Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / پاکستان نے نیوکلیر ہتھیاروں کے استعمال کا منصوبہ بنایا تھا

پاکستان نے نیوکلیر ہتھیاروں کے استعمال کا منصوبہ بنایا تھا

:    کارگل جنگ    :
نواز شریف کی بل کلنٹن سے ملاقات جنہوں نے پاکستانی فوج کی دستبرداری کا مشورہ دیا تھا ۔ وائیٹ ہاؤس کے سابق اعلیٰ سطحی عہدیدار کا انکشاف

واشنگٹن ۔ 3 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : ہند و پاک کے درمیان 1999 کی کارگل جنگ جس وقت بام عروج پر تھی اور پاکستانی افواج کی ہندوستانی افواج درگت بنا رہی تھی بالکل اسی وقت پاکستان نے جنگ میں اپنے نیوکلیر ہتھیاروں کو جھونکنے کا منصوبہ بھی بنالیا تھا اور یہ منصوبہ صرف منصوبہ ہی نہیں تھا بلکہ اس پر سنجیدگی سے عمل آوری بھی ہونے والی تھی ۔ اس صورت حال پر سی آئی اے نے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کو بھی انتباہ دیا تھا ۔ وائیٹ ہاؤس کے ایک سابق اعلیٰ سطحی عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ سی آئی اے نے جو کچھ بھی تجزیہ کیا ہے وہ دراصل اس وقت یعنی 4 جولائی 1999 کو بل کلنٹن کو دی جانے والی بریفنگ کا حصہ تھی کیوں کہ اس وقت بل کلنٹن وزیر اعظم پاکستان نواز شریف سے ملاقات کرنے والے تھے ۔ نواز شریف کو اپنے اس وقت کے فوجی جنرل پرویز مشرف کے ذریعہ حالات کو سمجھنے میں ناکامی ، ملک کو ایک اور جنگ میں جھونک دینے کی بنیاد پر عالمی سطح پر توہین آمیز رویہ کا سامنا تھا ۔ جس کے بعد نواز شریف نے فوری ہی امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے کلنٹن سے کارگل جنگ کے فوری خاتمہ کے لیے تعاون طلب کیا تھا ۔ 4 جولائی 1999 کی صبح کو سی آئی اے نے اپنی انتہائی رازدارانہ روزانہ کی بریفنگ میں تحریر کیا تھا کہ پاکستان کارگل جنگ میں اپنے نیوکلیر ہتھیاروں کو آزمانے کی تیاریاں کررہا ہے ۔ اس وقت اوول آفس کا ماحول بھی سوگوار سا تھا ۔ یہ بات وائیٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل میں برسرکار بروس ریڈل نے کہی کیوں کہ وہی واحد شخص تھے جو نواز شریف اور بل کلنٹن کی ملاقات کے وقت وہاں موجود تھے ۔

 

ریڈل سی آئی اے کے سابق تجزیہ نگار ہیں اور فی الحال بروکنگس انسٹی ٹیوشن میں برسرکار ہیں ۔ انہوں نے ان حقائق کا انکشاف قومی سلامتی کے سابق مشیر سائڈی برگر کے تعزیت نامہ کے موقع پر کیا جن کا کل کینسر کے عارضہ میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال ہوگیا ۔ ریڈیل کے مطابق برگر نے کلنٹن سے اصرار کیا تھا کہ وہ نواز شریف کی پذیرائی کریں اور ان کا موقف واضخ طور پر جاننے کی کوشش کریں تاہم وہ خود اپنے ( کلنٹن ) موقف پر برقرار رہیں ۔ کارگل جنگ کے بحران کا آغاز پاکستان نے کیا تھا اور اب وہی اس کا خاتمہ کرے تو بہتر ہے جس کے لیے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کلنٹن کو یہ وضاحت کردینا چاہئے کہ کارگل جنگ سے پاکستان کی دستبرداری ہی صورت حال کو مزید دھماکو بنانے سے روک سکتی ہے ۔ مسٹر ریڈل کے مطابق سینڈی کلنٹن کو بہتر طور پر جانتے تھے ۔ جس کے مطابق کلنٹن فطری طور پر یہی چاہتے تھے کہ ہند و پاک کے درمیان کوئی معاہدہ ہوجائے تاہم اس وقت ( کارگل جنگ ) صورت حال ایسی تھی جہاں کوئی معاہدہ ہونے کا امکان نہیں تھا بلکہ پاکستان کا دستبردار ہوجانا صورت حال کو قابو میں رکھ سکتا تھا ۔ لہذا یہی وہ وقت تھا جہاں نواز شریف نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنی فوجوں کو واپس طلب کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ۔ بہر حال ، نواز شریف کو اس وقت فوج کی دستبرداری کے فیصلہ کی بھاری قیمت چکانی پڑی تھی اور پاکستانی افواج کی بغاوت میں انہیں اقتدار سے بیدخل کردیا گیا تھا ۔ جس کے بعد انہوں نے کم و بیش دس سال سعودی عرب میں جلاوطنی میں گزارے ۔ ریڈل کا کہنا ہے کہ اقتدار ایک آنی جانی شئے ہے اگر نواز شریف اس وقت جلاوطن نہیں ہوتے تو واپس کیوں آتے اور اگر واپس نہیں آتے تو آج ایک بار پھر وزیر اعظم کیسے بنتے ؟ اس وقت اگر انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا تو کوئی غم کی بات نہیں ہے لیکن جنوبی ایشیاء میں نیوکلیر جنگ کا خطرہ ضرور ٹل گیا تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT