Thursday , August 24 2017
Home / پاکستان / پاکستان میں مذہبی رواداری، اقلیتیں مکمل آزاد

پاکستان میں مذہبی رواداری، اقلیتیں مکمل آزاد

پشاور کی دیوالی تقریبات میں مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کی شرکت، ہم آہنگی اور بھائی چارگی کا ماحول
پشاور ۔ 17نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پشاور میں جاریہ سال ہندوؤں کے تہوار دیوالی منانے کیلئے ان کے ساتھ مسلمان، عیسائی اور سکھ بھی شامل ہوگئے۔ پشاور پاکستان کے صوبہ پختونخواہ کا دارالخلافہ ہے۔ اس تقریب کا اہتمام آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ کے صدرنشین ہارون سرب دیال نے ہفتہ کے روز قدیم اور تاریخی مقام گورکھتری میں کیا تھا۔ اس موقع پر معدنیات و لیبر وزارت کی صوبائی وزیر انیسہ زیب طاہر کھیلی نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور سردار سورن سنگھ اور قانون ساز شوکت یوسف زئی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر عالم دین اور وزیر برائے مذہبی امور قاری روح اللہ مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دیوالی کے موقع پر بین مذہبی اجتماع وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس نوعیت کے اجتماعات سے ہم مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارہ کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اقلیتوں (ہندو، عیسائی اور سکھ) کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے، تہوار منانے اور مذہبی تعلیم حاصل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

 

مسٹر دیال نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہیکہ پاکستان میں رواداری باقی ہے جہاں ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گذارنے کی پوری پوری آزادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو برادری نے اگلے مہینہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت یعنی عید میلادالنبی ؐ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پشاور میں اس سلسلہ میں متعدد جلوس نکالے جائیں گے اور جلسے منعقد ہوں گے جہاں سیرت النبی ؐ بیان کی جائے گی۔ شرکاء میں بڑی تعداد اقلیتی فرقہ سے ہوگی۔ دوسری طرف سابق وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایا کہ مساجد، چرچس اور منادر پر بمباری کرتے ہوئے جس عدم رواداری کے ماحول کو پیدا کیا گیا تھا وہ ماحول اب پوری طرح ختم ہوچکا ہے۔ جاریہ سال دیوالی کی تقریبات سے یہ ظاہر ہوگیا کہ یہاں امن کی بحالی ہوچکی ہے اور اقلیتوں کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق تقریبات منعقد کرنے اور تہوار منانے کی پوری پوری آزادی ہے۔ قانون ساز یوسف زئی نے یہ بات کہی۔ صوبائی وزیر طاہر کھیلی نے دیوالی تقریبات میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدعو کرنے کے اس نئے سلسلہ کی ستائش کی اور کہا کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ بات صرف دیوالی، عید میلاد اور بیساکھی کی نہیں ہے بلکہ 25 ڈسمبر کو عیسائیوں کے سب سے بڑے تہوار کرسمس جسے دنیا کے ہر گوشے میں دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، پشاور میں ہونے والی کرسمس تقریبات میں مسلمان بھی کثیر تعداد میں شرکت کریں گے۔ اسی طرح بیساکھی تہوار بھی فصلوں کی کٹائی کی خوشی کا پیغام لیکر آتا ہے۔ اس تہوار کو منانے کیلئے نہ صرف پشاور بلکہ پورے پاکستان کے مسلمان، ہندو اور عیسائی پیش پیش رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT