Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / پاکستان میں یوم آزادی کا جشن ، جوش و خروش سے انعقاد

پاکستان میں یوم آزادی کا جشن ، جوش و خروش سے انعقاد

President Mamnoon Hussain and Prime Minister Muhammad Nawaz Sharif hoisting the national flag at a ceremony to mark the 69th Independence Day of Pakistan at Convention Centre, Islamabad on August 14, 2015.

بلوچستان میں400 شورش پسند خودسپرد،ہتھیار پولیس کے حوالے

اسلام آباد ۔ 14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں آج یوم آزادی جوش وخروش سے منایا جارہا ہے۔ اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں یوم آزادی کی مرکزی تقریب میں صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم نے پرچم کشائی کی۔تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی راشد محمود اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک رہے۔ دن کا آغاز وفاقی اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں توپوں کی سلامی سے ہوا۔ بانی پاکستان محمد علی جناح اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزارات پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریبات بھی منعقد کی گئیں۔آزادی کے دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس، اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ مساجد میں ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔جنوب مغربی بلوچستان کی مختلف ممنوعہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 400 بلوچی شورش پسندوں نے پاکستانی حکام کے روبرو خودسپردگی اختیار کی اور یہ موقع کوئی عام موقع نہیں بلکہ ملک کی 69 ویں یوم آزادی کا موقع تھا، جب انہوں نے قومی دھارے کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے کہ بلوچستان کا یہ علاقہ وسائل سے بھرپور ہے جہاں دیگر علاقوں کے مقابل مختلف شعبوں میں ملازمت کا حصول آسان تر ہے کیونکہ جہاں وسائل ہوں گے وہاں مسائل نہیں ہوتے۔ صوبائی دارالخلافہ کوئٹہ میں منعقدہ ایک تقریب میں شورش پسندوں نے اپنے ہتھیار بھی حکام کے حوالے کردیئے۔ مقامی میڈیا نے اس واقعہ کا جو فوٹیج پیش کیا ہے اس کے مطابق تمام شورش پسند یکے بعد دیگرے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ حکام کے سامنے آئے اور ہتھیار حوالے کردیئے۔

وہاں موجود بچوں نے تمام شورش پسندوں کے ہاتھوں میں قومی پرچم دیا۔ دریں اثناء جنوبی کمان کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ناصر خان جنجوا نے فلسفیانہ انداز میں کہا کہ شورش پسندوں نے دراصل حکام کے سامنے خودسپردگی نہیں کی بلکہ اپنے بہتر مستقبل کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں۔ ایک بہتر مستقبل صرف قومی دھارے کا حصہ بن کر ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ کسی کو بھی ملک کے مفاد کے خلاف کام کرنے یا کسی بھی کارروائی کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ تشدد کی زندگی ترک کرتے ہوئے پرامن زندگی جینا ہی نہ صرف شخصی طور پر بلکہ ملک کے مفاد میں ہوگا۔ ذرا سوچئے، شورش پسندوں کے ارکان خاندان بھی ہیں۔ کیا انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہوگا کہ کل ان کا بیٹا، ابا، بھائی یا شوہر زندہ رہیں گے یا نہیں۔ حکومت بلوچستان نے اس سلسلہ میں ایک مصالحتی پالیسی کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ شورش پسند قومی دھارے میں شامل ہوکر پرسکون زندگی گذاریں اور اس طرح انہیں اور صوبہ کو درکار مسائل کی یکسوئی کی جاسکے گی۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں لیکن گذشتہ 10 سال سے علاقہ شورش پسندی کی زد میں تھا جس سے ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوئی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT