Thursday , September 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / پاکستان میں غریبوں کا مسیحا

پاکستان میں غریبوں کا مسیحا

اسلامی ممالک ہوں یا غیراسلامی ممالک ہر جگہ اہل اسلام کے حالات قابل صد افسوس ہیں ، کوئی اسلامی ملک ، جدید دنیا کیلئے بہترین مثال یا قابل تقلید نمونہ پیش کرنے سے قاصر ہے ، نہ مسلمانوں میں حکمرانی ، جہانبانی کا سلیقہ رہا اورنہ ہی ادارہ جات کے انتظامات کی صلاحیت رہی ۔ نگاہیں متلاشی ہیں ایسے مسلمان لیڈر کی جس کو غیرقوم اپنا مسیحا سمجھتے ہوں ، دل بے چین و مضطرب ہے ان انسانیت نواز شخصیات کے لئے جن میں اسلام کی افاقیت اور وسعت نظری کے جلوے ہوں جو بلا لحاظ مذہب و ملت ، رنگ و نسل ساری انسانیت کی خدمت کیلئے نہایت مستعدی سے کوشاں ہوں ، مستقیم المزاج ہوں ، عدل و انصاف امانت و دیانت بے تکلفی اور سادگی جیسے خصالِ فطرت اور پیغمبرانہ صفات کے حامل ہوں اور حسن انتظام اور جذبۂ خدمت خلق سے غیرقوم کو متاثر کرتے ہوں ۔

اہل اسلام اس نبی برحق کے اُمتی ہیں جن کی رحمت پر مبنی تعلیمات صرف اپنے کنبے اور خاندان تک محدود نہ تھیں ، صرف اپنی قوم اور ملت کے ساتھ مختص نہ تھیں بلکہ جس نے ساری انسانیت کو ایک کنبہ ، ایک قبیلہ اور ایک وحدت کا تصور دیا اور آدم علیہ السلام کی اولاد کو بلا لحاظ رنگ و نسل ان کے جائز اور فطری حقوق عطا کئے ۔ جن کی نگاہ میں عربی ، عجمی ، کالے اور گورے کی کوئی تفریق نہ تھی ۔ اﷲ سبحان و تعالیٰ نے آپ کو  ’’رحمۃ للعلمین‘‘ کے لقب سے سرفراز فرمایا ، ساری انسانیت کے لئے آپ کو پیغمبرانہ محبت و شفقت ، نرمی ، عفو و درگز کا بحرذخار بناکر بھیجا ، زمانۂ قبل از اعلان نبوت میں بھی حضرت خدیجہ الکبری رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شہادت کے مطابق آپ ﷺ ہمیشہ غریبوں ، محتاجوں کے ہمدرد ، مسافروں کے بہی خواہ مظلوموں کے حامی و ناصر ، بیواؤں اور یتیموں کے ملجا بلکہ ان کو کماکر دینے والے رہے۔ یہ وہ پیغمبرانہ صفات کے جلوے خدائے ذوالجلال کے مخصوص بندوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں جن کا مشن اور مقصد حیات مخصوص قوم و فرقہ کے لئے نہیں بلکہ جن کی ساری زندگی انسانیت کیلئے وقف ہوتی ہے۔ انہی مردانِ باخدا میں ایک عظیم نام عبدالستار ایدھی کا ہے ، جس طرح پاکستان کی قوم قائد اعظم محمد علی جناح ، شاعر مشرق علامہ اقبال کو فراموش نہیں کرسکتی اس طرح وہ عبدالستار ایدھی کو ان کے فلاحی و رفاہی ، خدمت خلق پر مبنی عظیم خدمات کو بھلا نہیں سکیں گے ۔

