Wednesday , June 28 2017
Home / مضامین / پاکستان کا رویہ کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

پاکستان کا رویہ کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

غضنفر علی خاں
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے ہندوستانی باشندے کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دی ہے ۔ یہ باشندہ کلبھوشن جادھو نام کا ہے ۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اس کی سرگرمیاں قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہی تھیں۔ جادہو کو پاکستان نے ایران میں گرفتار کیا تھا اور اس واقعہ کو بھی ایک سال ہوگیا ۔ جادھو کو سال بھر پاکستان میں کہاں رکھا گیا ، کونسی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور کیا اس کو اپنی قانونی مدافعت کرنے کا بنیادی  حق بھی دیا گیا تھا یا نہیں ۔ کسی بھی بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی شخص اس وقت تک مجرم نہیں ہوتا جب تک اس کا چرم ثابت نہ ہوتا اور ثابت ہونے کے بعد بھی اس کو جرم کے مطابق سزا دی جاتی ہے ۔ ان بنیادی اصولوں کو پاکستانی حکومت نے کس حد تک ملحوظ رکھا ؟ کس قانون کے تحت جادھو کے خلاف پاکستانی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ۔ ایک سال تک کیوں اس مقدمہ کو راز میں رکھا گیا ؟ کبھی ہندوستانی حکومت کو خبر بھی نہیں کی گئی کہ پاکستان کی فوجی عدالت میں ایک ہندوستانی کے خلاف اتنا سنگین مقدمہ چل رہا ہے کہ اس میں ملزم کو پھانسی کی سزا (سزائے موت) بھی دی جاسکتی ہے ۔ حالانکہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے کئی مرتبہ وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقاتیں ہوتی رہیں لیکن کبھی نواز شریف نے اشارتاً بھی نہیں کہا کہ کلبھوشن جادھو کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے ۔ اچانک گزشتہ ہفتہ پاکستانی میڈیا نے خبر دی کہ انہیں (جادہو) کو سزائے موت سنائی گئی ہے ۔  آخر پاکستان کو اتنی عجلت کیوں ہے ، وہ کسی سچائی کی پردہ داری کر رہا ہے ۔ بین الاقوامی تعلقات میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ کسی دوسرے ملک کے قیدی کو اپنی مدافعت کا پورا موقع دیا جاتا ہے ۔ اگر سرسری طور پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلا تو اس کو دنیا تسلیم نہیں کرے گی ۔ پاکستان کے حکام عدلیہ پر حرف آئے گا بلکہ رسوائی ہوگی لیکن پاکستان کو اس کی کیا پرواہ ۔ اس نے نہ کبھی بین الاقوامی قانون کی حرمت رکھی اور نہ اس کو اپنی بدنامی کا خوف ہے۔ پاکستان تو ’’بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘ کے اصول پر کام کرتا ہے ۔ وہ ممالک ڈرتے ہیں جس کی نیک نامی ہوتی ہے ۔ اس واقعہ نے ہندوستان کی تمام جماعتوں کو پھر اس طرح متحد کردیا ہے جس طرح سرجیکل اسٹرائیک کے وقت ہوا تھا ۔ پاکستان سے ہمارے تعلقات کبھی نااصل نہیں رہے پر کچھ دن بعد باہمی تعلقات کسی نہ کسی پاکستانی حرکت کی وجہ سے بگڑجاتے ہیں ۔ ایک مسلسل وجہ تو یہ ہیکہ علاقہ کشمیر میں پاکستان کے درانداز گھس کر خون خرابہ کرتے ہیں ، یہ اب ایک مستقل وجہ ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی نہ کوئی چھیڑ خانی پاکستان کرتے رہتا ہے۔ ہمارے قومی چیانل پر جب کبھی ہند۔پاک کا کوئی مسئلہ زیر بحث آتا ہے تو پاکستان کے نمائندے بڑی دھٹائی سے ہر الزام کی تردید کردیتے ہیں۔ کلبھوشن جادھو کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے ۔ نہ تو پاکستان یہ بتانے کے موقف میں ہے ۔ کیوں پاکستان کی سیول عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا گیا ۔ فوجی عدالت کو کیوں ترجیح دی گئی ۔ اب ہندوستان کیلئے ایک متبادل یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ رجوع کرے۔ پاکستان کیخلاف انسانی حقوق کی پامالی کا کیس کرے ۔ دنیا کے سامنے پاکستان کا اصلی چہرہ پیش کرے ، آج کی اس دنیا میں برصغیر میں ایک ایسا بھی ملک ہے جہاں کسی انسان کو قانونی حق سے محروم کر کے اس کو سزائے موت دی جاسکتی ہے ۔ اس بات کا بھی کوئی ثبوت پاکستان سے نہیں دیا کہ جادھو جاسوس ہے ۔ ابھی تک تو ہندوستان کا یہ تاثر درست پایا جاتا ہے کہ جاسوسی کا الزام بے بنیاد ہے ۔ اگر پا کستان یہ کہے کہ ہندوستان میں پاکستانی شہری اجمل قصاب کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی ، تب پاکستان نے آواز تک نہ یں اٹھائی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ قصاب کے خلاف برسوں مقدمہ کی سیول عدالت میں سنوائی ہوئی اس کو اپنا وکیل رکھنے کی اجازت بھی دی گئی تھی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان نے قصاب کو اپنا باشندہ تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا تھا ۔ ممبئی حملہ میں 256 معصوم افراد کا قتل ہوا تھا ۔ یہ بھی ہندوستان نے ثابت کردیا تھا کہ پاکستان کے شرپسند عناصر ممبئی حملہ میں حصہ لینے والوں کی ہر طرح سے مدد کر رہے تھے ۔ خود قصاب نے اپنے اقبالی بیان میں یہ تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کے گروپ (جنگجو) جیش محمد  نے ان تمام کو ترغیب دی تھی کہ وہ حملہ کریں اور ہندوستان کو نقصان پہنچائے کیا پاکستان ایسا کوئی ثبوت پیش کرسکتا ہے کہ کلبھوشن جادھو نے پاکستان کے خلاف جاسوسی کرنے کا اعتراف کیا ہے ۔ ہندوستان نے اجمل قصاب کے معاملہ میں پوری شفافیت سے کام لیا تھا ۔ ہندوستان کے علاوہ امریکہ نے بھی ممبئی حملہ کے مجرمین کو ملوث تسلیم کیا تھا ۔ اب پاکستان محض شرارتاً یہ کہے کہ اس نے ہندوستان کی کارروائی کے جواب میں جادھو کو سزائے موت دی ہے تو اس کا استدلال گمراہ کن ہوگا ۔ واقعات الگ نوعیت کے ہیں جس کا ایک دوسرے سے تقابل نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان کے اپنے Kangaroo Courts بین ا لاقوامی سفارتی آداب کی نفی نہیں کرسکتے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ہمارے ملک کے ساتھ دوستی نہیں عداوت کا رشتہ رکھنا چاہتا ہے ۔ حالانکہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اس بات کے متقاضی ہیں دونوں کے مابین دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ اس کی ہر وقت ہندوستان نے کوشش کی ہے ۔ ہر مرتبہ پاکستان نے ہم کو مایوس کیا بلکہ کوشش کی ہے کہ تعلقات کبھی معمول پر نہ آئیں۔ عدالت کا ماحول برقرار رہے پاکستان سے دوستی اور بہتر تعلقات کسی یکطرفہ اقدام سے معمول پرنہیں آسکتے ، اس کے لئے دو طرفہ Bilaterel کی کوشش ہونی چاہئے جو متعدد تجربات کے باوجود کبھی ممکن نہ ہوسکی۔ کلبھوشن جادھو کی سزائے موت نے پھر ایک بار پڑوسی ملک سے ہمارے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کردیا ہے ۔ ساری پارلیمنٹ ایک آواز ہوکر پاکستان کے رویہ کی مخالفت کر رہی ہے ۔ آج کے ماحول میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں قومی مفادات کا سوال پیدا ہوتا ہے ۔ وہاں ہماری سیاسی پارٹیاں بالکل متحد ہوجاتی ہیں ، اس وقت بھی ہماری پارلیمنٹ میں ایسے ہی مناظر دیکھے گئے ۔ پاکستان کے حالات یہ ہیں کہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان فوجی عدالت میں ہوئی کارروائی اور جادھو کو سزائے موت دینے کے فیصلہ سے خود وزیراعظم نواز شریف بھی واقف نہیں تھے ۔ ان کے لئے بھی یہ خبر حیرت انگیز رہی ۔پاکستان کے رویہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہند۔پاک تعلقات میں صرف ایک ہی جذبہ کو غالب رکھنا چاہتا ہے اور وہ ہے عدالت کا جذبہ پاکستان کیلئے اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔
قطع کیجئے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT