کے لیے زیادہ ساز گار نہیں ہیں۔تاہم انہوں نے باہر آکر ایک لکھی ہوئی تقریر بھی پڑھی اور کہا ’’میں نے پائی پائی کاحساب دے دیا ہے‘ہم پر سرکاری خزانے کی خورد برد یا کرپشن کے الزامات نہیں بلکہ شریف خاندان کے نجی وذاتی کاروبار اور معاملات کو الجھایا اور اچھالا جا رہا ہے، میرے احتساب کاسلسلہ میری پیدائش سے پہلے 1936ء سے شروع ہوکر آئندہ نسلوں تک پھیلا ہواہے، ملک میں شریف خاندان کے سواکوئی ایسا خاندان نہیں جس کی تین نسلوں کا ایسا بے رحمانہ احتساب ہوا ہو، نہ تو پہلے ہمارے دامن پر کرپشن کاکوئی داغ پایاگیا نہ اب ایسا ہو گا، مخالفین جتنے چاہے الزامات لگائیں، جتن کریں یا سازشیں ، وہ ناکام و نامراد رہیں گے،اگلے برس 20 کروڑ عوام کی بڑی عدالت اور بڑی جے آئی ٹی لگنے والی ہے جو 2013ء سے بھی زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ ہمارے حق میں فیصلہ کرے گی‘عوام کے فیصلوں کو روند کرمخصوص ایجنڈے چلانے والی فیکٹریاں بند نہ ہوئیں تو آئین و جمہوریت ہی نہیں خدانخواستہ ملک کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی، ملک سازشوںاور تماشوں کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے، وقت آ گیا ہے کہ حق و سچ کا علم حقیقی معنی میںبلند ہو، اب ہم تاریخ کا پہیہ پیچھے کی طرف موڑنے نہیں دیں گے، وہ زمانے گئے جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا ‘کٹھ پتلی تماشا اب ختم ہوگیا‘اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جاسکتے۔‘‘
اس تمام صورتحال پر لیگی درباری کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر نئی تاریخ رقم کی ہے تاہم لوگوں کہنا ہے کہ تاریخ رقم نہ کریں بلکہ وہ رقم واپس کریں جو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کی گئی ہے۔ جبکہ پیشی کے بعد وزیر اعظم ہائوس سے اجلاس کی جو تصاویر جاری ہوئی ہیں ان میں بھی وفاقی وزرا کے چہروں پر پریشانی کے آثار واضح نظر آ رہے تھے۔ حالانکہ جب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی بنا کر مزید تفتیش کرکے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا تو یہی وزرا ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلا رہے تھے اور ان کے کارکن بھنگڑے ڈال رہے تھے۔
وزیر اعظم کی پیشی سے قبل اسلام آباد میں جوڈیشل اکیڈمی کے سامنے والی سڑک کی خصوصی صفائیاں اور نئے پھول پودوں کی سجاوٹوں کے ساتھ ساتھ ہر کھمبے پر نواز شریف اور ان کے مسلم لیگی رہنمائوں کی تصویروں والے بینرز بھی آویزاں کیے گئے تھے جس پر ’’قدم بڑھائو نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ قسم کے نعرے درج تھے، تاہم پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ایسے نعرے لگانے والے یا خود کو علاقے کی دہشت باور کروانے والے سب سے پہلے منظر سے غائب ہوکر اس وقت نمودار ہوتے رہے ہیں جب یا تو یہ اپنی وفاداریاں تبدیل کر کوئی اعلیٰ عہدہ پکڑ چکے ہوتے ہیں یا چھوٹے موٹے سیاسی بدمعاش بدلے ہوئے حالات میں خود کو ’’بانی، سائیڈ پکڑ تحریک‘‘ کہہ رہے ہوتے ہیں۔

پانامہ پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اس لحاظ سے سنگ میل ثابت ہو گا کہ اس سے ایک مثال قائم ہو گی اورملک کے معزز لٹیروں کو جیلوں کی راہ دکھائی جا سکے گی۔ اس وقت حکمراں طبقات کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانیوں سے حاصل کیا ہوا پیسہ بنتا نظر آ رہا ہے کیونکہ انہوں نے جو سرمایہ اپنے اقتدار کو قائم رکھنے اور انتخابات کو خریدنے کا ذریعہ بنانے جمع کیا ہوا تھا وہی سرمایہ آئندہ انتخابات میں استعمال کرنا یا چھپانا مسئلہ بنے گا۔ سب سے پہلا سوال یہی ہوگا کہ اثاثوں اور آمدنی کے ذرائع سے متعلق ہی پوچھا جائے گا، اور یہ سوال اب ٹی وی چینلز پر سیاستدانوں کے انٹرویوز کے دوران پوچھا جانے لگا ہے۔ انہی دنوں عمران خان نے اپنی تقریروں میں یہ کہنا شروع کیا تھا کہ میاں صاحبان کی طرف سے انہیں پانامہ پیپرز کیس میں خاموش رہنے کے لیے 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی اور میاں شہباز شریف کی طرف سے یہ پیغام ان کے ایک دوست کے ذریعے آیا تھا جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ رقم بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد میاں صاحبان کی طرف سے شور اٹھا کہ یہ جھوٹ ہے اور عمران خان پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور اظہار وجوہ کے قانونی نوٹس اور اپنے بیان کی معافی مانگنے کے مطالبے بھی کیے گئے بصورت دیگر عدالت میں جایا جائے گا، جس پر عمران خان پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ان کی خواہش ہے کہ میاں برادران عدالت میں جا کر مجھ پر مقدمہ دائر کریں لیکن پھر ہوا یہ کہ کسی نے عمران خان پر ہتک عزت کا دعویٰ نہیں کیا اور کچھ دن شور مچانے کے بعد سب خاموش ہو گئے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض رہنمائوں نے پارٹی چھوڑ کر عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور ممکن ہے یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا۔ پاکستان تحریک انصاف میں چلے ہوئے کارتوسوں کو خوش آمدید کہنے کے سلسلے پر عوام کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے کہ اگر انہی لوگوں کے سہارے سے حکومت بنانی ہے تو پھر پاکستان کی سیاست میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جس کے وعدے عمران خان کرتے رہے ہیں۔ لیکن دوسرا نکتۂ نظر یہ ہے کہ عمران خان پارٹی میں آنے سے تو کسی کو نہیں روک رہے لیکن اگر الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات نامزدگی منظور نہ کیے یا وہ بدعنوانی میں ملوث پائے گئے تو انہیں پارٹی میں کوئی مقام نہیں مل سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان کی اس مجبوری کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ان کی جماعت میں چند ایک ناموں کے علاوہ ایسے کوئی معروف لوگ موجود نہیں ہیں جو انتخابات میں یقینی کامیابی حاصل کر سکیں۔ پنجاب کی سیاست میں ذات اور برادریوں کی بہت اہمیت ہے اور لوگ اپنی برادری کے ایسے لوگوں کو ہی ووٹ دینا پسند کرتے ہیں جن کے متعلق انہیں یہ یقین ہو کہ یہ اپنے علاقے کا دولت مند اور اثر و رسوخ والا شخص ہے جو ان کا کوئی کام کروا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے عمران خان کو آئندہ انتخابات کے لیے ایسے لوگوں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے جو آئندہ انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکتے ہوں۔

ان دنوں پاکستان کی ہر سیاسی بحث کا محور پانامہ پیپرز کیس اور جے آئی ٹی کی تفتیش بنے ہوئے ہیں لیکن سرحد پار افغانستان میں حالات بگڑتے جا رہے ہیں، ہلاکت خیز دہشت گرد حملوں میںسیکڑوں جانوں کے اتلاف کو پاکستان میںانتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے ۔ افغان طالبان کے اثر و رسوخ بڑھنے کے ساتھ ہی وہاں داعش اور اس کے اتحادی گروپس بھی مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل امریکی فوج نے پاکستان کی سرحد سے نزدیک داعش کے ایک ٹھکانے پر مدر آف آل بومبز کا استعمال کرکے بنکرز اور سرنگوں کے اس کمپلیکس کو بتاہ کیا جو القاعدہ کے استعمال میں بھی رہا تھا جبکہ یہ کمپلیکس سوویت افواج کے خلاف جنگ کے دوران امریکیوں کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ یہ خبریں گردش کرتی رہی تھیں کہ اس حملے داعش کے 90سے زیادہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جن میں14 بھارتی شہری بھی شامل تھے۔اب یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کی سرحد کے نزدیک توڑا بوڑا کے پہاڑوں میں داعش نے اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہے، یہ وہی مقام ہے جسے اسامہ بن لادن نے فرار میں پناہ لینے کے لیے استعمال کیا تھا اور امریکی طیاروں کی کارپٹ بمباری بھی ان سرنگوں کو تباہ نہیں کر سکی تھی۔ داعش کا افغانستان میں مضبوط ہونا خطے کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ خود امریکہ سے بھی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ داعش کے پیچھے امریکہ کا سرمایہ کام کر رہا ہے۔ اگر افغانستان میں داعش مضبوط ہوئی تو پھر افغانستان اور پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا کیونکہ ’’غزوۂ ہند‘‘ کا نظریہ داعش کے جنگجوئوں کو یقیناً بھارت لے جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT