Monday , October 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان کا بگ تھری کے خلاف بغاوت پر غور

پاکستان کا بگ تھری کے خلاف بغاوت پر غور

دبئی۔26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) موجودہ صورتحال سے دلبرداشتہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کرکٹ کے سخت فیصلوں کا اشارہ دیا ہے۔ اپنے ایک انٹر ویو میں شہریار خان نے انتباہ دیا کہ اگر ہندوستان نے دسمبر میں پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے سے انکار کیا تو بگ تھری معاہدے سے بغاوت ہوسکتی ہے۔ پی سی بی سربراہ نے کہا کہ ہندوستان سے کہہ دیا ہے تحریری معاہدے کی پاسداری کرے۔شہریارخان نے یاد دلایا کہ پاکستان نے آئی سی سی کے معاملات ہندوستان ، انگلینڈ اور آسٹریلیا ذمہ دینے کے بگ تھری معاہدے پر دستخط اس شرط پر کئے تھے کہ 8 برسوں  میں چھ پاک ۔ ہندوستان  سیریز منعقد ہوں گی۔تاہم بی سی سی  آئی  نے دسمبر میں دو ٹسٹ، پانچ ونڈے اور دو ٹوئنٹی 20  میچوں پر مشتمل سیریز کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔شہریار نیکہا کہ پی سی بی میں سوچ پائی جاتی ہے کہ ہندوستان نے محض بگ تھری کی مخالفت ختم کروانے کیلئے 6  سیریز کھیلنے کا دھوکہ دیا۔ اب اگر ہندوستان نہیں کھیلتا تو ہمیں مسائل ہوں گے۔ یہ صرف دستخط شدہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی بلکہ اس معاہدہ کے بھی خلاف ہوگا جس کے تحت ہم نے نئے دستور پر دستخط کئے۔ پی سی بی سربراہ نے کہا پاکستان واحد ملک نہیں جسے اس طرح کے رویہ کا سامنا ہے۔ میں جانتاہوں ہمارے علاوہ دیگر ممالک بھی آئی سی سی کے امتیازی برتاو سے ناراض ہیں۔ یہ غیر مساویانہ اور غیرجمہوری رویہ ہے۔اگرایک سال کے اندر ہر ملک کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کیا جاتا تو میرے خیال میں پاکستان کو ان تمام معاملات پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ دیگر ممالک بھی ایسا ہی سوچ رہے ہیں، کچھ بھی ممکن ہے۔ واضح رہے کہ شہریارخان کے بیان سے آئی سی سی پر دباو بڑھ سکتا ہے کیونکہ شہریار خان نے ٹوئنٹی 20ورلڈ کپ سے دستبردار ہو نے کا اشارہ  بھی دے دیا ہے۔قواعد کے مطابق اگر کسی رکن ملک کی حکومت اپنی ٹیم کو آئی سی سی ایونٹ میں شرکت سے روکے تو ا س ٹیم یا بورڈ پر کوئی جرمانہ نہیں کیاجا سکتا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کا خیال ہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کرکٹ سیریز نہ ہوئی تو حکومت پاکستانی ٹیم کو ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے ہندوستان جانے سے روک سکتی ہے۔شہریار خان نے کہا بی سی سی آئی سے کہہ دیا ہے اس ماہ کے آخر تک حتمی جواب دے دیا جائے۔ انہوں نے کہا جب ہم یہ دیکھ لیں گے کہ ہند۔پاک سیریز نہیں ہوسکتی تو پھر اپنی حکومت سے رجوع کر ینگے۔شہریارخان نے کہا انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستانی حکومت ان سے یہی کہے گی کہ آپ ورلڈکپ میں شرکت کے لئے ہندوستان نہ جائیں۔

TOPPOPULARRECENT