عبدالستار ایدھی یکم جنوری ۱۹۲۸؁ء کو متحدہ ہندوستان کی ریاست گجرات کے گاؤں بانٹوا میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۴۷؁ء میں تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے کچھ افراد خاندان کے ساتھ کراچی ہجرت کئے ، وہ میمن برادری سے تعلق رکھتے تھے ۔ ۱۹۴۹؁ء ہی سے انھوں نے خدمت خلق کاعملاً آغاز کردیا ، ابتداء میں اپنی ہی دوکان میں ایک ڈاکٹر سے تعاون حاصل کرکے ڈسپنسری قائم کی ۔ ۱۹۵۷؁ء میں بڑے پیمانے پر کراچی میں فلو کی وباء پھیلی ، ایدھی نے فی الفور توجہہ دی ، خیمے نصب کئے ، ادویات فراہم کئے تو لوگوں نے ان کی خدمات کو سراہا ، مخیر حضرات نے تعاون کرنا شروع کیا ، پس یہی چیزیں ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد بنی ، انھوں نے ایک ایمبولینس زخمیوں اور بیماروں کو دواخانہ بروقت پہنچانے کا تھیہ کیا ، دیکھتے دیکھتے ایمبولینس کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا حتی کہ ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاؤنڈیشن پوری دنیا میں سب سے بڑا اور وسیع ادارہ بن گیا جس کے پاس تقریباً دو ہزار ایمبولینس پاکستان کے طول و عرض و بیرونی پاکستان میں موجود مریضوں اور زخمیوں کو ہر وقت اماداد پہنچانے میں مصروف ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ سرویس سرکاری و نیم سرکاری    ہر سرویس سے زیادہ تیز و فعال ہے ۔ ایدھی کے سماجی خدمات میں وسعت ہوتی گئی حتی کہ انھوںنے جھولے سے لیکر تدفین اموات تک مختلف خدمات کیلئے مختلف ادارہ جات کی بنیاد رکھی۔ آج کے دور میں دوچار بچوں کو پالنا والدین کے لئے سخت مرحلہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس مرد قلندر کے سینے میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک رحمت و شفقت سے سرشار دل رکھا تھا جو ضرورتمندوں کے لئے دھڑکتا تھا۔ جب ایدھی نے دیکھا کہ لوگ بدکاری کرتے ہیں اور ناجائز اولاد کوختم کررہے ہیں تو اس نے ایک ’’جھولا‘‘ مہم کا آغاز کیا اور اپیل کی کہ جو ایک گناہ کے مرتکب ہوئے وہ اپنی ناجائز اولاد کو ختم کرکے دوسرے گناہ کے مرتکب نہ ہو ، انھوں نے اپنے گھر اور آفس کے سامنے جھولا بنادیا اور اعلان کردیا جو بچوں کو پالنا نہیں چاہتا وہ اس جھولے میں بچے کورکھ دیں میں اس کو پالنے کی ذمہ داری لیتا ہوں ، اس طرح ایدھی نے ہزارہا بچوں کی پرورش ، تعلیم کا انتظام کیا ۔ اولڈ پیپل ہوم بنایا ، پاگل خانے بنادیئے ، چلڈرن ہوم قائم کردیئے عورتوں کے لئے میٹرنٹی دواخانہ قائم کردیئے ۔ یتیموں اور بے سہارا خواتین کیلئے شیلٹرس بنادیئے ۔ غرض مختلف میدان میں آپ نے خدمات کی مثال قائم کی ۔ یہاں تک کہ ایدھی فاؤنڈیشن ملک پاکستان کا سب سے بڑا ویلفیر ادارہ بن گیا اور ۲۰۰۰ ؁ء میں گینیز آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بھی ہوگیا ۔ ایدھی کی شخصیت میں اتباع نبوی کا جلوہ جھلکتا ہے اور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کا طریقہ رہا کہ آپ نہ صرف غریبوں کے بہی خواہ رہے بلکہ ان کو کماکر دینے والے تھے۔ آپ ﷺ کسی کو تکلیف میں مبتلا دیکھتے تو بے قرار ہوجاتے اور جب تک اس کا مناسب انتظام نہ فرمادیتے مطمئن نہ ہوتے تھے ۔ (مسلم ، الصدقات ۲:۲۰۵)

یتیموں اور بیواؤں سے آپؐ خصوصی شفقت فرماتے اور آپ ہمیشہ ان کی بھلائی اور خیرخواہی کیلئے کوشاں رہتے ۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : جو کوئی کسی بیوہ یا مسکین کی بہتری کے لئے کوشاں رہتا ہے، وہ اﷲ کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہد یا دن کو روزہ رکھنے اور رات بھر نوافل پڑھنے والے عابد کی طرح ہے ۔ مزید فرمایا یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہوگا جس طرح ہاتھ کی دو انگلیاں۔ (حوالہ مذکور)
غرض انسانیت کا درد رکھنے والا یہ مرد آہن ، مذہب ، ملت ، رنگ ، نسل سے ماوراء مخلوق خدا کی مختلف میدانوں میں خدمت کرتے ہوئے ۸ جولائی ۲۰۱۶؁ء کو اس دارفانی سے کوچ کرگیا اور آنے والی نسل کے لئے بہترین نقوش چھوڑ گیا ۔ ایک غیرتعلیم یافتہ و غیرعالم شخص کروڑہائے روپیوں کے چندے وصول کرتا ہے اور اس کو صحیح مصرف میں خرچ کرتا ہے اور اپنی ذات کے لئے اس سے کچھ حاصل نہیں کرتا ، دو جوڑوں اور دو کمروں میں پوری زندگی گزار دیتا ہے۔ اس سے بڑھکر امانت ، دیانت ، عدل ، انصاف ، سادگی ، استقامت ، للہیت اور حسن انتظام کی کیا مثال ہوسکتی ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ذخیرۂ آخرت بنائے اور ہم کو ان کی تقلید کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

TOPPOPULARRECENT