Monday , August 21 2017
Home / اداریہ / پاکستان میں قتل و خون کا بازار

پاکستان میں قتل و خون کا بازار

زندگی موت کے پہلو میں بسر ہوتی ہے
ظلم انصاف کے سائے میں جواں ہوتا ہے
پاکستان میں قتل و خون کا بازار
پاکستان میں مسلسل ہلاکت خیز کارروائیاں چل رہی ہیں۔ تقریبا روز ہی کسی نہ کسی مقام پر دہشت گردانہ اور خود کش نوعیت کے حملے کئے جا رہے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوکر زندگی بھر معذوری کا شکار ہو رہے ہیں۔ درجنوں خواتین بیوہ ہو رہی ہیں۔ بے شمار خواتین کی گود سونی ہو رہی ہے ۔ کئی خواتین کا سہاگ لٹ رہا ہے ۔ سینکڑوں بچے یتیم و یسیر ہو رہے ہیں۔ ان کی زندگیاں بے طرح مسائل کا شکار ہو رہی ہیں۔ مالی نقصانات اس سے علیحدہ ہیں جنہیں اگر نظر انداز کر بھی دیا جائے تو انسانی جانوں کا اتلاف ایسا نہیں ہے جسے نظر انداز کردیا جائے ۔ قتل و خون اور غارت گری کے اس بازار نے انسانی خون کو پانی سے بھی ارزاں کردیا ہے ۔ یہ انتہائی مذموم اور قابل مذمت کارروائیاں ہیں جن کی کسی بھی معاشرہ میں اور مہذب سماج میں کوئی اجازت نہیں ہوسکتی اور نہ ان کارروائیاوں کا کوئی بھی جواز قابل قبول ہوسکتا ہے ۔ پاکستان کے کسی نہ کسی شہر میںکسی نہ کسی مقام پر اس طرح کے حملے اور کارروائیاں معمول کی بات ہوگئی ہیں۔ پاکستان کی حکومت اور سکیوریٹی ایجنسیاں ان کارروائیوں کو روکنے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات کرنے کا ادعا کرتی ہیں۔ ان کے دعووں کے باوجود اس طرح کی کارروائیوں کا سلسلہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے اور انسانی جانوں کا اتلاف ہوتا جا رہا ہے ۔ اس طرح کے حملے کرنے والے جو عناصر ہیں وہ اپنی ہی منطق کے مطابق کام کرتے ہیں اور کسی دوسرے کی منطق کو قبول کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایسے عناصر ہیں جو کبھی خود پاکستان کی مختلف ایجنسیوں کے اشاروں پر کام کرتے تھے اور اب وہ خود ان ایجنسیوں کیلئے اور اپنے کرتا دھرتا افراد کیلئے ہی مسئلہ بن گئے ہیں۔ اب یہ عناصر کسی خانوں میں بٹ گئے ہیں۔ کوئی طالبان ہے تو کوئی القاعدہ ہے ۔ کوئی آئی ایس ہونے کا ادعا کرتا ہے تو کوئی حقانی نیٹ ورک کیلئے کام کرتا ہے ۔ کوئی تحریک طالبان پاکستان کا رکن ہے تو کوئی کسی اور تنظیم کا رکن ہے ۔ تمام تنظیمیں اور ان تنظیموں سے وابستہ افراد صرف انسانی جانوں کو تلف کرنے اور نوع انسانی کو حتی المقدور نقصان پہونچانے کی کوششوں میں ہمہ تن گوش ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی پروا ہ نہیں ہے کہ اس سے کیا مسائل پیش آسکتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے افغانستان سے ملنے والی سرحد کے علاقہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورکس و ٹھکانوں کو تباہ کرنے کیلئے طویل وقت تک کارروائیاں کی گئیں اور انہیں بے تحاشہ نقصان پہونچانے کا دعوی کیا گیا ہے ۔ کئی مہینوں تک یہاں تخریب کاروں کو نشانہ بنایا گیا اور ایک وسیع علاقہ کو دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک سے پاک کردینے کا اعلان بھی کیا گیا ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ طالبان ہوں یا القاعدہ کے ارکان ہوں یا پھر آئی ایس کیلئے کام کرنے والے ہوں ‘ وہ ایک بار پھر اپنا سر ابھار رہے ہیں اور انہیں ختم کرنا پاکستان یا اس کی ایجنسیوں کے بس کی بات نہیں رہ گئی ہے ۔ وہ کسی ایک گروپ کو نشانہ بناتے ہیں تو کوئی دوسرا گروپ سرگرم ہوجاتا ہے ۔ کسی ایک تنظیم کی کمر توڑی جاتی ہے تو دوسری تنظیم کمر کس کر تیار ہوجاتی ہے ۔ کچھ عناصر کو گرفتار یا فضائی حملوں میں ہلاک کیا جاتا ہے تو انہیں دوسرے کئی کارکنوں کی کمک حاصل ہوجاتی ہے ۔ یہ سارا کچھ حکومت کی انسداد کی کوششوں کے باوجود ہو رہا ہے اور حکومت ایسا لگتا ہے کہ اپنے دعووں میں کوئی استحکام پیدا کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ پاکستان کے طول و عرض میں ایسے گروپس اور عناصر موجود ہیں جو حکومت اور خود پاکستان کے عوام کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ ان کے اپنے مقاصد ہیں اور ان کے سوا انہیں کسی اور شئے کی فکر نہیں ہے ۔ یہ عناصر انسانیت کیلئے داغ بن کر رہ گئے ہیںاور انسانیت کو داغدار کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ انسانیت کی توہین کر رہے ہیں اور انسانوں کو بے تحاشہ نقصان پہونچا رہے ہیںجس کا انہیں احساس تک نہیں ہے ۔
پاکستان میں فوجی اور سیول قیادت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ کا کوئی ایسا موثر حل دریافت کریں جسکے بعد یہ دہشت گردانہ عناصر اور طاقتیں دوبارہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ پاکستان کو یہ احساس بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ یہی طاقتیں ہیں جو اسے اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع بھی دینا نہیں چاہتیں۔ جب کبھی حالات کو بہتر بنانے کی کوششیں ہوتی ہیں یہی طاقتیں ماحول کو پراگندہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ یہ عناصر پاکستان کیلئے داخلی اور بیرونی دونوں ہی محاذوں پر مسائل و پریشانیاں پیدا کر رہے ہیں اور پاکستان کا استحکام متاثر ہو رہا ہے ۔ ایسی صورتحال علاقہ کیلئے اور علاقہ کے دوسرے ممالک کیلئے بھی اچھی نہیں کہی جاسکتی ۔ ان عناصر کی سرکوبی کیلئے فوجی اور سیول قیادت کو ایک جامع اور مبسوط حکمت عملی اور لائحہ عمل کے ساتھ کام کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک ممکن ہوسکے ۔

TOPPOPULARRECENT