Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / پاکستان کشمیر میں سیول مزاحمت کو فروغ دے رہا ہے

پاکستان کشمیر میں سیول مزاحمت کو فروغ دے رہا ہے

تشدد کے واقعات اور سکیوریٹی فورسیس کی اموات میں اضافہ ۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ
نئی دہلی 13 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کو مسلط کرنے کی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی پیدا کی ہے اور وہ اب نوجوانوں میں باغیانہ تیور کو ابھارتے ہوئے سیول مزاحمت کو فروغ دے رہا ہے ۔ وزارت داخلہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ بات بتائی ۔ سال 2016-17 کیلئے یہ رپورٹ کل جاری کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں تخریب کاری در اصل دہشت گردوں کی سرحد پار سے در اندازی کی وجہ سے ہے ۔ یہ دہشت گرد بین الاقوامی سرحد اور لائین آف کنٹرول دونوں مقامات سے در اندازی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2016 کے دوران پاکستان کی حکمت عملی میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اب عسکریت پسندی کو پوری شدت کے ساتھ مسلط کرنے کیلئے عوام میں سیول مزاحمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور مفادات حاصلہ کے گروپس اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ یہاں باغیانہ تیور کو ابھارا جا رہا ہے ۔ رپورٹ میں تاہم کہا گیا ہے کہ سال 2015 کی بہ نسبت سال 2016 میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی آئی ہے ۔ رپورٹ کے بموجب سال 2016 میں گذشتہ سال کی بہ نسبت دہشت گردی کے واقعات میں 54.81 فیصد اور سکیوریٹی فورسیس کے جانی نقصانات میں 110.25 فیصد کی کمی آئی ہے ۔ تاہم عام شہریوں کے جانی نقصانات میں سال 2016 کے دوران 11.76 فیصد کی کمی آئی ہے ۔ سال 2016 کے دوران سابق کی بہ نسبت 38.89 فیصد دہشت گردوں کو ناکارہ بنادیا گیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ اس سال کے دوران جموں و کشمیر میں تشدد کے 322 واقعات پیش آئے تھے جن میں 82 سکیوریٹی اہلکار ‘ 150 دہشت گرد اور 15 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ سال 2015 کے دوران ایسے 208 واقعات پیش آئے تھے جن میں 39 سکیوریٹی اہلکار ‘ 108 دہشت گرد اور 17 شہری ہلاک ہوگئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT