Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / پاکستان نے عسکریت پسند گروپس کی مدد کی

پاکستان نے عسکریت پسند گروپس کی مدد کی

اسامہ اور ظواہری پہلے ہیرو بعد میں ویلن ۔ مذہبی عسکریت پسندی پاکستانی کارستانی : مشرف
لاہور 28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف نے آج اس بات کا اعتراف کیاکہ 1990 ء کی دہائی میں پاکستان نے لشکر طیبہ جیسے دہشت گرد گروپس کی نہ صرف مدد کی بلکہ اُنھیں تربیت بھی فراہم کی تاکہ کشمیر میں عسکریت پسندی کو ہوا دی جاسکے۔ ’’دنیا نیوز‘‘ کو اتوار کے روز ایک انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ 1990 ء کی دہائی میں کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا اور یہی وہ وقت تھا جب لشکر طیبہ اور اُس نوعیت کی کم و بیش بارہ دیگر تنظیموں کا بھی قیام عمل میں آیا۔ اُس وقت پاکستان نے اُن دہشت گرد تنظیموں کو نہ صرف امداد فراہم کی بلکہ اُن کی تربیت میں بھی اہم رول ادا کیا  اُنھوں نے کہاکہ وہ ایک ایسا وقت تھا جب حافظ سعید اور لکھوی جیسے افراد ہیرو بنے ہوئے تھے۔ بعدازاں مذہبی عسکریت پسندی دہشت گردی میں تبدیل ہوگئی اورا ب وہ (اُن کا اشارہ پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں کی جانب تھا) اپنے ہی لوگوں کا خون بہارہے ہیں جس کا سلسلہ فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے یہ بات ضرور کہی کہ مذہبی عسکریت پسندی کا آغاز کرنے والا پاکستان ہی تھا جس نے سوویت افواج سے لڑنے کے لئے دنیا بھر سے عسکریت پسندوں کو جمع کیا تھا۔ 1979 ء میں پاکستان مذہبی عسکریت پسندی کا زبردست حامی تھا۔ ہم نے طالبان کو تربیت فراہم کی اور اُنھیں روس سے لڑنے کے لئے بھیجا۔ اُس وقت طالبان، حقانی، اسامہ بن لادن اور ظواہری ہمارے ہیروز تھے اور بعد میں یہی لوگ ویلن بن گئے۔ مشرف کا اعتراف ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ہندوستان، پاکستان کے خلاف مسلسل یہ بیانات دے رہا ہے کہ ہندوستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں پاکستان کا ہاتھ ہے اور ہندوستان مخالف کارروائیاں انجام دینے پاکستان عسکریت پسندوں کو ہر قسم کی امداد فراہم کررہا ہے۔ ایک ایسے وقت جب ہند و پاک کے درمیان بات چیت کا احیاء مستقبل قریب میں تو ممکن دکھائی نہیں دیتا، مشرف کے اعتراف نے ہندوستان کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا ہے اور اگر میڈیا نے بھی اپنی طرف سے مزید نمک مرچ لگایا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ شیوسینا اور اُس قبیل کی دیگر پارٹیوں کی حوصلہ افزائی ہوجائے۔

TOPPOPULARRECENT