Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / پاکستان میں لاپتہ دو ہندوستانی علماء بحفاظت دہلی واپس

پاکستان میں لاپتہ دو ہندوستانی علماء بحفاظت دہلی واپس

پراسرار گمشدگی پر واضح اظہارخیال سے گریز ، حراست میں لئے جانے کی توثیق ، تعاون پر حکومت ہند اور سشما سوراج سے اظہار تشکر
نئی دہلی ۔20 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی کی درگاہ حضرت نظام الدین ؒاولیاء کے سجادہ نشین اور ان کے بھتیجہ پاکستان میں کئی دن تک لاپتہ رہنے کے بعد بالآخر آج قومی دارالحکومت واپس پہونچے۔ تاہم انھوں نے اپنی پراسرار گمشدگی کے بارے میں واضح طورپر کچھ کہنے سے پس و پیش و گریز کیا۔ 80 سالہ مولانا سید آصف نظامی نے جو اس درگاہ کے سجادہ نشین ہیں ایک اور صوفی عالم دین ناظم علی نظامی کے ساتھ آج یہاں پاکستان انٹرنیشنل ایرلائینس ( پی آئی اے ) کے ایک طیارہ سے نئی دہلی پہونچے ۔ بعد ازاں وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی جنھوں نے ان دونوں ہندوستانی علماء کی تلاش اور بحفاظت وطن واپسی کیلئے حکومت پاکستان سے موثر نمائندگی کی تھی ۔ ان دونوں علماء نے اگرچہ اپنی پراسرار گمشدگی اور اس دوران پیش آنے والی مصیبتوں کے بارے میں واضح طورپر کچھ کہنے سے عملاً پس و پیش و گریز کیا لیکن مولانا سید آصف علی نظامی کے فرزند ساجد نظامی نے کہا کہ ان دونوں کو کراچی کے ایک اردو اخبار میں شائع شدہ خبر کی بنیاد پر اُٹھالیا گیا تھا۔ اس اردو روزنامہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان دونوں ( ہندوستانی علمائے دین ) کے ہندوستانی انٹلیجنس اور سرکردہ جاسوس ادارہ راء سے روابط ہیں۔ ان اطلاعات کے بارے میں ایک سوال پر کہ سندھ کے اندرونی علاقہ میں مواصلاتی نٹورک نہ ہونے کے سبب ان سے رابطہ پیدا نہیں کیا جارہا تھا ۔ مولانا ناظم علی نظامی نے اس دعویٰ کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ۔ انھوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’ہمارے پاس سندھ کے اندرونی علاقہ کا ویزا نہیں تھا ۔ چنانچہ ہم وہاں کیسے جاسکتے ہیں۔ نٹورک کے مسئلہ کے سبب ہم سے رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات بالکل غلط ہیں‘‘ ۔ اس سوال پر کہ آیا انھیں پاکستانی حکام نے حراست میں رکھا تھا ؟ ساجد نے جواب دیا ’’جی ہاں‘‘ حراست میں رکھا گیا تھا ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا پاکستانی جاسوس ادارہ آئی ایس آئی بھی اس واقعہ میں ملوث ہے اور آیا انھیں ہراساں کیا گیا تھا ؟ ساجد نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا لیکن یہ واضح کردیا کہ ان کے خلاف کوئی جبر و استبداد نہیں کیا گیا ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کے بعد ناظم علی نظامی نے اپنی بحفاظت واپسی کے لئے حکومت ہند اور بالخصوص وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ امن و محبت کے پیغام کے ساتھ پڑوسی ملک گئے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہم اُن میں سے نہیں ہیں جو کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث ہوا کرتے ہیں۔ ہم امن و محبت کا پیغام عام کرنے کیلئے پاکستان گئے تھے ۔ چند افراد نے ممکن ہے کہ ہمارا پیغام پسند نہیں کیا ہوگا۔ میں بھرپور عزم و حوصلے کے ساتھ پھر ایک مرتبہ پاکستان جاؤں گا ‘‘ ۔ مولانا نظامی نے ان کی واپسی کیلئے فراہم کردہ تعاون پر حکومت پاکستان سے بھی اظہارتشکر کیا۔

TOPPOPULARRECENT