Wednesday , August 16 2017
Home / Top Stories / پاکستان میں کسی بھی وزیراعظم نے میعاد مکمل نہیں کی : نواز شریف

پاکستان میں کسی بھی وزیراعظم نے میعاد مکمل نہیں کی : نواز شریف

Islamabad : In this Thursday, June 15, 2017, photo, Pakistani Prime Minister Nawaz Sharif waves with his son Hussain Nawaz, right, outside the premises of the Joint Investigation Team, in Islamabad, Pakistan. Pakistan's Supreme Court in a unanimous decision has asked the country's anti-corruption body to file corruption charges against Prime Minister Nawaz Sharif, his two sons and daughter for concealing their assets. AP/PTI(AP7_28_2017_000072B)

 

l کچھ کو پھانسی دی گئی
l کچھ جلاوطن ہوگئے
l کچھ جیل چلے گئے
l راولپنڈی میں عوامی ریالی سے خطا ب

اسلام آباد ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے عوام سے جمہوری اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے جمہوری طرز پر منتخب کئے گئے نمائندوں کو کسی بھی طرح غیرجمہوری طرز پر ہٹائے جانے کے عمل کی حوصلہ شکنی کرنے کی خواہش کی۔ یاد رہیکہ گذشتہ ماہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پناما پیپرس اسکام میں نواز شریف کو ملوث پائے جانے پر انہیں ملک کے وزیراعظم کیلئے نااہل قرار دیا تھا اور نواز شریف بعدازاں مستعفی ہوگئے تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ نواز شریف مسلسل تیسری بار اقتدار سے ایک ایسے وقت معزول کئے گئے جب انہوں نے اپنی پانچ سالہ میعاد بھی مکمل نہیں کی۔ نواز شریف اس وقت اسلام آباد سے لاہور ایک ریالی کی شکل میں اپنے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ راستے میں راولپنڈی میں توقف کرتے ہوئے انہوں نے ایک بڑی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوا م کی رائے کو ہی مقدم تصور کیا جاتا ہے لہٰذا عوامی منتخبہ نمائندوں کو اگر غیرجمہوری طرز پر ہٹایا جاتا ہے تو یہ جمہوریت کی توہین ہے اور یہ عوام کا فرض ہیکہ وہ ایسی کسی بھی حرکت پر نظررکھیں۔ نواز شریف اس طویل سفر کے ذریعہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ 30 کیلو میٹر کا سفر طئے کرنے کیلئے انہیں 12 گھنٹے لگ گئے جبکہ عام حالات میں یہ فاصلہ صرف نصف گھنٹے میں طئے ہوجاتا ہے۔

67 سالہ نواز شریف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں کسی بھی وزیراعظم کو ان کے عہدہ کی میعاد مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ وزیراعظم کے پاس مستعفی ہونے کے سوائے دیگر متبادل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر وزیراعظم کو اوسطاً دیڑھ سال کی میعاد ہی حصہ میں آئی۔ کچھ کو پھانسی پر لٹکادیا گیا، کچھ کو جیل ہوگئی، کچھ کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور کچھ جلاوطن ہوگئے۔ لہٰذا عوام کو یہ عزم کرنا چاہئے کہ ان کے منتخبہ نمائندوں کو کسی بھی حال میں برطرف نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنا جمہوری طرزعمل کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ عوام مجھ سے وعدہ کریں کہ آئندہ وہ کبھی بھی اپنے وزیراعظم کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔ انہیں توہین آمیز طریقہ سے اقتدار سے برطرف کرنے کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو انتباہ دیا کہ اگر انہوں نے اپنے حقوق کا دفاع نہیں کیا تو مستقبل میں بھی ان کے منتخبہ نمائندوں کو برطرف کیا جاتا رہے گا۔ ایسا کرنا کیا آپ کے ووٹ کی توہین نہیں ہے؟ انہوں نے عدالت کے فیصلہ پر بھی یہ کہہ کر تنقید کی کہ ججس نے کہا ہیکہ بدعنوانیوں کے کوئی الزامات نہیں ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب رقمی خردبرد کے کوئی شواہد ہی نہیں ہیں تو انہیں (نواز شریف) نااہل کیوں قرار دیا گیا۔ لہٰذا میں یہ فیصلہ ’’تاریخ‘‘ پر چھوڑتا ہوں کہ میں صحیح تھا یا عدالت۔ انہوں نے ریالی میں عوام کے جم غفیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی اتنی بڑی تعداد خود ان کے حق میں فیصلہ کے مترادف ہے۔ ایک ہوتا ہے عدالت کا فیصلہ اور ایک ہوتا ہے عوام کا فیصلہ۔ اور عوام کے فیصلہ کی اہمیت عدالت کے فیصلہ سے زیادہ اہم اور وزن دار ہے جسے میں ریفرنڈم کہوں گا۔ انہوں نے البتہ یہ بات بھی کہی کہ عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے وہ اس کا احترام کرتے ہیں اور اپنے عہدہ پر واپسی کیلئے کوشاں نہیں ہیں۔ تاہم میں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ عوام میرے ساتھ رہیں کیونکہ اس میں ملک کی ترقی اور خوشحالی مضمر ہے۔ نواز شریف رات میں توقف کرنے کیلئے راولپنڈی کے پنجاب ہاؤس چلے گئے اور وہاں موجود عوام بھی پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT