Monday , September 25 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان نے ٹیمیں روانہ نہیں کئے، حکومت ہند سے تحریری یقین دہانی کا انتظار

پاکستان نے ٹیمیں روانہ نہیں کئے، حکومت ہند سے تحریری یقین دہانی کا انتظار

لاہور ، 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ورلڈ ٹی 20 مقابلوں میں پاکستان اور ہندوستان کا میچ دھرمشالا سے کولکاتا منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے واضح کیا ہے کہ میچ کی کولکاتا منتقلی کے باوجود پاکستانی مرد اور خواتین ٹیمیں اسی صورت میں ہندوستان جائیں گی جب ہندوستانی حکومت کی طرف سے سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکیٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے مقام کی تبدیلی کا اعلان چہارشنبہ کی شام نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میچ اب 19 مارچ کو کولکاتا کے ایڈن گارڈن سٹیڈیم میں ہوگا جو کہ بہترین دستیاب متبادل ہے۔ ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہ مقام تبدیل کرنے کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست کے علاوہ دیگر وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس فیصلے سے پاکستانی کرکٹ بورڈ کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔ آئی سی سی کی پریس کانفرنس کے بعد لاہور میں صحافیوں سے بات چیت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیموں کی روانگی کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق شہریار خان نے بتایا کہ چہارشنبہ کی صبح بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر نے انھیں فون پر مطلع کر دیا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے میچ کا دھرمشالا میں انعقاد مناسب نہیں ہے

کیونکہ وہاں کی مقامی حکومت نے گذشتہ رات ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اس میچ میں سکیورٹی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتی۔ شہریار خان نے کہا کہ وہ آئی سی سی کی جانب سے اس میچ کی کولکاتا منتقلی کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے ششانک منوہر اور ڈیورچرڈسن کو یہ بھی لکھا ہے کہ ہندوستان میں متعدد سیاسی جماعتیں اور گروپس پاکستانی ٹیم کی ہندوستان آمد کے خلاف ہیں اوران کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دھمکیاں خصوصاً دھرمشالا سے متعلق تھیں اور کچھ میں یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو ہندوستان میں کہیں بھی نہیں کھیلنے دیا جائے گا اور اس کے میچوں کو متاثر کیا جائے گا۔ شہریارخان نے کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستانی ٹیموں کو اس وقت تک ہندوستان روانہ نہ کیا جائے جب تک ہندوستانی حکومت کی طرف سے سکیورٹی کی ضمانت نہ مل جائے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے اس بارے میں جلد جواب مل جائے گا۔ اس سے قبل پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے بھی کہا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کو ہندوستانی حکومت کی جانب سے تحفظ کی تحریری یقین دہانی تک ورلڈ ٹی 20 مقابلوں میں شرکت کیلئے ہندوستان جانے سے روک دیا گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ ٹیم کو ہندوستانی حکومت کی یقین دہانی تک ہندوستان نہ بھیجنے کے فیصلے سے ہندوستانی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ میچ دھرمشالا میں ہو یا کولکاتا میں مسئلہ مقام کا نہیں ٹیم کی سکیورٹی کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے دھرمشالا میں ہندوستان کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کیا تھا۔ پاکستانی وزیر اعظم کی ہدایت پر دھرمشالا میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ایک ٹیم ہندوستان بھیجی گئی تھی جس کی ابتدائی رپورٹ چہارشنبہ کو وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں پیش کی۔ اس سکیورٹی ٹیم نے ریاست ہماچل پردیش میں پاکستانی ٹیم کے خلاف شدید ردعمل کے خدشات کی وجہ سے دھرمشالا میں میچ کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے تھے۔ دھرمشالا کے وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم کے خلاف دھرمشالا میں سابق فوجیوں کی طرف سے ردعمل ہوا تو وہ اسے روک نہیں سکتے۔ یہ ردعمل پٹھان کوٹ کے واقعے کے بعد پیدا ہوا ہے کیونکہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کا تعلق دھرمشالا سے تھا۔

TOPPOPULARRECENT