Sunday , August 20 2017
Home / پاکستان / پاکستان میں مخالف گستاخی قانون پر سپریم کورٹ کی وارننگ

پاکستان میں مخالف گستاخی قانون پر سپریم کورٹ کی وارننگ

اسلام آباد ۔ 28 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی سپریم کورٹ نے آج اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مملکت پر زور دیا کہ مذہب کے خلاف گستاخیوں کے متنازعہ قوانین کے تحت سزائے قید اور حتیٰ کہ سزائے موت کا سامنا کرنے والے سینکڑوں افراد کے خلاف جھوٹے الزامات نہیں لگائے گئے ہیں کیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دشمنوں نے شخصی مخاصمت کے جذبہ  پر انتقام لینے کیلئے بھی اس قانون کا استعمال کیا ہے۔ پاکستان نے مذہب کے خلاف گستاخی کا قانون ایک حساس مسئلہ ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی والے اسلامی ملک پاکستان میں حتیٰ کہ الزامات ثابت نہ ہونے پر بھی برہم ہجوم کی جانب سے خاطیوں پر تشدد اور ہجوم کے حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز اپنے ایک تفصیلی و جامع فیصلہ میں خبردار کیا کہ اسلام میں جھوٹا الزام لگانا بھی بذات خود سنگین جرم ہے۔ اس فیصلہ سے چند ہفتے قبل ایک تاریخی رولنگ میں سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کو دی گئی سزائے موت کو جائز قرار دیا تھا ۔ ممتاز قادری جو پنجاب کے ترقی پسند ، سیکولر اور آزاد خیال گورنر سلمان ، تاثیر کا باڈی گارڈ تھا اور اسلام پسندوں کی طرف سے ذہن سازی کے بعد دوران ڈیوٹی سلمان تاثیر کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ اس کو دی گئی سزائے موت کی پاکستان کے اعتدال پسند گوشوں نے حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے مذہبی انتہا پسندی کو ایک زبردست دھکا لگا ہے ۔ اس تاریخی رولنگ کے بعد سپریم کورٹ نے گزشتہ روز مذہب کے خلاف گستاخی کے قانون کے بارے میں یہ وارننگ دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT