Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / پاکستان میں مارشل لاء کا اندیشہ نہیں : عالمی رائے

پاکستان میں مارشل لاء کا اندیشہ نہیں : عالمی رائے

واشنگٹن میں منعقدہ سیمینار سے سابق سفارت کاروں اور دانشوروں کا خطاب
واشنگٹن۔17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکی دانشوروں کا ایک طبقہ ایسا ہے جن کی سوچ یہ ہے کہ پاکستان کی طاقتور فوج ملک میں منتخبہ حکومت کو معزول نہیں کرے گی، البتہ ’’اپنا اثرو رسوخ اور دبدبہ‘‘ ضرور قائم رکھے گی۔ یاد رہے کہ ان خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت کیا جارہا ہے جب پاکستان میں فوجی سربراہ راحیل شریف کے جانشین کے لئے کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ سفیر رابن رافیل نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار کی اچانک تبدیلی کے کوئی امکانات نہیں ہیں کیونکہ پاکستانی فوج خود یہ نہیں چاہتی کہ پاکستان میں منتخبہ حکومت کو معزول کیا جائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ رابن رافیل سابق میں امریکہ کی جنوبی ایشیائی اُمور کی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ تھیں، جو ان چھ دانشوروں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا ایک سیمینار میں تجزیہ کیا ہے جس کا انعقاد واشنگٹن میں کیا گیا تھا۔ انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ نے یہ اطلاع دی۔ سیمینار میں مقررین نے پاکستان کی کمزوریوں اور طاقتور پہلوؤں کو اجاگر کیا جو وہاں کے سیاسی ڈھانچہ میں پائی جاتی ہیں۔

سیاسی قائدین اور طاقتور فوج کے درمیان خوشگوار تعلقات بھی مقررین نے وضاحت سے پیش کئے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کی عوامی حکومت میں فوج اپنا اثر و رسوخ اور دبدبہ برقرار رکھنے میں یقین رکھتی ہے لیکن منتخبہ حکومت کا تختہ پلٹ دینا فوج کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ رافیل کو امریکہ میں پاکستان کا زبردست ہمدرد تصور کیا جاتا ہے بلکہ پاکستانی سفارت کاروں سے ان کے مبینہ دوستانہ روابط پر ایف بی آئی نے ان کے خلاف تحقیقات بھی کی تھی، تاہم جاریہ سال جون میں تمام الزامات واپس لے لئے گئے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں فوری طور پر انتخابات منعقد کروائے گئے تو سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کو پہنچ سکتا ہے تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت یعنی 2018ء میں ہوں گے۔ رافیل کے مطابق ان کی سوچ اس بات پر بھی مرکوز ہے کہ فوج، عوامی حکومت میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی، البتہ اگر ملک میں عوامی بے چینی پائی جاتی ہے جس کے شدت اختیار کرنے پر فوجی کارروائی ممکن ہے تاکہ قیام امن کو بہرحال یقینی بنایا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح فوج کی حکمت عملی میں تبدیلی واقع ہوئی ہے

اور وہ منتخبہ عوامی حکومت کا تختہ پلٹنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس طرح عوام کی سوچ میں بھی تبدیلی ہوئی ہے جو کسی بھی حالت میں اقتدار کی اچانک تبدیلی کو برداشت نہیں کریں گے۔ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں نصف سے زیادہ سال ملک میں آمرانہ حکومتوں کا بول بالا رہا ہے جہاں ملک کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا مکمل کنٹرول مسلح افواج کے ہاتھوں میں رہا۔ رافیل نے البتہ اس صورت حال کے بارے میں بھی انتباہ دیا کہ ملک میں حالات اگر ناخوشگوار ہوئے تو فوجی حکومت کو عوام کی مرضی کے بغیر بھی مسلط کیا جاسکتا ہے جیسا کہ 1999ء میں ہوا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو امریکہ صورتحال کا قریب سے جائزہ لینے کے بعد اپنا کوئی فیصلہ لے گا۔ خطہ میں امریکی مفادات کو نقصان نہ پہنچاتے ہوں۔ اسی دوران مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ماروین وین بام نے کہا کہ 2013ء میں پی پی پی سے بی ایم ایل (این) کو اقتدار کی منتقلی نے خطہ میں سیاسی کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیا تھا اور اس کے بعد پاکستان میں اقتدار کی اچانک تبدیلی کے امکانات موہوم سے ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT