Wednesday , September 20 2017
Home / پاکستان / پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے حامیوں کو بھی سزا کی حمایت

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے حامیوں کو بھی سزا کی حمایت

اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی قومی اسمبلی میں آبرو ریزی اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف کافی عرصے سے التوا میں پڑے دو قوانین منظور کر لئے جانے اور قصاص کی ادائیگی کی صورت میں بھی قاتل کو قید سے رہا نہ کرنے کی شق شامل قانون کر نے کی مخالفت اور موافقت میں بحث شروع ہو گئی ہے ۔ایک طرف جہاں مذہبی جماعتوں نے اس شق کی مخالفت کی ہے اور اصرار کیا ہے کہ پہلے علماء کا ایک پینل یہ بل منظور کرے ، اس کے بعد اسے رائے شماری اور منظوری کیلئے پیش کیا جائے وہیں آزاد خیال حلقوں کا خیال ہے کہ اگرچہ یہ قوانین اس ملک میں ایک خوش آئند پیشرفت ہیں، جس میں قندیل بلوچ کے والدین جیسے حالات اکثر و بیشتر مقتولین کے ورثاء کو پیش آتے ہیں لیکن غیرت کے نام پر قتل صرف ان قوانین سے ختم نہیں ہوں گے ۔پاکستانی میڈیا خاص طور سوشل میڈیا میں آبرو ریزی اور غیرت کے نام پر قتل اور قاتل کی معافی کے خلاف اور بھی سخت قانونی گنجائشوں کے حق میں نظر آ تا ہے کیونکہ غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کو معاف کرنے (یا زبردستی معاف کروانے ) کی اجازت دینے والی قانونی موشگافی ملک بھر کی خواتین کیلئے سزائے موت سے کم نہیں۔پاکستانی بلاگروں نے بھی محاذ سنبھال لیا ہے ۔

ایک ایسے ہی تازہ بلاگ میں اس اطلاع کے ساتھ کہ ناموس کیلئے قتل کی جانے والی قندیل بلوچ کے والدین کے پاس اب رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور مالک مکان نے انہیں چند دن پہلے مبینہ طور پر گھر سے بھی نکال دیا ہے ۔ بلاگر نے پاکستان کے پریشان حال طبقے کے جذبات کی یوں ترجمانی کی ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کی فطرت چونکہ ایسی ہے کہ اس میں صرف قاتل نہیں بلکہ کئی افراد شامل ہوتے ہیں اس لئے ایک ایسا نظام بنایا جانا چاہیے ، جس میں ایسی برادریاں اور گروہ، جو غیرت کے نام پر قتل کا جواز پیش کرتے ہیں، انہیں اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہونے کی وجہ سے اجتماعی سزا دی جانی چاہیے ۔بلاگر رافعہ زکریا نے ڈان میں لکھا ہے کہ جب ایک گاؤں، ایک برادری، ایک قبیلے اور ایک گھرانے کو یہ معلوم ہوگا کہ غیرت کے نام پر قتل کی حمایت کرنے اور جرم میں سہولت کار بننے سے انہیں اجتماعی طور پر سزا ملے گی، تو کچھ امید ہے کہ ایسے واقعات میں کمی آئے گی۔قاتل کے لیے ایک ممکنہ عمر قیدبھی اہم قدم ہے ، مگر یہ ان اقدامات میں سے صرف ایک قدم ہے جو ہر حال میں اٹھائے جانے چاہیئں۔

پاکستانی آئی ایس آئی سربراہ کی
تبدیلی کا امکان
اسلام آباد ۔ 8 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پاکستان کی طاقتور جاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کو آئندہ چند ہفتوں میں تبدیل کیا جائے گا ۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ رضوان اختر کو ستمبر 2014 میں آئی ایس آئی کا ڈائرکٹر جنرل بنایا گیا تھا ۔ عام طور پر یہ آئی ایس آئی کے سربراہ کو 3 سال بعد ہی تبدیل کیا جاتا ہے مگر اب انہیں وقت سے قبل ہٹا دیا جائیگا ۔۔

TOPPOPULARRECENT